سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنی خلافت کے ایام میں…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنی خلافت کے ایام میں امن و امان کے استحکام پر حریص ہونا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

پولیس کا دائرہ کار صرف دارالخلافہ تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ اسے دوسری اسلامی ولایات میں بھی متعین کیا گیا تھا، صوبوں میں پولیس مقامی گورنروں کے ماتحت ہوتی تھی، پولیس اہل کاروں کے انتخاب اور تعین کے اختیارات بھی انہی کے پاس تھے۔ پولیس کا وجود حکومت اور معاشرہ دونوں کے لیے بڑی اہمیت کا حامل تھا، حکومت سرکش لوگوں، شورشوں اور بے امنی کے ماحول کو ختم کرنے کے لیے پولیس پر ہی اعتماد کرتی اور اس کی ہی خدمات سے فائدہ اٹھایا کرتی تھی، پولیس معاشرے کے لیے بھی بڑی اہمیت رکھتی تھی اس لیے کہ امن و استقرار کا قیام اس کی اولین ذمہ داری تھی اور لوگوں کے مال جان اور ان کے دیگر حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ساری ذمہ داریاں اسی پر عائد ہوتی تھیں۔ اموی خلفاء پولیس کے سربراہوں کو بلاد شام کے داخل و خارج میں مختلف اعمال کی انجام دہی کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا کرتے تھے۔ مثلاً سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ضحاک بن قیسؓ کو اس امر کے لیے پابند کیا تھا کہ وہ یزید کے لیے ان کی وصیت لوگوں تک پہنچائیں اور اس کے لیے بیعت لیں۔

( ایضاً: صفحہ 123)

4۔ اعوان و انصار اور رجال کا اچھا انتخاب: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ارباب دانش و بینش اور بارعب لوگوں میں قابل اعتماد اور انتظامی تجربہ رکھنے والے رجال کار کے انتخاب کی صلاحیتوں سے نوازا گیا تھا، ان میں سے چند نام بطور مثال مندرجہ ذیل ہیں: عمرو بن العاص سہمی، مغیرہ بن شعبہ ثقفی، یزید بن حر عبسی، ضحاک بن قیس فہری، عبداللہ بن عامر بن کریز رضہ اللہ عنھم اور اہم جنگی قائدین میں سے مہلب بن ابو صفرہ، عقبہ بن نافع فہری، مالک بن ہبیرہ اور جنادہ بن امیہ ازدی جیسے لوگ، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: میں اچانک پیش آمدہ امور کے لیے، معاویہ رضی اللہ عنہ بردباری اور حوصلہ کے لیے، مغیرہ پیچیدہ امور کے لیے اور زیاد چھوٹے بڑے امور کے لیے ہیں۔

(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 131 حاشیہ 1 ۴/۱/۱۳۱.)

مذکورہ صدر لوگوں نے اسلامی فتوحات، دولت اسلامیہ کے انتظامی امور اور اس کے دشمنوں کے تعاقب کے حوالے سے گرانقدر خدمات سرانجام دیں، ان لوگوں نے ملک میں امن و امان کے قیام و استحکام اور اموی خلافت کی پائیداری میں بڑا اہم اور ممتاز کردار ادا کیا تھا۔

(الجذور التاریخیۃ للاسرۃ الامویۃ: صفحہ 101)

5۔ لوگوں کے دل جیتنے اور اعوان و انصار کی وفاداریوں کو یقینی بنانے کے لیے مال و زر کا استعمال: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار عرب کے بڑے سخی لوگوں میں ہوتا ہے، وہ مال و زر اور عطیات کے ذریعے لوگوں کے دل جیتنے میں یدِطولیٰ رکھتے تھے، خاطر و مدارات میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں تھا، اگر انہیں کسی آدمی کی طرف سے کوئی غیر پسندیدہ خبر ملتی تو مال کے ساتھ اسے خاموش کروا دیتے (اس کی ضرورت پوری کر دیتے) 

(ایضاً: صفحہ 102)

