شیعہ مذہب میں متعہ (زنا) کے فضائل - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ مذہب میں متعہ (زنا) کے فضائل


صفحہ 2 از 2
  1.  جو شخص زندگی میں ایک مرتبہ متعہ کرے وہ اہلِ بہشت سے ہے۔ (تحفۃ العوام: جلد، 2 صفحہ، 271)
  2. جو شخص چار مرتبہ زنا کرے وہ رسول اللہ کے درجہ کو پہنچ جاتا ہے۔ (برہان المتعہ: صفحہ، 52)
  3.  متعہ عبادت و اطاعت خدا ہے اور اس کا نہ کرنا معصیت ہے۔ (برہان المتعہ: صفحہ، 50)
  4.  مؤمن کی پہلی نشانی یہ ہے کہ عورتوں سے متعہ کرے۔ (برہان المتعہ: صفحہ، 47)
  5.  شیعہ کا اُس وقت تک کامل ایمان نہیں ہوتا جب تک متعہ نہ کرے۔ (برہان المتعہ: صفحہ، 45)
  6. عذاب نہ کیا جائے گا وہ مرد اور عورت کہ جو متعہ کرے۔ (تحفۃ العوام: جلد، 2 صفحہ، 271)
  7.  جس نے مومنہ عورت سے متعہ کیا گویا اس نے ستر مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت کی۔ (عجالہ حسنہ: صفحہ، 16)
  8. جو شخص زندگی میں ایک مرتبہ زنا کرے وہ جنتی ہے، جب زنا کرتا ہے تو گناہ اس کے گرتے ہیں مثل گرنے پتے درخت کے، اور جب غسل کرتا ہے تو گناہ سے پاک ہوتا ہے۔ (تحفۃ العوام: صفحہ، 304)
  9.  متعہ کرنے والوں کے لئے فرشتے دعا کرتے ہیں اور متعہ نہ کرنے والوں کے لئے قیامت تک فرشتے لعنت کرتے ہیں۔ ( برہان المتعہ: صفحہ، 51)
  10.  سیدنا جعفر صادقؒ کہتے ہیں کہ متعہ کے بعد غسل جنابت سے گرنے والے پانی کے ہر قطرے سے اللہ تعالیٰ 70 فرشتے پیدا کرتے ہیں جو اس متعہ کرنے والے (منحوس) کے لئے قیامت تک مغفرت مانگتے رہتے ہیں۔ (برہان المتعہ: صفحہ، 50)
  11. نبیﷺ نے فر مایا جو ایک مرتبہ متعہ کرے خدا کے قہر سے نجات پائے، جو دوہمرتبہ متعہ کرے اس کا حشر نیک لوگوں کے ساتھ ہو، اور جو تین مرتبہ متعہ (اپنا منہ سیاہ) کرے وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ (تفسير منہج الصاقين: صفحہ، 356)
  12.  نبیﷺ نے فرمایا جو ایک مرتبہ متعہ کرے اس کا تیسرا حصہ آگ سے نجات پا جاتا ہے، جو دو دفعہ متعہ کرے اس کا دو تہائی اور جو تین دفعہ متعہ (منہ کالا) کرے اس کا تمام بدن جہنم کی آگ سے آزاد ہو جاتا ہے۔ (تفسير منہج الصادقين: صفحہ، 256)
  13.  ابو جعفرؒ فرماتے ہیں کہ معراج کی رات جب حضورﷺ آسمانوں تک تشریف لے گئے تو فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام مجھ سے ملے اور فرمایا کہ اے محمدﷺ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے تیری امت میں سے عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے والوں کو بخش دیا۔ (من لا یحضره الفقيہ: جز، 3 صفحہ، 150) اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں۔ شیعوں کے نزدیک سرکار دو عالمﷺ جب معراج سے تشریف لائے تو بجائے نماز کے تحفہ کے، ان کیلئے بے شرمی اور حیا سوزی کا سامان لائے، اور (العیاذ بالله) انہیں یہ بشارت دی گئی کہ اس میں تمہاری نجات اخروی کا راز پوشیدہ ہے۔
  14.  جعفر صادقؒ سے متعہ کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: میں کسی مؤمن کے لئے یہ مناسب نہیں سمجھتا کہ وہ دنیا سے اس حالت میں چلا جائے کہ اس کے ذمہ نبیﷺ کی محبوب سنتوں میں سے کوئی سنت باقی ہو (یعنی متعہ کر کے منہ کالا نہ کیا ہو) (من لا يحضره الفقيہ: جلد، 3 صفحہ، 150)
  15. یہ لوگ بجلی کی طرح پل صراط سے گزر جائیں گے ان کے ساتھ ساتھ ستر صفیں ملائکہ کی ہوں گی، دیکھنے والے کہیں گے یہ مقرب فرشتے ہیں یا انبیاء ورسل؟ فرشتے جواب دیں گے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضورﷺ کے سنت کی بجا آوری کی ہے، اور وہ جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے۔ (عجالۃ حسنہ: صفحہ، 17)
  16. جو شخص ایک مرتبہ متعہ کرے اس کو سیدنا حسیؓن کا درجہ ملتا ہے، جو شخص دو مرتبہ زنا کرے اس کو سیدنا حسنؓ کا درجہ شخص ملتا ہے، جو شخص تین مرتبہ زنا کرے اس کو حضرت علیؓ کا درجہ ملتا ہے، اور جو شخص چار مرتبہ زنا کرے وہ رسول اللہﷺ کے درجہ کو پہنچ جاتا ہے۔ (تفسير منہج الصادقين: جلد، 2 صفحہ، 493)
  17. جو شخص ایک دفعہ متعہ کرے گا وہ اہلِ بہشت سے ہے۔ وہ مرد جس نے متعہ کا ارادہ کیا اور وہ عورت جو متعہ کے لئے آمادہ ہوئی جب یہ دونوں باہم بیٹھتے ہیں تو ایک فرشتہ نازل ہوتا ہے اور جب تک دونوں اپنی خلوت گاہ سے نکلتے نہیں وہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔ دونوں کا آپس میں گفتگو کرنا تسبیح کا مرتبہ رکھتا ہے۔ جب دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑتے ہیں تو ان کے انگلیوں سے ان کے گناہ ٹپکتے ہیں۔ دونوں جب آپس میں بوسہ لیتے ہیں تو حق تعالیٰ دونوں کو ہر بوسہ کے ساتھ حج و عمرہ کا ثواب عطاء فرماتا ہے۔ وہ دونوں عیش و مباشرت میں جب تک مصروف رہتے ہیں پروردگار عالم ہر لذت و شہوت کے ساتھ ان کے نامۂ اعمال میں پہاڑوں کے برابر ثواب تحریر کرتا ہے۔

