1: امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے دینار پر اپنی تصویر بنا کر قیصر و کسریٰ کا اتباع کیا۔ (امیر معاویہ از انیس زکریا نصولی) 2: معاویہ (رضی اللہ عنہ) اور اس کا باپ مؤلفۃ القلوب میں سے تھے جو کفر کو چُھپاتے تھے۔ (الحسن و الحسین رضاء مصری) 3: رسول پاکﷺ نے معاویہ (رضی اللہ عنہ) اس کے بھائی عتبہ اور ابوسفیان (رضی اللہ عنہ) پر لعنت کی۔ (الحسن و الحسین رضا، مصری) 4: رسول پاکﷺ نے سات مقامات پر ابوسفیان (رضی اللہ عنہ) پر لعنت کی۔ (ایضاً) 5: معاویہ (رضی اللہ عنہ) خود گمراہ تھا اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا تھا۔(طبری) 6: معاویہ (رضی اللہ عنہ) باطن میں باغی تھا ظاہر میں دم عثمانؓ کا نام لے کر اپنی بغاوت پر پردہ ڈالتا تھا۔ (البیان الاظہر)
مولانا ابوالحسن ہزاروی1: امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے دینار پر اپنی تصویر بنا کر قیصر و کسریٰ کا اتباع کیا۔
(امیر معاویہ از انیس زکریا نصولی)
2: معاویہ (رضی اللہ عنہ) اور اس کا باپ مؤلفۃ القلوب میں سے تھے جو کفر کو چُھپاتے تھے۔
(الحسن و الحسین رضاء مصری)
3: رسول پاکﷺ نے معاویہ (رضی اللہ عنہ) اس کے بھائی عتبہ اور ابوسفیان (رضی اللہ عنہ) پر لعنت کی۔
(الحسن و الحسین رضا، مصری)
4: رسول پاکﷺ نے سات مقامات پر ابوسفیان (رضی اللہ عنہ) پر لعنت کی۔ (ایضاً)
5: معاویہ (رضی اللہ عنہ) خود گمراہ تھا اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا تھا۔(طبری)
6: معاویہ (رضی اللہ عنہ) باطن میں باغی تھا ظاہر میں دم عثمانؓ کا نام لے کر اپنی بغاوت پر پردہ ڈالتا تھا۔ (البیان الاظہر)
الجواب اہلسنّت
ان چھ فریبوں کے نمبر وار جواب ملاحظہ فرمائیں:
1: انیس زکریا نصولی نے عکسی صفحہ پر لکھا ہے:
نقد کی ڈھلائی صرف دمشق میں نہیں ہوتی تھی جیسا کہ آج کل یورپین حکومتوں میں ہے کہ مرکز ہی سکہ سازی کرتا ہے بلکہ جس گورنروں کو سکہ سازی کا اختیار تھا۔ عکسی صفحہ 60،107
اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ پوری اسلامی حکومت میں صرف ایک ہی سکہ جاری نہ تھا اور نہ ہی مرکزی حکومت کی سکہ سازی پر اجارہ داری تھی بلکہ گورنر خود سکہ سازی کرنے کے مجاز ہوتے تھے جبکہ اس کے مقابلے میں روم وغیرہ نے سکہ جات ان کی حکومت کے زیر تسلط تھے تو پھر سکہ سازی میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قیصر و کسریٰ کا اتباع کیسے کیا؟ جبکہ سکہ سازی کے باب میں امیر معاویہؓ کا طریقہ کار کسریٰ و قیصر سے بالکل مختلف تھا۔
نیز یہ بات بھی محض آزاد خیال قلم کار کا شوشہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سکوں پر اپنی تصویر جاری کی تھی، یہ کہانی ان لوگوں کی تراشی ہوئی ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے اللہ واسطے کا بیر رکھتے تھے ورنہ عالم واقعات میں اس کی کوئی شہادت موجود نہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سکوں پر اپنی تصویر جاری کی۔
ارباب علم نوٹ فرمالیں جس صاحب کی کتاب الزام میں پیش کی ہے وہ کوئی صاحب علم ہیں اور نہ ہی اہل السنت کی معتبر شخصیت اور مسلمہ اصول ہے کہ الزام میں ایسی کتاب پیش کی جاتی ہے جو اس مسلک کے لئے قابل اعتبار ہو۔
