شیعہ اور عقیدہ ختم نبوت و توہین انبیاء کرام علیہم السلام و…

شیعہ اور عقیدہ ختم نبوت و توہین انبیاء کرام علیہم السلام و عقیدۀ امامت


صفحہ 1 از 3

میرے محترم دوستو!

پوری امت مسلمہ کا یہ اجماعی اور قطعی عقیدہ ہے کہ نبوت ایک عطائی اور وہبی منصب ہے، کوئی بھی شخص اپنی قابلیت، بزرگی، تقویٰ، پرہیز گاری، مال و منال، حسن و جمال اور عہدہ و منصب کی بنیاد پر اگر یہ چاہے کہ اس کو نبوت حاصل ہو جائے تو یہ بات ہرگز ممکن نہیں بلکہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کے انتخاب سے یہ مرتبہ و مقام حاصل ہوتا ہے۔

اسی طرح پوری امت مسلمہ کا یہ عقیدہ ہے کہ جس مقصد و مشن کی تکمیل کی خاطر اللہ تعالیٰ، انبیاء کرام علیہم السلام کو دنیا میں بھیجا جاتا رہا، وہ اس مشن کی تکمیل کیلئے سرگرم عمل رہے، انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات بلا کم و کاست بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسے لوگوں تک مکمل پہنچا دیا ۔ اور یہ کہ حضور اکرمﷺ کے بعد دوسرا نبی نہیں آ سکتا۔ اب اگر کوئی شخص حضور اکرمﷺ کے بعد کسی ایک شخص کو نبی یا رسول مانے وہ بلا شبہ ختمِ نبوت کا منکر اور کافر ہوگا۔ تو جو گروہ یہ عقیدہ رکھے کہ حضور اکرمﷺ کے بعد جس سلسلۂ امامت کا آغاز ہوا، اور بارہ امام پیدا ہوئے اور یہ کہ ان بارہ ائمہ کا درجہ نبوت سے بھی بلند و بالا ہے، تو پھر کیا ایسے شخص اور گروہ کو مسلمان کہا جائے گا؟

میرے پیارے بھائیو!

شیعہ ختمِ نبوت کے ظاہری طور پر قائل ہونے کا اعلان تو کرتے ہے، اور اس فرقہ کے رہنماؤں اور لیڈروں نے تقیتاً: علمائے کرام کے ساتھ مل کر ختمِ نبوت کی تحریکوں میں حصہ بھی لیا ہے لیکن یہ ایک نا قابلِ تردید حقیقت ہے کہ خود شیعہ ہی سب سے زیادہ ختمِ نبوت کے منکر بلکہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے بد ترین گستاخ بھی ہیں۔ شیعہ کی معتبر ترین

کتابوں سے ان کے کفریات ملاحظہ فرمائیں:

صفحہ 1 از 3