Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنی خلافت کے ایام میں امن و امان کے استحکام پر حریص ہونا

  علی محمد الصلابی

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی داخلی سیاست کا اہم ترین اصول عالم اسلامی کے گوشے گوشے میں امن و امان کی صورت حال کو مستحکم کرنا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے متعدد وسائل اختیار کیے جن کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے:

1۔ پہرے دار: ظہورِ اسلام کے بعد سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے سب سے پہلے ذاتی پہرے دار مقرر کیے جس سے مقصود زیادتی کی کوششوں سے بچنا تھا۔

(ادارۃ بلاد الشام: صفحہ 102)

اس تاریخی دور میں ان کے بعض شاہانہ مظاہر بھی اس کا جواز فراہم کرتے تھے۔ اس بارے میں ابن خلدونؒ فرماتے ہیں: ریاست میں پہرے داری اور لوگوں سے پردے میں رہنے کی رسم کا آغاز ہوا، اس لیے کہ خلفاء کو خوارج و غیرہم کے اچانک حملوں کا خوف لاحق رہتا تھا۔ جیسا کہ عمر، علی، معاویہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم وغیرہم کے ساتھ ہوا، لہٰذا انہوں نے اپنی حفاظت کے لیے کچھ لوگوں کا تقرر کیا اور انہیں حاجب کے نام سے موسوم کیا۔

(تاریخ ابن خلدون: جلد 2 صفحہ 149، 150)

پھر اسی مقصد کے تحت مقصورات بنانے، رات کے وقت حفاظتی ذمہ داریاں دینے والے چوکیدار بھرتی کرنے اور ایسی پولیس قائم کرنے کا حکم دیا جو نماز پڑھتے وقت ان کے پاس موجود رہے۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 65)

مزید برآں چونکہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور بنو امیہ کے لوگ اپنے رومی دشمنوں سے قریب شام میں رہتے تھے، دوسری طرف ملک کے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے روافض اور خوارج بھی ان کے دشمن تھے، لہٰذا جس دولت اسلامیہ کے تین خلفاء کو ان جیسے لوگوں کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھونے پڑے اس میں امن و امان کی صورت حال کو قائم رکھنے کے لیے اس قسم کے حفاظتی انتظامات کی اشد ضرورت تھی۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 271)

مؤرخین نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حاجب کی ذمہ داریاں ادا کرنے والے ان لوگوں کے نام گنوائے ہیں: سعد، ابو ایوب اور صفوان۔

(ادارۃ بلاد الشام فی العہدین: صفحہ 103 البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 465)

حاجب کی تقرری کے لیے شرط یہ تھی کہ وہ لوگوں کے سماجی مقام و مرتبہ، ان کے خاندان اور طبقات سے بخوبی آگاہ ہو، تاکہ اسے معلوم ہو کہ اس نے کس آدمی کو ان سے ملاقات کی اجازت دینا ہے اور کسے نہیں، اس بات کی تائید بہت ساری روایات سے ہوتی ہے۔ جب شریک حارثی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے اس سے پوچھا: تو کون ہے؟ اس پر شریک کہنے لگا: امیر المؤمنین! میں نے آج سے پہلے آپ کو ایسا کرتے نہیں دیکھا، کیا آپ جیسا آدمی اپنی رعیت میں مجھ جیسے آدمی کے لیے اجنبیت کا اظہار کر سکتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیری پہچان متفرق ہے۔ میں چہروں میں تیرے چہرے اور ناموں میں تیرے نام کو پہچانتا ہوں لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ کیا اس چہرے کا وہی نام ہے جو مجھے بتایا گیا ہے۔

(عیون الاخبار: جلد 1 صفحہ 90)

جب کوئی شخص خلیفہ سے ملاقات کے لیے آتا تو حاجب خلیفہ کو اس کی آمد سے مطلع کرتا پھر خلیفہ خود فیصلہ کرتا کہ اسے ملاقات کی اجازت دینا ہے یا نہیں۔ ایک دن احنف بن قیسؓ اور محمد بن اشعثؓ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لیے دروازے پر کھڑے تھے کہ سیدنا معاویہؓ نے پہلے احنفؓ کو اور پھر محمد بن اشعثؓ کو ملاقات کی اجازت دی۔ مگر ابن الاشعثؓ تیز تیز چلتے ہوئے احنف سے آگے نکل گیا اور اس سے پہلے اندر داخل ہو گیا، جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ صورت حال دیکھی تو پریشان سے ہو گئے، پھر احنفؓ کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: و اللہ! میں نے اسے تم سے پہلے ملاقات کی اجازت نہیں دی تھی، ہم تمہارے آداب کی پوری پوری رعایت رکھتے ہیں، یوں تیز چل کر آگے بڑھنے والا اپنے اندر موجود کسی نقص کی وجہ سے ایسا کرتا ہے۔

