شیعہ مذہب میں متعہ (زنا) کے فضائل - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ مذہب میں متعہ (زنا) کے فضائل


صفحہ 1 از 2

میرے محترم دوستو!

اسلام نے انسانوں کی خاندانی اور نسلی بنیادوں کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ اور اسے معاشرہ سے مل کر رہنے کا درس دیا ہے، تا کہ وہ اپنی خوشی، غمی، بیماری صحت، زندگی اور موت وغیرہ پر ایک دوسرے کے کام آسکیں۔ غرض ایسے رشتے عطاء کئے ہیں جو دیگر مذاہب میں بھی آج اگر ہیں تو اسلام کی بدولت ہی ہے۔ ورنہ تو اکثر غیر اسلامی ممالک میں انسانی رشتے دم توڑ چکے ہیں۔ آج اُن ممالک میں پچاس فیصد لوگ ایسے ہیں جنہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ ان کا اصلی باپ کون ہے؟

اور ایسا ضروری تھا، کیونکہ جس معاشرہ میں مرد اور عورت کے ملاپ کیلئے کوئی مذہبی شرط اور پابندی نہ ہو، وہ جو چاہےاور جس کے ساتھ چاہے ملیں جلیں اور اپنے خواہشات کا استعمال کر گزریں تو ایسے حالات میں یہی نتیجہ نکلے گا اور یہی صورت حال پیدا ہوگی لیکن اسلام یہ چاہتا ہے کہ اس کے پیرو کار اور اس کے ماننے والے حلالی بیٹے ہوں، حرامی اور لاوارث نہ ہوں، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب باضابطہ نکاح کا وہ طریقہ اختیار کیا جائے جو اسلام نے بتایا ہے۔

لغوی طور پر متعہ کا مطلب فائدہ کے ہیں۔ اور شیعہ کی اصطلاح میں متعہ کا مطلب یہ ہے کہ مرد بغیر عورت کے گواہ، بغیر ولی اور بغیر نکاح خواں کے کسی بے خاوند غیر محرم عورت سے متعین وقت کیلئے خواہ دن ہو یا رات یا صرف گھنٹہ دو گھنٹے معاملہ طے کر لے اور اُس وقت کے اندر وہ جماع اور ہمبستری کریں اور خوب داد عیش دیں۔ متعہ کرنے والے مرد پر اُس عورت کے نان و نفقہ لباس و رہائش وغیرہ کسی بوجھ کی ذمہ داری نہیں ہوتی، بس مقرر کردہ اجرت ہی دینی پڑتی ہے۔ اور یہ کاروائی ان کے نزدیک نہ صرف جائز ہے بلکہ بہت بڑا درجہ اور ثواب رکھتا ہے۔

جہاں تک معاملہ گناہ کے عام ہونے کا ہے تو ابتداء سے انتہاء تک شیعہ مذہب سراپا گناہ ہے۔ مثال کے طور پر زنا ہی کو لیجئے۔ دنیا کا کوئی ایسا مذ ہب نہیں جس میں زنا کے اس قدر فضائل بیان کئے گئے ہوں جو کسی اور عبادت کیلئے بیان نہیں کئے گئے ہیں، اور زنا نہ کرنے والوں کیلئے سخت وعیدیں بھی بیان کئی گئی ہیں۔

زنا کرنے پر فضائل اور زنا نہ کرنے پر عذاب دینے کی روایات شیعہ کتب میں بکثرت پائی جاتی ہیں، شیعہ کے معتبر ترین کتب سے آپ چند عبارات ملاحظہ فرمائیں گے۔

میرے محترم مسلمان بھائیو!

شیعوں کی اخلاقی حالت کا اس سے اندازہ کر لیں کہ انہوں نے یہ مذہب اختیار کر لیا کہ عورتوں کا بلا نکاح بصیغۂ متعہ کسی کے گھر چلی جانا اور مذہب کے علاوہ اخلاق و روایات کی بندشوں کو بھی توڑ کر حیا سوزی کا مرتکب ہونا، اسے کار خیر بلکہ گناہوں کی بخشش کا ذریعہ قرار دے دیا۔

میرے محترم قارئین کرام!

شیعہ قوم دجل و فریب اور مکاری و عیاری میں بس اپنی مثال آپ ہی ہے۔ انہوں نے بہت چابک دستی سے اپنے کئی عقائد و اعمال مسلمانوں میں ٹھونس دیئے ہیں۔ انہی مسائل میں سے ایک مسئلہ متعہ بھی ہے۔ شیعہ قوم مسلمانوں کے بڑے بڑے محققین کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئی ہے کہ ابتداء اسلام میں متعہ حلال تھا۔ حالانکہ اسلام میں ایسی بے حیائی کی کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی اجازت نہیں دی گئی۔

اب متعہ کے بارے میں شیعہ مذہب کے معتبر ترین کتب کے چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:

صفحہ 1 از 2