ایک مفسد تاریخی شخصیت عبداللہ بن سبا - ردِ رافضیت | دفاع…

ایک مفسد تاریخی شخصیت عبداللہ بن سبا

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 2

اب آئیے اگلی صدی میں چلیں، حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (852ھ) بھی کہتے ہیں: 

اخبار عبد الله بن سبا شهيرة في التاريخ وليست له رواية ولله الحمد وله اتباع يقال لهم السبائية معتقد والاهية على بن ابى طالب وقد احرقهم على بالنار في خلافته

(لسان المیزان: جلد 3، صفحہ 290)

ترجمہ: عبداللہ بن سبا کی خبریں تاریخ میں عام ہو چکیں اور اس کی کوئی روایت (حدیث و تاریخ میں) نہیں ہے اس پر خدا کا شکر ہے، جو اس کے پیرو ہوںٔے انہیں سبائی کہا جاتا تھا وہ سیدنا علیؓ کی الوہیت کے قائل تھے حضرت علیؓ نے اپنے دورِ خلافت میں انہیں آگ میں زندہ جلایا۔

حافظ ابن حجرؒ اس پر خدا کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ عبداللہ ابن سباء سے کوئی روایت مروی نہیں ہے اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس نے کوئی معروف زندگی نہ گزاری بلکہ وہ زیادہ جاسوس لوگوں کے پیرائے میں رہا کبھی ظاہر اور کبھی مخفی اور اس قسم کے لوگ اسی پیرائے میں رہتے ہیں حتیٰ کہ بعض لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ کوئی فرضی شخصیت ہے تاہم اس کی خبریں اس درجہ میں شہرت پا چکیں کہ اب اس کے بارے میں کوئی شک نہیں کیا جا سکتا اس شخص کا یہ الحادی کردار خبر متواتر کے طور پر چلا اور اس کا ذکر تقریباً تمام بڑے مؤرخین نے کیا ہے۔

معروف شیعہ مورخ مرزا محمد تقی نے ناسخ التواریخ لکھ کہ اپنے زعم میں اپنی پہلی سب تواریخ پر پانی پھیر دیا تاہم عبداللہ ابن سبا کے تاریخی وجود کا اس نے بھی اقرار کیا عبداللہ بن سبا نے مسلمانوں میں کن کن عقائد کو فروع دیا اسے مرزا محمد تقی کی زبانی سنیے اور سر دھنیے( افسوس کیجیئے) گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے 

گفت ہاں اے مردم مگر نشنیده اید کہ نصاریٰ گویند عیسیٰ علیہ السلام بدیں یہاں رجعت کند و باز آید چنانکه در شریعت ما نیز ایں سخن استوار است چوں عیسیٰ رجعت تواں کرد محمد کہ بے گماں فاضلتر از دست چگونه رجعت نه کند و خداوند نیزور قرآن کریم مے فرماید ان الذي فرض عليك القرآن لرادك إلى معاد 

(ناسخ التواریخ: جلد 3، صفحہ، 234)

ترجمہ: اس نے کہا اے لوگو! کیا تم نے سنا نہیں کہ عیسائی کہتے ہیں عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں پھر لوٹیں گے اور دوبارہ آئیں گے جیسا کہ ہم مسلمانوں میں بھی یہ بات پختہ ہے جب عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آسکتے ہیں تو حضور اکرمﷺ جو بلاشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں وہ یہاں دوبارہ کیوں نہ آسکیں گے اور اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن کریم میں حضور اکرمﷺ کو کہا ہے وہ خدا جسں نے تمہیں قرآن دیا ہے البتہ تجھے پھر لوٹائے گا لوٹنے کی جگہ پر۔

اس کا ایک خفیہ کارکن دروازہ پر آیا اور برملا سوال کیا، تمہارا عقیدہ سیدنا علیؓ کے دوبارہ آنے میں کیا ہے؟

سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے اس کی ڈٹ کر تردید کی ہے 

(تذكرة الحفاظ: جلد 1، صفحہ 54)

اسلام میں یہ کوئی معمولی زیادتی نہ تھی امام عجلیؒ کوفی (261ھ) نے اس پر کفر اسلام کا فاصلہ قائم بتلایا ہے اور کہا ہے جو حضرت علیؓ کی رجعت پر ایمان رکھتا ہے وہ کافر ہے(تذکرہ صفحہ 404)

عبداللہ بن سباء کے ایک دوسرے الحادی عقیدے کی ترغیب بھی آپ اس سے سنیں:

 ہمانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم راعلی علیه اسلام وصی و خلیفه بود چنانچه خود فرمودانت منى بمنزلة هارون من موسیٰ، ایزی میتواں دانست که علی علیه السلام خلیفه محمد صلی اللہ علیہ وسلم است (ایضاً)

ترجمہ: یقیناً علی حضرت محمدﷺ کے وصی اور خلیفہ تھے چنانچہ آپ نے انہیں خود کہا تم میرے لیے اس طرح ہو جیسے ہارون، موسیٰ کے لیے تھے اس سے یہ جانا جا سکتا ہے کہ حضورﷺ کے خلیفہ بلا فصل حضرت علیؓ ہیں۔

معلوم نہیں اس سے یہ کیسے جانا گیا کہ آپ کے بعد آپ کے خلیفہ سیدنا علیؓ ہیں، حضرت ہارون علیہ السلام تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ نہ ہوئے تھے وہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہی فوت ہوئے وہ صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ان کے خلیفہ رہے اور یہ ظاہر ہے کہ حضرت علیؓ بھی حضورﷺ کے جنگ تبوک کے جانے کے موقع پر حضورﷺ کے خلیفہ رہے اور حضور اکرمﷺ کے گھر بار کی نگرانی بھی آپ کے سپرد رہی۔

مؤرخین کی یہ متواتر تاریخی شہادتیں اس یہودی کی تاریخی وجود کا پتہ دے رہی ہیں اس نے جن نظریات کو جنم دیا وہ آج تک اثناء عشری مذہب میں جعلی عنوانوں سے تسلیم کیے گئے ہیں اور شیعوں کو اس کے نقش پر چلنے کی خبر دے رہے ہیں ہاں یہ شخص چونکہ ایک خفیہ تحریک کا کارکن تھا اس لیے ہو سکتا ہے کبھی چھپنا کبھی ظاہر ہونا اس کی عادت رہی ہو اسی غلط فہمی میں کسی نے یہ سمجھ لیا ہو کہ یہ کوئی فرضی شخص ہوگا یہ بات صحیح ہے کہ حضرت علیؓ نے اسے زندقہ کی سزا دی اسے آگ میں جلوا دیا اور موت کی گھاٹ اتار دیا اور ظاہر ہے سزائے موت کسی فرضی شخصیت پر جاری نہیں کی جا سکتی وہ کوئی حسی وجود ضرور تھا۔


صفحہ 2 از 2