کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تاریخ پیدائش 13 رجب المرجب…

کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تاریخ پیدائش 13 رجب المرجب ہے؟ کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی؟ حقیقی طور پر مولود کعبہ کون؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 3

کیا سیدنا علیؓ کی تاریخ پیدائش 13 رجب المرجب ہے؟ کیا سیدنا علیؓ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی؟ حقیقی طور پر مولود کعبہ کون؟

سب سے پہلے تو ہم اجمالاً بتاتے چلیں کہ سیدنا علیؓ مولودِ کعبہ ہرگز نہیں ہیں اور آپؓ کی تاریخِ پیدائش نہ 13 رجب المرجب ہے۔
جن کتابوں میں تاریخِ پیدائش کو ذکر کیا گیا تو مجہول صیغوں کے ساتھ ذکر کیا گیا لہٰذا یہ بات معتبر نہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ سیدنا علیؓ کی تاریخِ پیدائش صرف شہرت کی وجہ سے سند اور معتبر ماخذ کے ذکر کے بغیر لکھ دی گئی لہٰذا جب تک معتبر ماخذ نہیں مل جاتا تب تک یہ بات قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
تیسری بات یہ ہے کہ جنہوں نے ماخذ بیان کیا ہے وہ یا تو شیعوں کی کُتب ہیں یا ایسے شیعوں کی طرف مائل حضرات کی کُتب ہیں جنہوں نے بہت ساری شیعی روایات کو بغیر تحقیق و تنقیح کے نقل کر دیا جیسے امام ذہبیؒ ، ملاعلی قاریؒ اور شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے مستدرک للحاکم کے حوالے سے اور بعض نے مروج الذہب اور فصول المہمہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ہم اسکے حوالے نقل کردیتے ہیں تاکہ دیکھنے اور پڑھنے والے سمجھ سکیں کہ کس طرح سے بغیر سند یا ایسے ماخذ سے سیدنا علیؓ کی پیدائش لکھ دی گئی جو ماخذ قابلِ قبول ہی نہیں ہیں۔
سب سے پہلے امام ذہبیؒ کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں:
امام ذہبیؒ نے جو بات ذکر کی وہ امام حاکمؒ سے ذکر کی تو مستدرک حاکم کی روایت یہاں نقل کی جاتی ہے:
أَخْبَرَنَا أَبُوبَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِی ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْداللَّهِ فَذَكَرَ نَسَبَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍؓ وَزَادَ فِيهِ وَأُمُّهُ فَاخِتَةُ بِنْتُ زُهَيْرِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِالْعُزَّى وَكَانَتْ وَلَدَتْ حَكِيمًا فِی الْكَعْبَةِ وَهِی حَامِلٌ فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ وَهِی فِی جَوْفِ الْكَعْبَةِ فَوَلَدَتْ فِيهَا فَحُمِلَتْ فِی نِطَعٍ وَغُسِلَ مَا كَانَ تَحْتَهَا مِنَ الثِّيَابِ عِنْدَ حَوْضِ زَمْزَمَ وَلَمْ يُولَدْ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ فِی الْكَعْبَةِ أَحَد قَالَ الْحَاكِمُ وَهَمُّ مُصْعَبٍ فِی الْحَرْفِ الْأَخِيرِ فَقَدْ تَوَاتَرَتِ الْأَخْبَارِ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَسَدٍؓ وَلَدَتْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِی بْنَ أَبی طَالِبٍ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِی جَوْفِ الْكَعْبَة۔
مصعب بن عبداللہ نے سیدنا حکیم بن حزامؓ کا نسب بیان کرنے کے بعد فرمایا ان کی والدہ فاختہ بنت زہیر بن اسد بن عبدالعزیٰ ہیں انہوں نے سیدنا حکیمؓ کو کعبہ میں جنم دیا یہ حاملہ تھیں کعبہ میں گئیں اور وہیں ان کو درد زہ شروع ہوگئی اور سیدناحکیمؓ کی پیدائش ہوگئی چمڑے کے ایک قالین پر پیدائش کا عمل ہوا اور ان کے نیچے جو کپڑے تھے وہ زمزم کے کنویں پر لا کر دھوئے گئے نہ ان سے پہلے کوئی کعبہ میں پیدا ہوا نہ ان کے بعد۔