(العقد الفرید: جلد 1 صفحہ 68، ادارۃ بلاد الشام: صفحہ 108)

2۔ حراست: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے دولتِ اسلامیہ میں حراست و حفاظت کا بندوبست کیا اور ایسا خوارج کے خوف کی وجہ سے کیا گیا جو ان کے قتل کے درپے تھے، چنانچہ انہوں نے جامع مساجد میں مقصورات بنانے کا حکم دیا جن میں ان کے قابل اعتماد اور ان کے محافظ دستے کے لوگ ہی داخل ہو سکتے تھے۔

(ادارۃ بلاد الشام: صفحہ 111)

مقصورات کے قیام کا مقصد ان کے حفاظتی انتظامات کو مزید سخت بنانا تھا۔

(ایضاً)

بعض تاریخی کتب میں عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں حفاظتی دستے کے سربراہوں کے نام بھی ذکر کیے گئے ہیں، اور وہ ہیں: مختار (البدایۃ و النہایۃ: جلد 11، صفحہ 465)

بوالمخارق (ادارۃ بلاد الشام: صفحہ 117۔ العقد الفرید: جلد 4 صفحہ 36)

اور یزید بن حارث عبسی۔(ایضاً، صفحہ 115)

3۔ پولیس: اس کا مقصد اندرونِ ملک امن و امان قائم رکھنا، چوروں، جرائم پیشہ لوگوں اور فسادیوں کو گرفتار کرنا اور خلیفہ کا دفاع کرنا تھا، پولیس کسی بھی بیرونی حملے کو روکنے کی ذمہ دار نہیں تھی۔

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پولیس کا ادارہ شام میں منظم کیا اور پھر اسے مزید ترقی بھی دی۔ مؤرخین نے اس ادارے کے سربراہوں کے مندرجہ ذیل چار نام گنوائے ہیں: قیس بن ہمزہ ہمذانی، زمل بن عمرو عذری، ضحاک بن قیس فہری اور یزید بن حر عنسی۔

(ادارۃ بلاد الشام فی العہدین: صفحہ 117)

پولیس کا دائرہ کار صرف دارالخلافہ تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ اسے دوسری اسلامی ولایات میں بھی متعین کیا گیا تھا، صوبوں میں پولیس مقامی گورنروں کے ماتحت ہوتی تھی، پولیس اہل کاروں کے انتخاب اور تعین کے اختیارات بھی انہی کے پاس تھے۔ پولیس کا وجود حکومت اور معاشرہ دونوں کے لیے بڑی اہمیت کا حامل تھا، حکومت سرکش لوگوں، شورشوں اور بے امنی کے ماحول کو ختم کرنے کے لیے پولیس پر ہی اعتماد کرتی اور اس کی ہی خدمات سے فائدہ اٹھایا کرتی تھی، پولیس معاشرے کے لیے بھی بڑی اہمیت رکھتی تھی اس لیے کہ امن و استقرار کا قیام اس کی اولین ذمہ داری تھی اور لوگوں کے مال جان اور ان کے دیگر حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ساری ذمہ داریاں اسی پر عائد ہوتی تھیں۔ اموی خلفاء پولیس کے سربراہوں کو بلاد شام کے داخل و خارج میں مختلف اعمال کی انجام دہی کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا کرتے تھے۔ مثلاً سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ضحاک بن قیسؓ کو اس امر کے لیے پابند کیا تھا کہ وہ یزید کے لیے ان کی وصیت لوگوں تک پہنچائیں اور اس کے لیے بیعت لیں۔

( ایضاً: صفحہ 123)

4۔ اعوان و انصار اور رجال کا اچھا انتخاب: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ارباب دانش و بینش اور بارعب لوگوں میں قابل اعتماد اور انتظامی تجربہ رکھنے والے رجال کار کے انتخاب کی صلاحیتوں سے نوازا گیا تھا، ان میں سے چند نام بطور مثال مندرجہ ذیل ہیں: عمرو بن العاص سہمی، مغیرہ بن شعبہ ثقفی، یزید بن حر عبسی، ضحاک بن قیس فہری، عبداللہ بن عامر بن کریز رضہ اللہ عنھم اور اہم جنگی قائدین میں سے مہلب بن ابو صفرہ، عقبہ بن نافع فہری، مالک بن ہبیرہ اور جنادہ بن امیہ ازدی جیسے لوگ، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: میں اچانک پیش آمدہ امور کے لیے، معاویہ رضی اللہ عنہ بردباری اور حوصلہ کے لیے، مغیرہ پیچیدہ امور کے لیے اور زیاد چھوٹے بڑے امور کے لیے ہیں۔

(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 131 حاشیہ 1 ۴/۱/۱۳۱.)