2: رضاء مصری کی الحسن و الحسین سے جو 3 قابل نفرت الزام لکھے گئے ہیں
(الف) یہ ابو مخنف رافضی، قصہ گو نے ایجاد کیے اور طبری وغیرہ سے ہوتے ہوتے رضا مصری کا ذریعہ معاش بنے
(ب) جیسا کہ نام سے ظاہر ہے"رضا‘‘ کوئی سنی عالم اور دینی راہنما نہیں بلکہ عام طور پر رافضی لوگ رضا وغیرہ کے نام سے پکارے جاتے ہیں لہٰذا اگر مصنف رافضی نہیں تو کم از کم ان کے ہم نوا ضرور ہیں لہٰذا رافضی موجد کی کہانی رافضی یا نیم رافضی کی کتاب سے الزام دینے کیلئے پیش کرنا بالکل ہٹ دھرمی کی بات ہے جس گھر کا یہ فاسد مٹیریل ہے اسی گھر میں ہی اس کو رکھا جائے اہلسنّت کے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہیں۔
3: طبری کے حوالہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر جو الزام دغا گیا ہے رافضی ٹھیکے دار ان طریق الضلالہ کو وہ عکسی صفحہ آنکھیں کھول کر پڑھنا چاہئے، ہمیں انتہائی حیرت ہے کہ رافضی دجل اور فریب کاری میں کتنے بے باک اور جری ہیں کہ دھوکہ دیتے ہوئے ذرا حیاء نہیں آتی، ارباب انصاف متوجہ ہوں عکسی صفحہ پر جتنی روایات درج ہیں اس کے شروع میں جلی حروف سے موٹے پریکٹ میں ( قال ابو مخنف) لکھا ہوا ہے یہ جملہ " قال ابومخنف" اتنا لکھا ہوا ہے کہ 3 نمبر کی عینک لگانے والا عینک اتار کر پڑھ سکتا ہے مگر حیاء کے سرمہ سے بالکل خالی تحقیقی دستاویز کے رافضی لکھاریوں کی آنکھیں یہ الفاظ پڑھ کر یوں گزر گئیں کہ جیسے کچھ بھی لکھا ہوا نہ ہو۔
محترم قارئین کرام! حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ اور اس طرح کے دیگر ریمارکس شیعہ اجتہاد فیکٹری کے بانی و رئیس ابومخنف کے ہیں جس کا تعارف سنی ویب سائٹ میں کئی جگہ ناظرین کرام کی خدمت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ یہ مجتہد اکبر جلا بُھنا رافضی اور من گھڑت قصے تراشنے میں اپنی مثال آپ تھا اس کا بہترین مشغلہ چراغ ایمان پر کالا جالا چڑھا کر تاریک کرنا اور نور ایمان کو فنا کرنا تھا اگرچہ طبری نے یہ روایات جمع کی ہوئی ہیں مگر آپ نے دیکھ لیا کہ طبری کے کالے کاغذوں میں کالے لباس والا ابومخنف روشن و تابناک سیرت و کردار کے مالک امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اپنے گندے ضمیر کی کالک ملنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اب بھلا إن روایات کے سہارے شیعہ لوگ سنیوں کو الزام دیں تو کس درجہ حماقت کی بات ہے؟
4: سید لعل شاہ بخاری کی البیان الاظہر سے بھی الزام پیش کیا گیا ہے۔ ہم جواباً اتنا عرض کرتے ہیں کہ حضرت مدنی رحمۃ اللہ کے خلیفہ اجل حضرت اقدس سیدی مولانا قاضی مظہر حسین رحمہ اللہ نے مذکورہ صاحب کی خوب خبر لی تھی اور اس کی گمراہی و بے اعتدالی سے پردہ چاک کیا تھا اہلسنّت والجماعت کی ترجمانی حضرت قاضی صاحب رحمۃ الله نے فرمائی تھی اور سنی نظریات سے بے بہرہ جناب لعل شاہ صاحب کئی مقامات پر اہل حق کے وصف امتیاز یعنی طریق ااعتدال پر قائم نہیں رہ سکے لہٰذا ان کی تحقیقات محض ان کے اپنے تصورات ہیں اہل حق و ارباب علم کا فرمانا وہی ہے جو قائد اہلسنّت وکیل صاحب حضرت اقدس حضرت قاضی صاحب علیہ الرحمۃ نے لکھا ہے لہٰذا افراط و تفریط کے شکار لعل شاہ بخاری صاحب کی کتاب اہلسنّت والجماعت پر حجت نہیں ہے۔