6۔ حالات و ظروف کے مطابق بیک وقت سختی اور نرمی پر مبنی سیاست: اموی خلافت کو استحکام حاصل ہو جانے کے بعد سیاست کا یہ انداز واضح شکل میں سامنے آیا۔ اس بارے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد بن آبیہؒ کو لکھا: ہم دونوں کے لیے ایک ہی انداز میں سیاست کرنا موزوں نہیں ہے۔ اگر ہم دونوں سختی کریں گے تو لوگوں کو تباہی سے دوچار کر دیں گے اور اگر دونوں نرمی کا مظاہرہ کریں گے تو وہ اترانے لگیں گے، ہونا یوں چاہیے کہ جب تو نرمی کرے تو میں سختی کروں، اور اگر میں سختی کروں تو تو نرمی کرے۔

(انساب الاشراف: جلد 4 حاشیہ 1 صفحہ 84 ۴/۱/۸۴)

اس قسم کی سیاست کے بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف یہ اقوال منسوب ہیں: میں اس جگہ کوڑا نہیں رکھتا جس جگہ میری زبان کام دے جائے اور اس جگہ تلوار نہیں رکھتا جس جگہ میرا کوڑا کام دے جائے اور جس جگہ تلوار سے کام لینا ضروری ہو وہاں اس کا استعمال ضرور کرتا ہوں۔

(الجذور التاریخیۃ للاسرۃ الامویۃ: صفحہ 101)

ان کا مشہور قول ہے: اگر میرے اور لوگوں کے درمیان بال برابر بھی رشتہ باقی رہ جائے تو وہ ٹوٹ نہیں پائے گا۔ اگر وہ اسے کھینچیں گے تو میں ڈھیلا کر دوں گا اور اگر وہ اسے ڈھیلا چھوڑ دیں گے تو میں اسے کھینچ لوں گا۔

(انساب الاشراف: جلد 4 حاشیہ 1 صفحہ 21 )۴/۱/۲۱

7۔ باہم مفادات پر مبنی سیاست اپنانا: خلافت راشدہ جیسی سیاست اپنانا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے ممکن نہیں تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دولت اسلامیہ میں وسعت آ جانے کے بعد مال و دولت کی کثرت نے بہت سارے مسلمانوں کو اس مقام پر لا کھڑا کیا کہ وہ اپنے جی میں دنیوی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کی خواہش پالنے لگے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کا اظہار کرتے ہوئے واضح طور سے فرمایا: میں نے ایسا طریقہ اپنایا ہے جس میں میرا بھی فائدہ ہے اور تمہارا بھی۔ جب تک سیرت درست رہے گی اور اطاعت اچھی رہے گی ہر ایک کو اچھی اشیاء خورد و نوش میسر آتی رہیں گی۔ اگر میں تم سے اچھا نہیں ہوں تو تمہارے لیے اچھا ضرور ہوں۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 148)

8۔ اپنی ذات اور اپنی خلافت کی تعریف و توصیف پر مبنی تشہیر اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی اطلاعاتی سیاست اپنانا: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: لوگوں کے دلوں میں میری سب سے زیادہ محبت پیدا کرنے والا مجھے سب سے زیادہ پیارا لگتا ہے۔ 

(الجذور التاریخیۃ: صفحہ 102)

ان کی اس سیاست کو ان کے بعد اموی خلفاء نے بھی اپنائے رکھا۔ انہوں نے دسیوں شعراء کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ان کے لیے تجوریوں کے منہ کھول دئیے جس کے صلے میں انہوں نے ان کی تشہیر کرنے، خلافت پر ان کا حق ثابت کرنے اور ان کی اطاعت و نصرت کے وجوب کے اثبات کے لیے اپنی تمام تر شاعرانہ صلاحیتیں وقف کر ڈالیں۔

(ایضاً: صفحہ 102، تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 255) 

اسی پس منظر میں مشہور اموی شاعر اخطل کہتا ہے:

تمت جدودہم و اللّٰه فضلہم و جدّ قوم سواہم خامل نکد

و انتم اہل بیت لا یوازنہم بیت اذا عُدّت الاحساب و العدد

(التطور و التجدید فی الشعر الاموی، شوقی ضیف: صفحہ 134)

صفحہ 2 از 3