کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تاریخ پیدائش 13 رجب المرجب…

کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تاریخ پیدائش 13 رجب المرجب ہے؟ کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی؟ حقیقی طور پر مولود کعبہ کون؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 3
 (صحیح مسلم کتابُ البیوع بابُ الصدق فی البیع والبیان: جلد، 5 حدیث، 3856)
امام بدرُ الدین عینی حنفی تحریر فرماتے ہیں:
حکیم بن حزام ولد فی بطن الکعبۃ۔
ترجمہ: سیدنا حکیم بن حزامؓ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔
(عمدۃُ القاری شرح صحیح بخاری: جلد، 13 صفحہ، 142)
امام ابنِ حجر عسقلانیؒ تحریر فرماتے ہیں:
وحکی الزبیر بن بکار ان حکیما ولد فی جوف الکعبہ۔
سیدنا زبیر بن بکارؓ نے حکایۃً بیان کیا کہ سیدنا حکیم بن حزامؓ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی۔
 (الاصابہ فی تمییز الصحابہ: صفحہ، 337)
ایسے سینکڑوں حوالے ہیں جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مولودِ کعبہ سیدنا حکیم بن حزامؓ ہی ہیں اور ایسے مزید سینکڑوں حوالے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ 13 رجب المرجب سیدنا علیؓ کی تاریخِ پیدائش نہیں ہے کیونکہ جس جگہ پر 13 رجب المرجب کا ذکر ہے وہیں پر سیدنا علیؓ کے مولودِ کعبہ ہونے کا ذکر ہے جبکہ ماقبل میں یہ بات ثابت ہو چکی کہ سیدنا علیؓ کے مولودِ کعبہ ہونے کی روایات ہر طرح سے باطل ہیں تو یقینی طور پر سیدنا علیؓ کی تاریخِ پیدائش 13 رجب المرجب نہیں بنتی ہے۔
سیدنا علیؓ کی تاریخِ ولادت کو شیعوں نے مقرر کیا شیخ عباس قمی کی کتاب ھداية الانام کے حاشیہ پہ شیعہ کے مقدس مؤرخ آیت اللہ المرعشی النجفی کا مندرجہ ذیل بیان پیش کیا جو حقائق کو عیاں کررہا ہے۔
5 ستمبر 1710ء بمطابق 11رجب 1122 ہجری شاہ حسین صفوی نے اصفہان شہر میں 80 شیعہ علماء کی ایک میٹنگ بلائی کہ امیر المومنین علی ابنِ ابی طالب کے یومِ پیدائش کا تعین کیا جائے اور کسی ایک دن کو جشنِ ولادت کے لیے مختص کیا جائے (یعنی اس قدر اختلاف تھا اور مذکورہ بالا تاریخ سے قبل جشن ولادت کا دن متعین نہیں تھا) بہت بحث و تمحیص کے بعد بعض علماء نے جن میں آقا جمال الخوانساری بھی شامل تھا 13رجب کو یومِ ولادت متعین کیا بعض علماء جن میں الفاضل الہندی شامل تھے انہوں نے 7 شعبان کو صحیح کہا کچھ علماء نے 14 رمضان کو راجح کہا جبکہ بعض علماء نے 7 ذوالحج کو درست یومِ ولادت قرار دیا پھر سلطان حسین صفوی نے اپنی پسند کے مطابق 13 رجب کو جشنِ ولادت منانے کا سرکاری حکم صادر کیا۔
(المختصر والمعتبر من تواریخ المعصومین الاربعة عشر: صفحہ، 42)
شرالبریة تیرہویں صدی ہجری کے مُجتھد احمد بن صالح آلِ طوق القطیفی اپنی کتاب میں 13 رجب کا ذکر کرنے کے بعد شیخ طوسی کی 7 شعبان والی مندرجہ بالا روایت ذکر کرنے کے بعد پھر دیگر مصادر سے 13 رجب یومِ پیدائش کا ذکر کرتے ہیں۔
اور صفحہ نمبر 50 پہ اس بحث کو اس طرح سمیٹتے ہیں میرے (آیت اللہ القطیفی) کے نزدیک امیر المومنین کی ولادت کے متعلق سب سے صحیح ترین یہ ہے کہ آپ 7 شعبان بروز ہفتہ پیدا ہوئے۔
اور یہ روایت بالکل صحیح ہے کیوں کہ شیخ طوسی (متوفی 460 ھ) نے یہ روایت بالکل صحیح سند کے ساتھ صفوان بن مہران کے واسطے سے سیدنا صادقؒ سے روایت کی۔
اور صفوان بن مہران (ہم اہلِ تشیع رجال میں) جلیل القدر ثقہ راوی ہے۔
اور پہلی روایت (امیر المومنین کے 13 رجب کو پیدا ہونے والی روایت) کسی صحیح سند سے ثابت ہی نہیں بلکہ کسی حسن سند سے بھی ثابت نہیں حتّیٰ کہ کسی موثق سند سے بھی نہیں بلکہ اس روایت کا حال یہ ہے کہ وہ کسی ایک سند سے بھی ثابت نہیں بالکل بے سند روایت ہے۔
نیز میرے مؤقف کو امام منتظر کی یہ دعا بھی مضبوط کرتی ہے کہ آپ نے فرمایا:
اے اللہ میں تجھ سے ان رجب میں پیدا ہونے والے دو اماموں سیدنا محمد بن علی تقی اور انکے فرزند سیدنا علی بن محمد نقی کے واسطے سے سوال کرتا ہوں۔(رسائل الطوق القطیفی: جلد، 4 صفحہ، 49)
امام منتظر یعنی بارہویں امام کی یہ دعا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امیر المومنین رجب میں پیدا نہیں ہوئے کیونکہ اگر وہ رجب میں پیدا ہوئے ہوتے تو امام قائم نے صرف اور صرف سیدنا تقی اور سیدنا نقی کا واسطہ کیوں دیا ماہِ رجب کی دعا میں؟ اور امیر المؤمنین کا ذکر بھی نہیں کیا جبکہ امیرالمؤمنین فضیلت و مرتبہ میں مذکورہ دونوں ائمہ سے زیادہ فضیلت کے حامل ہیں۔
شیخ طوسی اپنے مزعومہ چھٹے معصوم سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین(سیدنا علیؓ) کی پیدائش بروز ہفتہ 7 شعبان کو ہوئی۔
(مصباح المتھجد للطوسی: صفحہ، 589)

صفحہ 3 از 3