معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے اہلبیت کی قدر نہ پہچانی۔ (عون المعبود)
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند♦️ معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے اہلبیت کی قدر نہ پہچانی۔ (عون المعبود)
♦️ الجواب اہلسنّت ♦️
عکسی صفحہ پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا ذکر ہے۔ اس پورے صفحہ کو پڑھنے سے قطعاً یہ معلوم نہیں ہوتا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے آل رسولﷺ کی قدر نہیں کی یا ان کی عزت و تکریم میں کوئی دقیقہ چھوڑ دیا ہو۔ مذکورہ اعتراض تو اس صفحہ کی عبارت سے نکل نہیں سکتا۔ باقی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اہل بیت رسول کے ساتھ جو قدر دانی کا لگاؤ تھا وہ کوئی پوشیدہ اور ڈھکی چھپی بات نہیں ان حضرات کی آپس میں قرابتیں اور رشتہ داریاں بھی تھیں اور محبت و قربت کا تعلق بھی جس کی تفصیل سیرت امیر معاویہؓ از حضرت مولانا محمد نافع رحمہ اللہ اور ان کی کتاب سیرت علیؓ المرتضٰی میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ جیسے
1: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ آپﷺ کے برادر نسبتی ہیں کہ ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی زوجہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ تھیں۔
2: امیر معاویہ رضی اللہ عنہ آپﷺ کے ہم زلف تھے کہ زوجہ رسولﷺ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بہن قريبة الصغری امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں۔
3: امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ہند بنت ابوسفیان علی المرضی رضی اللہ عنہ کے چچا زاد حارث بن نوفل کے گھر تھیں۔
4: علی اکبر بن امام حسین کی والدہ لیلیٰ بنت ابی مرہ کی ماں میمونہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں۔
5: حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی پوتی لبابہ بنت عبید الله امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ولید بن عتبہ بن ابی سفیان کی زوجہ تھیں۔
(از سیرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ)
یہ تو تھا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رشتہ داری کا خاندان رسولﷺ سے تعلق۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو بنو ہاشم کی عزت و تکریم کا بڑی شدت سے احساس تھا۔ اپنے آپ کو یا کسی دوسرے شخص کو وہ خاندان رسولﷺ پر فائق نہ جانتے تھے۔ چنانچہ ابوالحسن المدائنی نے سلمہ بن صحارب سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیان ذکر کیا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ تم بنو امیہ شرف و عزت میں زیادہ ہو یا بنو ہاشم؟ تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب یوں ذکر کیا کہ "ہم دونوں قبیلے صاحب شرافت تھے لیکن ہاشم جیسا بنی عبد مناف میں کوئی نہیں تھا۔ جب ہاشم فوت ہو گئے تو ہمارے قبیلہ کا عدد زیادہ تھا ہم بنی امیہ عزت و شرف میں زیادہ تھے لیکن عبد المطلب جیسا ہم میں کوئی فرد نہیں تھا پھر جب عبدالمطلب فوت ہوئے تو ہم عدد میں اکثر تھے ہم اسی حال میں تھے کہ بنی ہاشم نے کہا کہ ہم میں نبی مبعوث ہوئے ہیں۔ پس ایسے نبی تشریف لائے کہ اولیں و آخریں نے ان جیسا نہیں سنا وہ جناب حضرت محمدﷺ ہیں پس اس شرف فضیلت کو اور کون حاصل کرسکتا ہے؟ کوئی نہیں۔
(البدایہ والنہایہ لابن کثیر جلد 8 صفحہ 138 تحت ترجمہ معاویہ)
♦️ صاف معلوم ہوا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خاندان محبوب کائناتﷺ جیسا کسی کو بالکل نہ جانتے تھے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو اس کے جواب میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ:
جو فضیلت و شرف آپؓ کو اسلام میں حاصل ہے اور جو نسبی قرابت آپ کو نبیﷺ کے ساتھ نصیب ہے
اور جو بنو ہاشم میں آپ کا مقام ہے، میں اس کو رد نہیں کرتا ( بلکہ میں اس کو تسلیم کرتا ہوں)
(درہ نحفیہ شرح نہج البلاغہ صفحہ 102 تحت و من کلامہ)
ان دونوں گزارشات سے یہ بات بے حقیقت بن کر رہ گئی کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اہل بیت کی قدر نہ پہچانی۔ حالانکہ یہ بات بالکل بے اصل اور خلاف حقیقت ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اہلبیت کی محبت سے دل لبریز رکھتے تھے جب ہی تو دشمن آل رسول دشمن بنوامیہ بھی ہے۔ نیز عون المعبود نیم رافضی غیر مقلد شمس الحق ڈبانوی کی تصنیف ہے) مشہور غیر مقلد عبدالرشید عراقی نے شمس الحق ڈبانوی کی تصانیف ہے میں نمبر پر اس کو گنوایا ہے۔
چنانچہ لکھتا ہے:
عون المعبود فى شرح سنن ابی داؤد (عربی) 4 جلد مطبع انصاری دہلی 1318ھ تا 1322ھ یہ شرح دراصل غایۃ المقصود کی تلخیص ہے اس میں اسناد و متن سے متعلق اشکالات کے حل و ایضاح کی طرف پوری توجہ دی گئی ہے۔الخ
(حدیث کی نشر و اشاعت میں علمائے حدیث کی خدمات ص 90، مکتبہ قدوسیہ اردو بازار لاہور)