Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور اہل عراق کے درمیان ہونے والی خط و کتابت سے آگاہی

  علی محمد الصلابی

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد شیعہ سلیمان بن صرد کے گھر اکٹھے ہوئے اور ان کی وفات پر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو تعزیتی خط لکھا، انہوں نے اس خط میں لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اخلاق عالیہ سے نوازا ہے، ہم تمہارے شیعہ ہیں، تمہاری مصیبت ہماری مصیبت، تمہارا غم ہمارا غم ہے اور تمہاری خوشی میں ہماری خوشی ہے، ہم تمہارے حکم کے منتظر ہیں۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے ان کے خطوط کا یہ جواب دیا: میں امید کرتا ہوں کہ صلح کا عمل اور ظالم لوگوں کے خلاف میرے بھائی کی رائے صائب اور درست ہو گی، جب تک ابن ہند زندہ ہے اپنے ارادوں کا اظہار نہ کرو، زیر زمین چلے جاؤ اور اپنے آپ کو چھپا کر رکھو، اگر میری زندگی میں کوئی حادثہ رونما ہوا تو ان شاء اللہ میری رائے تم تک پہنچ جائے گی۔



(انساب الاشراف: جلد 3 صفحہ 152۔ مواقف المعارضۃ: صفحہ 179)

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور اہل کوفہ کے درمیان ہونے والی اس خط و کتابت نے بنو امیہ کے لیے خطرات کی گھنٹی بجا دی، چنانچہ انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں مشورہ کرنے کے لیے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا، جس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ وہ کسی بھی صورت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے تعرض نہ کریں۔

(ایضًا)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس خط و کتابت، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور کوفیوں کے درمیان مضبوط تعلقات سے بخوبی آگاہ تھے، اسی وجہ سے انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ وہ اللہ سے ڈریں، مسلمانوں کی وحدت کو نقصان نہ پہنچائیں اور ان کے معاملہ میں اللہ کو یاد رکھیں۔

(ایضاً: جلد 3 صفحہ 152، ایضاً: صفحہ 179)

اس حوالے سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا مؤقف بالکل واضح تھا، انہوں نے صاف صاف اعلان کرتے ہوئے فرمایا: ہم بیعت کر چکے اور صلح کا معاہدہ کر چکے اب ہم کسی بھی صورت نقض بیعت نہیں کریں گے۔

(الاخبار الطوال: صفحہ 220)

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کے پورے عرصے میں اپنی اس بیعت کا التزام کیا اور ان کے اطاعت گزار رہے۔

( اثر العلماء فی الحیاۃ السیاسۃ فی الدولۃ الامویۃ: صفحہ 469)