کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تاریخ پیدائش 13 رجب المرجب…

کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تاریخ پیدائش 13 رجب المرجب ہے؟ کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی؟ حقیقی طور پر مولود کعبہ کون؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3
علامہ نوویؒ نے بھی امام حاکمؒ کے قول کو ضعیف قرار دیا ہے:
قالوا ولد حکیم بن حزامؓ فی جوف الکعبة ولا یعرف أحد ولد فیھا غیرہ وأما ما روی أن علی ابن أبی طالب ولد فیھا فضعیف عند العلماء۔ 
(تہذیب الأسماء واللغات للنووی: جلد، 1 صفحہ، 166)
دوسرے نمبر پر ملا علی قاری کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں:
ملا علی قاریؒ نے شرح شفاء میں امام حاکمؒ کا ہی قول نقل کیا ہے سیدنا علیؓ کے مولودِ کعبہ ہونے کا اور ساتھ وضاحت بھی فرما دی کہ سیدنا حکیم بن حزامؓ ہی مولودِ کعبہ ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ ان کے علاوہ بھی کوئی مولودِ کعبہ ہے اور یہی مشہور ترین ہے:
حکیم بن حزامؓ ولد فی الکعبة ولا یعرف احد ولد فی الکعبة غیره علی الاشهر۔
(شرح الشفاء للقاری: جلد، 1 صفحہ، 159)
تیسرے نمبر پر شاہ والی اللہ محدث دہلویؒ کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں:
اسی طرح شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے بھی امام حاکمؒ کا ہی قول نقل کیا ہے:
(ازالۃُ الخفاء: جلد، 4 صفحہ، 406)
اب جبکہ امام حاکمؒ نے ہی بلادلیل یہ بات کہی تو امام حاکمؒ سے اس بات کو ذکر کرنے والوں کی بات کی کوئی اہمیت باقی نہ رہی یعنی ماخذ ہی بے بنیاد ہے۔
ان تینوں حوالوں میں جو ماخذ بیان کیا گیا ہے اس ماخذ کی کوئی حیثیت نہیں ہے وہ کسی طور پر قابلِ قبول نہیں ہیں اب جو روایت عام طور پر پیش کی جاتی ہے اسے ملاحظہ فرمائیں:
الخوارزمي في كتابه المناقب وُلِدَ علی بمكة المشرفة بداخل البيت الحرام فی يوم الجمعة الثالث عشر من شهر الله الأصم رجب الفرد سنة ثلاثين من عام الفيل قبل الهجرة بثلاث وعشرين سنة وقيل بخمس وعشرين وقبل المبعث باثنی عشرة سنة وقيل بعشر سنين ولم يولد فی البيت الحرام قبله أحد سواه۔
سیدنا علیؓ کی ولادت باسعادت مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے اندر خدا کے مہینے رجب کی تیرہ (13) تاریخ بروز جمعہ عامُ الفیل کے تیئیس سال اور کہا گیا ہے کہ پچیس سال بعد ہوئی اور کعبہ میں سیدنا علیؓ سے پہلے کوئی پیدا نہ ہوا 
(الفصولُ المہمہ: جلد، 1 صفحہ، 170 تا 172)
اسی فصولُ المہمہ سے زینتُ المحافل ترجمہ نزہت المجالس میں یہی روایت نقل کی گئی ہے اور اس بات کا بھی اضافہ کردیا گیا ہے کہ سیدہ فاطمہ بنتِ اسدؓ جو کہ والدہ ہیں سیدنا علیؓ کی وہ بغرضِ طواف تشریف لائیں تو انہیں دردِ زہ اٹھا تو انہیں ابو طالب نے اشارہ کیا کعبہ میں داخل ہونے کا تو آپ کی والدہ اندر تشریف لے گئیں وہیں آپ پیدا ہوئے۔
(زینتُ المحافل ترجمہ نزہت المجالس: صفحہ، 609)
جبکہ فصولُ المہمہ میں اس بات کی کوئی سند ذکر نہیں کی گئی اور فصولُ المہمہ ایسی کتاب بھی نہیں کہ اس میں لکھی بات اہلِ سنت پر حُجت ہو کیونکہ اس کتاب کی ابتداء ہی ایسے کلمات سے ہوتی ہے جو شیعوں کے ایک مخصوص عقیدے کو ظاہر کر رہی ہے اور اس کے مصنف کو شیعیت کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
