Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مساجد اور چشموں کا اہتمام کرنا

  علی محمد الصلابی

سیدنا امیر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے مسجد حرام کو بڑی اہمیت دی، اس کو وسعت دی اور اس میں چراغ رکھنے اور انہیں روشن کرنے کے لیے بیت المال سے رقوم جاری کیں اور طواف کرنے والوں کے لیے روشنی کا بندوبست کیا۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ میں بھی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ ان کی طرف سے مصر کے امیر مسلمہ بن مخلد نے 53 ھ فسطاط کی جامع مسجد کی توسیع کی۔ اس کی دیواروں کو پلستر کیا اور اس کے بلند و بالا چار مینار بنائے اور فرش پر چٹائیاں بچھوائیں، ان کے عہد حکومت میں اہل مصر نے مسجدوں میں مینار تعمیر کروائے اور انہیں رات کی نمازوں کے لیے ایک ہی وقت میں اذان دینے کا حکم دیا گیا۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الامویین: صفحہ 347)

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی جامع مسجد کی توسیع کی، پھر زیاد بن ابیہ نے اسے نئے سرے سے تعمیر کیا، اس میں مزید اضافہ کیا اور کنکریوں کا فرش ڈلوایا، وہ کہا کرتا تھا: میں نے کوفہ کی مسجد کے ہر ستون پر اٹھارہ صد درہم خرچ کیے، اس نے مسجد میں ایک مقصورہ بھی تعمیر کروایا جس کی تجدید عراق پر اپنی ولایت کے دوران خالد بن عبداللہ قسری نے کی، بعدازاں عبیداللہ بن زیاد نے جامع مسجد میں اور اضافہ کیا اور اس میں کنکریوں کا فرش لگوایا۔

(ایضاً: فتوح البلدان: صفحہ 340، 399)

زیاد بن ابیہ نے بصرہ کی جامع مسجد میں بہت زیادہ اضافہ کیا، اسے اینٹوں اور چونے سے تعمیر کیا، اس کی بلڈنگ میں ستون تعمیر کیے، اس پر ساج کی چھت ڈالی اور مینار پتھروں سے بنائے، مزید براں اس نے بصرہ میں اور بھی بہت ساری مسجدیں تعمیر کروائیں، عبیداللہ بن زیاد آیا تو اس نے جامع مسجد میں مزید اضافہ کیا۔

(فتوح البلدان: صفحہ 426، 427۔ دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الامویین: صفحہ 348) 

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دولت اسلامیہ میں عوام کے لیے متعدد سہولیات کا اہتمام کیا۔ مدینہ منورہ میں پینے کے پانی کا بندوبست کیا، حرم مکی میں پانی کے لیے چشمے جاری کیے 

(اخبار مکہ: جلد 2 صفحہ 227۔ دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الامویین: صفحہ 341)

اور راستوں پر کنویں کھدوائے اور مملکت اسلامیہ کے مختلف علاقوں کو باہم مربوط کیا۔

(الخلافۃ الامویۃ: عبدالمنعم ہاشمی: صفحہ 25)