سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں شیعہ علماء کا مجموعی عقیدہ کیا ہے؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 1 از 3

حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے بارے میں شیعہ علماء کا مجموعی عقیدہ کیا ہے؟

جواب: شیعہ علماء کا شیخین حضرت عمر رضی اللہ عنہ و سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لعن طعن کرنے، ان سے براءت کا اظہار کرنے پر اتفاق ہے بلکہ ان کے نزدیک یہ کام امامیہ کی ضروریات دین میں سے ہے۔ 

(العقائد: صفحہ، 58)

اور گزشتہ صفحات پر گزر چکا کہ شیعہ عقیدے کے مطابق ضروی اور لازمی چیز کا منکر کافر ہے۔ یہ بھی شیعی عقیدہ ہے کہ جو شخص شام کو شیخین کو گالیاں بکے صبح تک اس کا کوئی گناہ لکھا نہیں جاتا۔ 

(دیکھئے ضياء الصالحين: صفحہ، 513)

ان کے امام علامہ مجلسی نے یہ افتراء پردازی کی ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے غلام سے روایت ہے کہ: بعض تنہائی کی مجالس میں می بھی آپؓ کے ساتھ تھا۔ میں نے عرض کی بیشک آپ پر میرا حق ہے کہ آپ مجھے ان دونوں اشخاص سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں خبر دیں؟۔

تو آپ نے کہا: یہ دونوں کافر تھے اور ان سے محبت کرنے والے بھی کافر ہیں۔

(بحار الانوار: جلد، 30 صفحہ، 381 ح، 165 باب كفر الثلاثة، مستدرك الوسائل: جلد، 18 صفحہ، 178)

نیز ان دونوں کے دلوں میں ذرہ برابر بھی اسلام نہیں تھا۔

(وصول الأخيار الى أصول الأخبار: صفحہ، 94) 

ان کے علامہ مجلسی نے یوں گل افشانیاں کی ہیں:

جب سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ نے ہجرت کی تو انہوں نے اسلام کی خاطر ہجرت نہیں کی تھی بلکہ وہ دونوں اپنے کفر پر قائم تھے۔ ان کا اسلام لانا نفاق تھا۔ اور ان کی ہجرت نافرمانی اور بدبختی تھی۔

یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں داخل ہیں:

الْأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا (سورۃ التوبة: آیت، 97)

ترجمہ: بیشک اعراب کفر اور نفاق میں بہت سخت ہوتے ہیں۔

(مرآة العقول: جلد، 25 صفحہ، 125 ح، 18 الحسين بن عبد الصمد)

شیعہ کے معاصر آیت اللہ عبد الحسین المرتشی نے یہ گل افشانی کی ہے کہ:

بیشک سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ تا قیامت اس امت کی گمراہی کے دو سبب ہیں۔

(كشف الاشتباه: صفحہ، 98)

چنانچہ یہ روایت گھڑلی ہے کہ ابو عبد اللہؒ نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد:

رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَيۡنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ نَجۡعَلۡهُمَا تَحۡتَ اَقۡدَامِنَا لِيَكُوۡنَا مِنَ الۡاَسۡفَلِيۡنَ۞

(سورة حٰم سجده: آیت، 29)

ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ دونوں (فریق) رکھا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، ہم انہیں اپنے پاؤں تلے روند ڈالیں تا کہ وہ انتہائی ذلیل و خوار لوگوں میں سے ہوں۔

کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا دو فریق سے مراد وہ دونوں (ابو بکرؓ و عمرؓ) ہیں۔ پھر فرمایا فلاں تو شیطان تھا۔

(الروضة من الكافی: جلد، 8 صفحہ، 2138 ح، 523)

شیعہ علامہ مجلسی کہتا ہے: دونوں فریق سے مراد ابو بکرؓ و عمرؓ ہیں اور فلاں سے مراد عمرؓ ہے۔

(مرآة العقول: جلد، 26 صفحہ، 488، 523)