 امام حاکمؒ کہتے ہیں مصعب کو اس حدیث کے آخر میں وہم ہوا ہے کیونکہ اس بارے میں روایات حدِ تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں کہ سیدہ فاطمہ بنتِ اسدؓ نے امیرالمؤمنین سیدنا علیؓ کو کعبہ کے اندر جنم دیا۔
(مستدرک حاکم: جلد،  5 روایت، 6044)
اسی روایت کی تلخیص میں امام ذہبیؒ نے بعینہ یہی روایت نقل کردی اپنا کوئی مؤقف یہاں بیان نہیں کیا اس تلخیص کا اسکین بھی نیچے لگا دیا ہے۔
(مستدرک حاکم وبذیلہ التلخیص للذھبی: جلد، 3 صفحہ، 483)
جبکہ امام ذہبیؒ نے اپنا مؤقف اپنی سیر اعلام النبلاء اور تاریخِ اسلام میں سیدنا علیؓ کے لئے مولودِ کعبہ کہیں نہیں لکھا بلکہ سیدنا حکیم بن حزامؓ کے لئے ہی مولودِ کعبہ ہونا لکھا ہے ملاحظہ فرمائیں:
ورواه الذهبی عن ابن منده وأتى برواية الزبير عن مصعب بن عثمان أن حكيم ولد فی جوف الكعبة
 (سیر اعلام النبلاء: جلد، 3 صفحہ، 46)
تو اس تلخیص والی عبارت جو کہ امام حاکمؒ کی ہی بعینہ عبارت ہے اس کو لیکر امام ذہبیؒ کا حوالہ دینے والے دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں رہی بات امام حاکمؒ کی تو امام حاکمؒ اس موقع غلطی پر ہیں کیونکہ خود انہوں نے سیدنا علیؓ کے فضائل میں آپکا مولودِ کعبہ ہونا نہیں ثابت کیا ہے نہ کوئی روایت پیش کی جبکہ یہاں کہہ رہے ہیں کہ یہ بات یعنی سیدنا علیؓ کا کعبہ میں پیدا ہونا اس بارے میں رویات حدِ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں تو ہونا یہ چاہیئے تھا کہ امام حاکمؒ کوئی ایک روایت ہی پیش کر دیتے جبکہ نہ فضائلِ سیدنا علیؓ میں کوئی ایسی روایت پیش کی اور نہ یہاں کوئی ایک روایت پیش کی بس ایسے ہی یہ بات کہہ دی کہ یہ بات حدِ تواتر کو پہنچی ہوئی ہے اور ساتھ ہی امام مصعب کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ انہیں وہم ہوا یہ بات کہنے میں کہ کعبہ میں پیدائش صرف سیدنا حکیم بن حزامؓ کی ہوئی حالانکہ امام حاکمؒ نے خود سیدنا حکیم بن حزامؓ کو مولودِ کعبہ ثابت کیا ہے۔
اپنی اس روایت سے پہلے ہی ایک روایت پیش کی جسے ملاحظہ فرمائیں:
سَمِعْتُ أَبَا الْفَضْلِ الْحَسَنَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا أَحْمَدَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْوَهَّابِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِی بْنَ غَنَّامٍ الْعَامِرِی يَقُولُ وُلِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍؓ فی جَوْفِ الْكَعْبَةِ دَخَلَتْ أُمُّهُ الْكَعْبَةَ فَمَخَضَتْ فِيهَا فَوَلَدَتْ فِی الْبَيْت۔
علی بن غنام عامری فرماتے ہیں سیدنا حکیم بن حزامؓ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ان کی والدہ کعبہ کے اندر داخل ہوئیں وہیں ان کو دردِ زہ ہوئی اور سیدنا حکیم بن حزامؓ پیدا ہوگئے۔
 (مستدرک حاکم: جلد، 5 روایت، 6041)
اب پڑھنے والے دیکھنے والے بتائیں کہ بغیر کوئی ایک روایت بھی پیش کیجئے امام حاکمؒ کا یہ کہہ دینا کہ سیدنا علیؓ کا مولودِ کعبہ ہونا حدِ تواتر کو پہنچا ہوا ہے کوئی ثبوت پیش کرنے سے قاصر رہے جبکہ یہ بات بھی ثابت ہے کہ امام حاکمؒ کا آخری عمر میں ذہنی توازن بگڑ چکا تھا اور یہ کتاب اسی وقت لکھی گئی اور ان پر ایک زمانے تک شیعت غالب رہی تھی۔
امام سیوطیؒ لکھتے ہیں:
و ما وقع فی مستدرک الحاکم من ان علیا ولد فيها ضعیف۔
کہ امام حاکمؒ کی یہ بات ضعیف ہےكہ سیدنا علیؓ کعبہ میں پیدا ہوئے ہیں۔
 (تدریب الراوی للسیوطی: صفحہ، 880)
صفحہ 1 از 3