Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کیا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول صحیح ہے کہ کریم انسان خوشی سے جھوما کرتا ہے

  علی محمد الصلابی

سیدنا محمد بن عامرؓ سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن جعفر کی موسیقی پر مذمت کی، پھر وہ اپنے ایک آزاد کردہ غلام بدیح کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اس وقت وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ عبداللہ بدیح سے کہنے لگے: گانا سنائیں، جس پر اس نے گانا شروع کر دیا، اس پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی ٹانگ کو حرکت دی تو عبداللہ کہنے لگے: امیر المؤمنین! رک جائیے۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کریم شخص خوشی سے جھوم اٹھتا ہے۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 82)

اس خبر کو بلاذری (انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 2۔ مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 83)

اور ابن عبدربہ (العقد الفرید: جلد 6 صفحہ 21، 22۔ مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 83)

نے بھی بعض منکر اضافوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 83)

اس ضعیف روایت کی تردید اس روایت سے ہوتی ہے جسے طبرانی نے حسن سند کے ساتھ کیسان مولیٰ معاویہ کی سند سے روایت کیا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: لوگو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نو چیزوں سے منع فرمایا ہے، ان سے میں بھی تمہیں منع کرتا ہوں: نوحہ کرنا، مصنوعی بال لگانا، زیب و زیبائش کو ظاہر کرنا، تصاویر، درندوں کے چمڑے، گانا بجانا، سونا، شرم گاہ اور ریشم۔

(المعجم الکبیر:جلد 19 صفحہ 373۔ اس کی سند حسن ہے)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ گانا سننے سے منع فرمایا کرتے اور ایسا کرنے والے کو ناپسند کیا کرتے تھے۔ مدینہ منورہ پر ان کا عامل مروان بن حکمؓ فسق و فجور کے مرتکب لوگوں پر سختی کیا کرتا تھا، وہ اس کی ولایت کے دوران مدینہ سے بھاگ گئے تھے۔

 (الدولۃ و المجتمع فی العصر الاموی: صفحہ 94)