Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعض پیروکاروں کو نگرانی میں رکھنا

  علی محمد الصلابی

زیاد معاویہ رضی اللہ عنہ کی اطاعت میں آسانی سے داخل نہیں ہوا تھا۔ اس نے آغاز کار میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکمرانی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور بلاد فارس میں جا کر چھپ گیا۔ بعد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے بڑی مشکل سے مطمئن کر کے اپنی اطاعت میں داخل کیا، زیاد نے ان سے کوفہ چلے جانے کی درخواست کی تو آپ نے اسے اس کی اجازت دے دی، اس کی کوفہ آمد پر مغیرہ رضی اللہ عنہ اس کی بڑی عزت کیا کرتے تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک خط کے ذریعے مغیرہ کو حکم دیا کہ زیاد، سلیمان بن صرد، حجر بن عدی، شبت بن ربعی، ابن کواء اور عمر بن حمق کو نماز باجماعت ادا کرنے کا پابند بنائیں، چنانچہ یہ لوگ ان کے ساتھ ہی نماز ادا کیا کرتے تھے، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے یہ احتیاطی تدبیر تھی جس سے مقصود ان لوگوں کو مسلسل والی کوفہ کی نگرانی میں رکھنا تھا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 458)

اور اس کی وجہ یہ تھی کہ بعض لوگ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی صلح کے خلاف تھے، لہٰذا ان کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعض حامی عناصر کے پاس اکٹھا ہو جانا بعید نہیں تھا، لہٰذا فتنہ کی سرکوبی کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 175)

10۔ اسلامی لشکر کا قیام سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے والی مقرر ہوئے تو انہوں نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے مضبوط اسلامی فوج کی تشکیل کا آغاز کر دیا جس نے اندرون ولایت امن و امان قائم رکھا اور بعد ازاں اسلامی فتوحات میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔

(الدولۃ الاموی: دیکھیے فرست مرعی الدھوکی: صفحہ 64)

جس کی تفصیل آگے چل کر آئے گی۔ اِنْ شَاءَ اللّٰہُ