شیعہ مذہب میں امامت کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟ - ردِ رافضیت |…

شیعہ مذہب میں امامت کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 2 از 2

شیعہ کو ان کے عالم آلِ کاشف الغطاء نے یہ کہہ کر رسوا کر دیا ہے کہ شیعہ امامیہ نے پانچواں رکن اپنے پاس سے بڑھایا ہے، یعنی امامت کا اعتقاد۔

(اصل الشيعة وأصولها: صحفہ، 211 المقصد الثانی) 

  • اصل میں تمام اسلام امامت ہی تو ہے۔ اب انہوں نے ایک روایت گھڑ کر امام باقرؒ کی طرف منسوب کر دی کہ آپ اس آیت:

إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلۡإِسۡلَـٰمُ‌ الخ۔

(سورة آلِ عمران: آیت، 19)

کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس سے مراد ہے حضرت علیؓ ابنِ ابی طالب کی ولایت کے لیے سرتسلیم خم کرنا۔

(مناقب آلِ أبی طالب جلد، 3 صفحہ، 271 فصل فی أنه الإيمان والإسلام والدين والسنة والسلام و الولی)

پھر ایک دوسری روایت میں امام زین العابدین اور ابو جعفرؒ پر جھوٹ گھڑ لیا کہ آپ دونوں حضرات فرماتے ہیں۔

ٱدۡخُلُواْ فِى ٱلسِّلۡمِ ڪَآفَّةً الخ

(سورة البقرہ: آیت، 208)

ترجمہ: پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ

اس سے مراد یہ ہے کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولایت میں داخل ہو جاؤ۔

(المصدر السابق: جلد، 3 صفحہ، 672)

دندان شکن: شیعہ علماء و مشائخ نے روایت کیا ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی جانے لگی تو آپ نے فرمایا: مجھے چھوڑ دو اور میرے علاوہ کسی دوسرے کو تلاش کرو۔ اس لیے کہ ایک ایسے نکتہ پر کھڑے ہیں جس کے کئی چہرے اور کئی رنگ ہیں۔ اور دل اس کے لیے مطمئن نہیں ہور ہے۔ اور نہ ہی عقول اس کے سامنے ٹھہر سکتی ہیں۔ بیشک اہلِ خرد و دانش بھی بیہوشی کا شکار ہیں۔ اور راہیں اوپری ہوگئی ہیں۔ اور اگر میں نے تمہاری بات مان لی تو میں تمہیں اپنے علم کے مطابق لے کر چلوں گا۔ اور میں کسی کہنے والے کی بات نہیں سنوں گا اور نہ ہی کسی عتاب کرنے والے کے عتاب کی پرواہ کروں گا۔ اور اگر آپ لوگ مجھے چھوڑ دو گے تو میں بھی تم میں سے کسی ایک عام آدمی کی طرح ہوں گا۔ شاید کہ میں تم سب سے زیادہ اس آدمی کی بات مانے والا اور اطاعت کرنے والا ہو جاؤں جسے تم اپنا امیر بنالو۔ میرا وزیر بن کر رہنا تمہارے لیے میرے امیر بن کر رہنے سے زیادہ بہتر ہے۔ 

(شرح نہج البلاغة جلد، 2 صفحہ، 393 رقم، 92 باب: المختار من خطب أمير المؤمنين)

یہ نص اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کی طرف سے منصوص امام نہ تھے۔ اگر ایسے ہوتا تو پھر آپ کے لیے جائز نہیں تھا کہ آپ کہتے: مجھے چھوڑ دو اور کسی دوسرے کو تلاش کرو شیعہ اعتقاد کے مطابق یہ نص مقدس ہے؟ جو کہ اس تمام عمارت کو ہی ڈھا رہی ہے جس کے جھوٹوں کی بنیاد ان کے علماء و مشائخ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولایت اور بارہ ائمہ کی امامت کی ایجاد پر رکھی تھی۔ مزید برآں انہوں یہ بھی روایت کیا ہے کہ سیدنا علیؓ نے فرمایا ہے: بیشک میری بیعت لوگوں نے اس بات پر کی ہے جس بات پر انہوں نے سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ کی بیعت کی تھی۔ موجود کو اختیار کرنے کا حق حاصل نہیں اور نہ ہی غائب کو واپس کرنے کا حق ہے۔ ایک شوری مہاجرین اور انصار کے مابین تھی۔ اور اگر یہ لوگ کسی ایک انسان پر جمع ہو جائیں اور اسے اپنا امام بنالیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی نشانی ہے۔ پھر اگر کوئی انسان کسی طعنہ یا بدعت کی وجہ سے ان کی جماعت سے نکل جائے تو واپس جماعت اسے واپس جماعت میں لاؤ۔ اور اگر وہ اس کا انکار کرے تو مؤمنین کی راہ چھوڑ کر دوسری راہ پر چلنے کی وجہ سے اس سے قتال کرو، اللہ اسے وہیں پھیرے گا وہ جہاں پھرا ہے۔ 

(شرح نہج البلاغة: جلد، 2 صفحہ، نمبر، 6)

یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت علیؓ کی امامت پر کوئی نص موجود نہیں تھی۔ امامت کے بارے میں شوری مہاجرین وانصار کے مابین تھی۔ جسے وہ تمام لوگ اتفاق سے اپنا امام بنالیں تو وہی امام ہوگا۔ اور جو کوئی اس بات کو نہ مانے تو اہلِ ایمان کی راہ چھوڑ کر دوسری راہ پر چلنے کی وجہ سے اس سے قتال کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ اگر سیدنا علیؓ کی امامت پر رسول اللہﷺ کی جانب سے کوئی نص موجود ہوتی تو سیدنا علیؓ کبھی بھی یہ الفاظ ارشاد نہ فرماتے۔ انہوں نے یہ بھی روایت نقل کی ہے کہ سیدنا علیؓ نے فرمایا ہے: اللہ کی قسم خلافت میں میری طرف کوئی رغبت نہیں تھی۔ اور نہ ہی اس ولایت میں کوئی شرف و منزلت ہے۔ لیکن تم لوگوں نے ہی مجھے اس کی طرف بلایا اور اس کا بوجھ میرے کاندھوں پر ڈال دیا۔ (نہج البلاغة جلد، 4 صفحہ، 432 نمبر، 97)

اس نص میں سیدنا علیؓ بھی خود بتا رہے ہیں کہ: ان لوگوں کے مطالبہ پر اور آپ کو منتخب کرنے کی وجہ سے آپ خلیفہ بنے۔ اس میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی نص موجود نہیں تھی۔ تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ شیعہ علماء و مشائخ اس دعویٰ کو سچ ثابت کرنے کے لیے جھوٹ پر جھوٹ بولتے جا رہے ہیں جس کی بنیاد عبداللہ بن سباء یہودی نے رکھی تھی۔


صفحہ 2 از 2