مذکورہ صدر لوگوں نے اسلامی فتوحات، دولت اسلامیہ کے انتظامی امور اور اس کے دشمنوں کے تعاقب کے حوالے سے گرانقدر خدمات سرانجام دیں، ان لوگوں نے ملک میں امن و امان کے قیام و استحکام اور اموی خلافت کی پائیداری میں بڑا اہم اور ممتاز کردار ادا کیا تھا۔

(الجذور التاریخیۃ للاسرۃ الامویۃ: صفحہ 101)

5۔ لوگوں کے دل جیتنے اور اعوان و انصار کی وفاداریوں کو یقینی بنانے کے لیے مال و زر کا استعمال: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار عرب کے بڑے سخی لوگوں میں ہوتا ہے، وہ مال و زر اور عطیات کے ذریعے لوگوں کے دل جیتنے میں یدِطولیٰ رکھتے تھے، خاطر و مدارات میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں تھا، اگر انہیں کسی آدمی کی طرف سے کوئی غیر پسندیدہ خبر ملتی تو مال کے ساتھ اسے خاموش کروا دیتے (اس کی ضرورت پوری کر دیتے) 

(ایضاً: صفحہ 102)

6۔ حالات و ظروف کے مطابق بیک وقت سختی اور نرمی پر مبنی سیاست: اموی خلافت کو استحکام حاصل ہو جانے کے بعد سیاست کا یہ انداز واضح شکل میں سامنے آیا۔ اس بارے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد بن آبیہؒ کو لکھا: ہم دونوں کے لیے ایک ہی انداز میں سیاست کرنا موزوں نہیں ہے۔ اگر ہم دونوں سختی کریں گے تو لوگوں کو تباہی سے دوچار کر دیں گے اور اگر دونوں نرمی کا مظاہرہ کریں گے تو وہ اترانے لگیں گے، ہونا یوں چاہیے کہ جب تو نرمی کرے تو میں سختی کروں، اور اگر میں سختی کروں تو تو نرمی کرے۔

(انساب الاشراف: جلد 4 حاشیہ 1 صفحہ 84 ۴/۱/۸۴)

اس قسم کی سیاست کے بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف یہ اقوال منسوب ہیں: میں اس جگہ کوڑا نہیں رکھتا جس جگہ میری زبان کام دے جائے اور اس جگہ تلوار نہیں رکھتا جس جگہ میرا کوڑا کام دے جائے اور جس جگہ تلوار سے کام لینا ضروری ہو وہاں اس کا استعمال ضرور کرتا ہوں۔

(الجذور التاریخیۃ للاسرۃ الامویۃ: صفحہ 101)

ان کا مشہور قول ہے: اگر میرے اور لوگوں کے درمیان بال برابر بھی رشتہ باقی رہ جائے تو وہ ٹوٹ نہیں پائے گا۔ اگر وہ اسے کھینچیں گے تو میں ڈھیلا کر دوں گا اور اگر وہ اسے ڈھیلا چھوڑ دیں گے تو میں اسے کھینچ لوں گا۔

(انساب الاشراف: جلد 4 حاشیہ 1 صفحہ 21 )۴/۱/۲۱

7۔ باہم مفادات پر مبنی سیاست اپنانا: خلافت راشدہ جیسی سیاست اپنانا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے ممکن نہیں تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دولت اسلامیہ میں وسعت آ جانے کے بعد مال و دولت کی کثرت نے بہت سارے مسلمانوں کو اس مقام پر لا کھڑا کیا کہ وہ اپنے جی میں دنیوی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کی خواہش پالنے لگے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کا اظہار کرتے ہوئے واضح طور سے فرمایا: میں نے ایسا طریقہ اپنایا ہے جس میں میرا بھی فائدہ ہے اور تمہارا بھی۔ جب تک سیرت درست رہے گی اور اطاعت اچھی رہے گی ہر ایک کو اچھی اشیاء خورد و نوش میسر آتی رہیں گی۔ اگر میں تم سے اچھا نہیں ہوں تو تمہارے لیے اچھا ضرور ہوں۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 148)

