سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنی خلافت کے ایام میں…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنی خلافت کے ایام میں امن و امان کے استحکام پر حریص ہونا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

’’ان کے نصیب پورے ہیں اور اللہ نے انہیں فضیلت عطا فرمائی ہے جبکہ ان کے علاوہ دوسروں کے نصیب بے وقعت و گم نام ہیں، تم وہ گھر والے ہو کہ جب عز و شرف اور تعداد کو شمار کیا جائے تو کوئی بھی گھر اس کا ہم پلہ نہیں ہے۔‘‘

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اعلام و اطلاع کے اس فن کو بڑی اہمیت دی اور اسے بھرپور انداز میں استعمال کرنے کے لیے اسے اپنے حامی چند لوگوں کے سپرد کر دیا۔ آپ شعراء اور مختلف قبائل کے شیوخ کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے انہیں عطیات سے نوازتے۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ماتحت امراء اور والیوں کو سیاسی، اعلامی اور مقاصد امن کے حصول کے لیے وسیع اختیارات دے رکھے تھے والی بصرہ زیاد نے بصرہ کے تقریباً پانچ صد سرکردہ لوگوں کی وفاداریاں حاصل کر رکھی تھیں جنہیں وہ تین سو سے لے کر پانچ سو درہم تک ادا کیا کرتا تھا۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 139)

اس کے بارے میں حارثہ بن بدر غدانی کہتا ہے:

ألا من مبلغ عنی زیادا فنعم اخو الخلیفۃ و الامیر

فانت إمام معدلۃ و قصد و حزم حین تحضرک الامور

اخوک خلیفۃ اللّٰه بن حرب و أنت وزیرہ نعم الوزیر

(ایضاً: جلد 6 صفحہ 139)

’’میری طرف سے زیاد کو یہ پیغام کون پہنچائے گا کہ تو خلیفہ کا بہت اچھا بھائی اور امیر ہے

تو عدل و اعتدال اور حزم و دانائی والا امیر ہے جب تجھے امور کا سامنا کرنا پڑے

تیرا بھائی ابن حرب اللہ کا خلیفہ ہے اور تو اس کا بڑا اچھا وزیر ہے۔‘‘

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے حلم و حوصلہ اور عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے شعراء کی ناراضی ختم کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے، انہیں عزت دیتے، ان کے ساتھ محبت کا اظہار کرتے اور ان کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی روا نہ رکھتے اور اسی طرح وہ انہیں اپنی صف میں شامل کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔ یاد رہے کہ اس وقت شعراء کی اہمیت عصر حاضر کے ذرائع ابلاغ سے کم نہ تھی۔

9۔ اطلاعاتی مشینری: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں داخلی اور خارجی امن و امان قائم رکھنے کی مشینری بڑی فعال تھی۔ معلومات اکٹھی کرنے کی جس کی صلاحیت ایک مسلمہ امر تھی۔سیدنا  معاویہ رضی اللہ عنہ اس اطلاعاتی مشینری کی بذاتِ خود نگرانی کرتے، انہوں نے حکمرانوں اور رعیت کی نگرانی کے لیے ایک مربوط اور خفیہ نظام وضع کر رکھا تھا۔ ہر علاقہ کے ہر عامل اور امیر لشکر پر ایک جاسوس کو متعین کیا جاتا جو انہیں اس کی حرکات و سکنات سے آگاہ کرتا رہتا، خفیہ سراغ رسانی کا یہ نظام اندرون ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی سرگرم عمل تھا، مثلاً۔


صفحہ 3 از 3