میری بیٹی! یہ تیرا خاوند ہے جسے اللہ نے تیرے لیے حلال قرار دیا ہے
علی محمد الصلابیسیدنا عبداللہ بن عامرؓ نے ہند بنت معاویہ رضی اللہ عنہما سے شادی کی، جب اسے اس کے خاوند کے پاس بھیجا گیا اور اس نے اس کے پاس جانا چاہا تو اس نے اس سے انکار کر دیا جس پر ابن عامرؓ نے اسے اس زور سے مارا کہ وہ چلا اٹھی، جب باندیوں نے اس کے چلانے کی آواز سنی تو وہ بھی بلند آواز سے رونے لگیں۔ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی آواز سنی تو وہ صورت حال معلوم کرنے کے لیے ان کے پاس گئے تو انہوں نے بتایا: جب ہم نے اپنی مالکہ کی آواز سنی تو ہم بھی چلانے لگیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے تو وہ مار پڑنے کی وجہ سے رو رہی تھی۔ اس پر انہوں نے ابن عامرؓ سے فرمایا: بڑے افسوس کی بات ہے، کیا اس جیسی عورت کو اس جیسی رات میں بھی مارا جاتا ہے؟ پھر اس سے فرمایا: تم ذرا باہر جاؤ، پھر وہ بیٹی کے پاس گئے اور فرمایا: میری بیٹی! یہ تیرا خاوند ہے جسے اللہ نے تیرے لیے حلال قرار دیا ہے، کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا:
من الخضرا ( الخضرات، خضیرۃ کی جمع ہے اور یہ خضر سے مشتق ہے؛ شدت حیاء) البیض اما حرامہا فصعب و اما حلّہا فذلول
’’ان کا شمار شرم و حیا والے لوگوں میں ہوتا ہے جن کے لیے عمل حرام بہت مشکل جبکہ حلال آسان ہے۔‘‘
پھر وہ اس کے پاس سے نکلے اور اس کے خاوند سے فرمانے لگے: اب اندر جاؤ، میں نے تمہارے لیے اس کے اخلاق کو درست کر دیا ہے اور اسے آمادہ کر دیا ہے۔ اس پر ابن عامرؓ اس کے پاس گیا تو معلوم ہوا کہ اب وہ سدھر چکی ہے، لہٰذا اس سے اپنی ضرورت پوری کر لی۔(رحمہم اللہ تعالیٰ)
( البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 464)