8۔ اپنی ذات اور اپنی خلافت کی تعریف و توصیف پر مبنی تشہیر اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی اطلاعاتی سیاست اپنانا: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: لوگوں کے دلوں میں میری سب سے زیادہ محبت پیدا کرنے والا مجھے سب سے زیادہ پیارا لگتا ہے۔ 

(الجذور التاریخیۃ: صفحہ 102)

ان کی اس سیاست کو ان کے بعد اموی خلفاء نے بھی اپنائے رکھا۔ انہوں نے دسیوں شعراء کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ان کے لیے تجوریوں کے منہ کھول دئیے جس کے صلے میں انہوں نے ان کی تشہیر کرنے، خلافت پر ان کا حق ثابت کرنے اور ان کی اطاعت و نصرت کے وجوب کے اثبات کے لیے اپنی تمام تر شاعرانہ صلاحیتیں وقف کر ڈالیں۔

(ایضاً: صفحہ 102، تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 255) 

اسی پس منظر میں مشہور اموی شاعر اخطل کہتا ہے:

تمت جدودہم و اللّٰه فضلہم و جدّ قوم سواہم خامل نکد

و انتم اہل بیت لا یوازنہم بیت اذا عُدّت الاحساب و العدد

(التطور و التجدید فی الشعر الاموی، شوقی ضیف: صفحہ 134)

’’ان کے نصیب پورے ہیں اور اللہ نے انہیں فضیلت عطا فرمائی ہے جبکہ ان کے علاوہ دوسروں کے نصیب بے وقعت و گم نام ہیں، تم وہ گھر والے ہو کہ جب عز و شرف اور تعداد کو شمار کیا جائے تو کوئی بھی گھر اس کا ہم پلہ نہیں ہے۔‘‘

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اعلام و اطلاع کے اس فن کو بڑی اہمیت دی اور اسے بھرپور انداز میں استعمال کرنے کے لیے اسے اپنے حامی چند لوگوں کے سپرد کر دیا۔ آپ شعراء اور مختلف قبائل کے شیوخ کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے انہیں عطیات سے نوازتے۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ماتحت امراء اور والیوں کو سیاسی، اعلامی اور مقاصد امن کے حصول کے لیے وسیع اختیارات دے رکھے تھے والی بصرہ زیاد نے بصرہ کے تقریباً پانچ صد سرکردہ لوگوں کی وفاداریاں حاصل کر رکھی تھیں جنہیں وہ تین سو سے لے کر پانچ سو درہم تک ادا کیا کرتا تھا۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 139)

اس کے بارے میں حارثہ بن بدر غدانی کہتا ہے:

ألا من مبلغ عنی زیادا فنعم اخو الخلیفۃ و الامیر

فانت إمام معدلۃ و قصد و حزم حین تحضرک الامور

اخوک خلیفۃ اللّٰه بن حرب و أنت وزیرہ نعم الوزیر

(ایضاً: جلد 6 صفحہ 139)

’’میری طرف سے زیاد کو یہ پیغام کون پہنچائے گا کہ تو خلیفہ کا بہت اچھا بھائی اور امیر ہے

تو عدل و اعتدال اور حزم و دانائی والا امیر ہے جب تجھے امور کا سامنا کرنا پڑے

تیرا بھائی ابن حرب اللہ کا خلیفہ ہے اور تو اس کا بڑا اچھا وزیر ہے۔‘‘

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے حلم و حوصلہ اور عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے شعراء کی ناراضی ختم کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے، انہیں عزت دیتے، ان کے ساتھ محبت کا اظہار کرتے اور ان کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی روا نہ رکھتے اور اسی طرح وہ انہیں اپنی صف میں شامل کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔ یاد رہے کہ اس وقت شعراء کی اہمیت عصر حاضر کے ذرائع ابلاغ سے کم نہ تھی۔

9۔ اطلاعاتی مشینری: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں داخلی اور خارجی امن و امان قائم رکھنے کی مشینری بڑی فعال تھی۔ معلومات اکٹھی کرنے کی جس کی صلاحیت ایک مسلمہ امر تھی۔سیدنا  معاویہ رضی اللہ عنہ اس اطلاعاتی مشینری کی بذاتِ خود نگرانی کرتے، انہوں نے حکمرانوں اور رعیت کی نگرانی کے لیے ایک مربوط اور خفیہ نظام وضع کر رکھا تھا۔ ہر علاقہ کے ہر عامل اور امیر لشکر پر ایک جاسوس کو متعین کیا جاتا جو انہیں اس کی حرکات و سکنات سے آگاہ کرتا رہتا، خفیہ سراغ رسانی کا یہ نظام اندرون ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی سرگرم عمل تھا، مثلاً۔