اس عبارت کو بھی اسکین میں ملاحظہ فرمائیں جو شیعوں کے عقیدے کو ظاہر کرتا ہے مثلاََ ولایت کا ذکر کرنا اور مہدی منتظر کا ذکر اس جیسے اور عقیدے الفصولُ المہمہ کے مصنف نے بیان کیے ہیں۔
 (الفصولُ المہمہ: جلد، 1 صفحہ، 71 اور 72)
اور اس کتاب الفصولُ المہمہ کی اس روایت کو علامہ شمس الدین السفیری ضعیف لکھتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:
وما نقله فی الفصولُ المہمة لبعض المالكية من أن سيدنا علی بن أبی طالب ولدته أمة فی جوف الكعبة فهو ضعيف عند العلماء كما نقله النووی ولم يولد فی جوف الكعبة سوى حكيم بن حزام دخلت أمه الكعبة وهی حامل فضرها المخاض فأتيت بنطع فولدته فی الكعبة ولا يعرف ذلك لغيره۔
اور جو بات الفصولُ المہمہ میں نقل کی گئی ہے بعض مالکیوں کی طرف سے کہ سیدنا علی بن ابی طالب کو انکی والدہ نے جنم دیا کعبہ کے اندر تو علماء کے نزدیک یہ بات کمزور ہے کہ سیدنا علیؓ مولودِ کعبہ ہیں بلکہ مولودِ کعبہ صرف سیدنا حکیم بن حزامؓ ہیں ان کے علاوہ کوئی مولودِ کعبہ نہیں ہے۔
(المجالس الوعظیة فی شرح احادیث خیرُ البریة من صحیح الامام البخاری: جلد، 2 صفحہ، 161)
الفصولُ المہمہ کے مصنف کو شیعہ میں شمار کیا گیا ہے اور اس کتاب میں بھی الفصولُ المہمہ کے مصنف شیخ نورالدین علی بن محمد ابنِ صباغ المالکی المکی کے شیعی عقائد کو ذکر کیا گیا ہے۔
 (کشفُ الظنون عن اسامی الکتب و الفنون: جلد، 2 صفحہ، 1271)
اس لئے یہ کتاب الفصولُ المہمہ بھی کسی طور پر قابلِ قبول نہیں اور اسی طرح اس کتاب الفصولُ المہمہ سے جس جس نے روایت کی ہے وہ بھی قابلِ قبول نہیں۔
اب جبکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ سیدنا علیؓ سے متعلق مولودِ کعبہ ہونے والی روایات مستند نہیں تو انہی روایات میں موجود تاریخِ پیدائش جو 13 رجب المرجب بیان کی گئی ہے وہ بھی ثابت نہیں۔
یہاں تک یہ بات بھی ثابت ہوچکی کہ مولودِ کعبہ صرف سیدنا حکیم بن حزامؓ ہیں سیدنا علیؓ مولودِ کعبہ نہیں ہیں بلکہ سیدنا علیؓ کی جائے پیدائش کونسی جگہ ہے اس پر بھی چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔
سیدنا علیؓ کو مولودِ کعبہ سمجھنا ایسا کمزور گمان ہے جس کے ثبوت پر کوئی صحیح دلیل موجود نہیں ہے کیونکہ آپ اپنے والد ابو طالب کے مکان شعب بنی ہاشم کے اندر پیدا ہوئے تھے جس مکان کو لوگ مولدِ سیدنا علیؓ کے نام سے یاد کیا کرتے تھے اور اس مکان کے دروازے پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی:
ھذا مولد امیر المؤمنین علی ابنِ ابی طالب یعنی یہ امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب کی ولادت گاہ ہے۔
اور اہلِ مکہ بھی اس پر بغیر اختلاف کے متفق تھے سیدنا علیؓ کی جائے پیدائش خلیفہ بن خیاط صحیح سند کے ساتھ لکھتے ہیں کہ:
ولد علی بمکة فی شعب بنی هاشم۔
یعنی سیدنا علیؓ کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی۔
(تاریخِ خلیفہ بن خیاط: صفحہ، 199)
ابنِ عساکرؒ صحیح سند کے ساتھ لکھتے ہیں کہ:
ولد علی بمکة فی شعب بنی هاشم۔
سیدنا علیؓ کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی 
(تاریخِ دمشقِ کبیر: جلد، 42 صفحہ، 575)
مولودِ کعبہ صرف سیدنا حکیم بن حزامؓ ہیں اس پر چند مزید حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:
امام مسلم بن حجاج قشیری تحریر فرماتے ہیں:
ولد حکیم ابنِ حزامؓ فی جوف الکعبہ۔
ترجمہ: سیدنا حکیم بن حزامؓ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔
صفحہ 2 از 3