شیعہ علماء کے استاد الکلینی نے مقدس کتاب الکافی میں دو روایات ذکر کی ہیں جن میں اس شخص کا حکم بیان کیا گیا ہے جو یہ سمجھتا ہوں کہ ابو بکرؓ اور عمرؓ مسلمان تھے۔ وہ ابو عبد اللہؒ سے روایت کرتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں جن سے روز قیامت اللہ کلام نہیں کرے گا، نہ ہی انہیں گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ ایک وہ شخص جس نے اللہ کی طرف سے امامت کے حق کا دعویٰ کیا، حالانکہ وہ اس کا اہل نہ تھا۔ دوسرا وہ شخص جس نے اللہ کی طرف سے مقرر کردہ امام کا انکار کیا۔ اور تیسرا وہ شخص جو کہتا ہے کہ ابو بکرؓ و عمرؓ مسلمان تھے (یا اسلام میں ان کا کوئی نصیب و حصہ تھا) 

(اصول الکافی: جلد، 1 صفحہ، 279، 280 كتاب الحجة: جلد، 4 صفحہ، 12) 

شیعہ لوگ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو قریش کے "دو بت" کا نام دیتے ہیں۔ ان کے عالم علی الکرکی نے کہا ہے: یہ بات مشہور ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علیؓ نمازِ وتر میں قریش کے دونوں بتوں پر لعنت کیا کرتے تھے اور ان سے مراد ابوبکرؓ و عمرؓ لیا کرتے تھے۔

(نفحات اللاہوت فی لعن الجبت والطاغوت: صفحہ، 192 الفصل السابع لعلى الكركی) 

ابراہیم الکفعمی (متوفی 900ھ) کی کتاب (البد الامین والدرع الحصین) میں شیعوں کی وہ مشہور دعا لکھی ہے جسے وہ اپنی طرف سے جھوٹ بولتے ہوئے سیدنا علیؓ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس دعاء میں ابوبکرؓ و عمرؓ اور ان کی بیٹیوں عائشہؓ و حفصہؓ کو بد دعائیں دیتے ہیں اور یہ دعا ان کے صبح وشام کے اذکار میں شامل ہے۔ دعا درج ذیل ہے:

اللهم العن صنمی قريش، وجبتيها، و طاغوتيها، و ابنتيهما، اللذين أكلا أنعامك و جحدا آلائك، و خالفا أمرك و أنكرا وحيك، و عصيا رسولك، و قلبا دينك و حرفا كتابك، و عطلا أحكامك، وأبطلا فرائضك، و ألحدا فی آياتك، و عاديا أوليائك، و وليا أعدائك، وأفسدا عبادك، وأضرا ببلادك، اللهم العنهما وأنصارهما، فقد أخربابيت النبوة وردما بابه، ونقضا سقفه، وألحقا سماه بأرضه وعاليه بسافله، وظاهره بباطنه، واستأصلا أهله، وأبادا أنصاره وقتلا أطفاله، وأخليا منبره من وصيه، و وارث علمه، و جحدا نبوته، وأشركا بربهما فعظم ذنبهما، وخلدهما فی سقر، وما أدراك ما سقر، لا تبقى ولا تذر اللهم العنهم بعدد كل منكر أتوه، و حق أخفوه و منبر علوه، و منافق و لوه، و ولى آذوه و طريد آووه، و صاحب طردوه و كافر نصروه، و إمام قهروه و فرض غيروه و أثر أنكروه، و شر أضمروه و دم اراقوه، و خير بدلوه، حكم قلبوه و كفر أبدعوه، و كذب دلسوه، وإرث غصبوه وفیء اقتطعوه، و سحت أكلوه، و خمس استحلوه و باطل أسسوه وجور بسطوه و ظلم نشروه، و وعد أخلفوه، وعهد نقضوه، وحلال حرموه، وحرام حللوه، ونفاق أسروه وغدر أضمروه وبطن فتقوه وضلع كسروه وصك مزقوه، وشمل بددوه، وعزيز أذلوه وذليل أعزوه، وحق منعوه وإمام خالفوه۔ 

صفحہ 1 از 3