جب دونوں فارغ ہوتے ہیں اور غسل کرتے ہیں درحالیکہ وہ جانتے ہیں اور یقین رکھتے ہوں کہ حق سبحانہ و تعالیٰ ہمارا خدا ہے اور متعہ کرنا سنت رسول مقبولﷺ ہے تو خدا تعالیٰ فرشتوں سے خطاب کرتا ہے کہ میرے ان دونوں بندوں کو دیکھو جو اٹھے ہیں اور اس علم و یقین کے ساتھ غسل کر رہے ہیں کہ میں ان کا پروردگار ہوں تم گواہ رہو کہ میں نے ان کے گناہوں کو بخش دیا، ان کے جسم کے کسی بال سے پانی گرنے بھی نہیں پاتا کہ دونوں کے لئے ایک ایک بال کے عوض دس دس ثواب لکھ دیئے جاتے اور دس دس گناہ بخش دیئے جاتے اور ان کے مراتب دس دس گناہ بلند کر دی جاتے ہیں۔ اور وہ لوگ فارغ ہو کر جب غسل کرتے ہیں تو جتنے قطرے ان کے بدن سے گرتے ہیں ان سے حق تعالیٰ ایسے فرشتے پیدا فرماتا ہے جو تسبیح و تقدیس ایزدی بجالاتے ہیں اور اس کا ثواب قیامت تک ان دونوں کو پہنچتا ہے۔ (معاذ الله ثم معاذ الله) (عجالہ حسنہ ترجمہ رسالہ متعہ: صفحہ، 15)

 میرے محترم قارئین کرام!

بقول شیعہ مذہب کے جب متعہ پر اس قدر اور اتنا ثواب ملتا ہے تو کون بد بخت اس بڑی نعمت اور غنیمت سے محروم رہ سکتا ہے؟ اور کون کم بخت دنیا کی لذت اور آخرت کے ثواب کی تحصیل سے جان چرائے گا؟

افسوس ناک الميہ:

شیعہ لوگوں کو سوچنا چاہیئے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت کے انکار سے ان پر کیا کیا آفتیں ٹوٹ پڑی ہیں، جن سے مذہب و روایات کی بندشوں سے تو وہ آزاد ہی ہو چکے، اخلاق و انسانیت بھی شیعہ معاشرے سے رخصت ہو گئی۔


صفحہ 2 از 2