سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں شیعہ علماء کا مجموعی عقیدہ کیا ہے؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 2 از 3

اللهم العنهم كل آية حرفوها، وفريضة تركوها، وسنة غيروها، وأحكام عطلوها، وأرحام قطعوها وشهادات كتموها، ووصية ضيعوها، أيمان نكثوها، ودعوى أبطلوها وبيعة أنكروها، وحيلة أحدثوها، وخيانة أوردوها، وعقبة ارتقوها، ودباب دحرجوها، وأزياف لزموها، اللهم العنهما فی مكنون السر، وظاهر العلانية، لعنا دائما دائبا، سرمدا، لا انقطاع لأمده، ولا نفاد لعدده، لعنا يغدو أوله، ولا يروح آخره لهم، ولأعوانهم، وأنصارهم، ومحبيهم، ومواليهم، والمسلمين اليهم والناهضين باحتجاجهم، والمقتدين بكلامهم، والمصدقين بأحكامهم۔

ترجمہ: اے اللہ قریش کے دو بتوں اور جبت پر ان کے دونوں طاغوتوں پر، اور ان کی دونوں بیٹیوں پر لعنت کر جنہوں نے تیری نعمتیں کھائیں اور تیرے انعام کا انکار کیا۔ تیرے حکم کی مخالفت کی۔ اور تیری وحی کا انکار کیا، تیرے رسول کی نافرمانی کی، تیرے دین کو بدل ڈالا ، تیری کتاب میں تحریف کردی، تیرے احکام کو معطل کر ڈالا۔ تیرے فرائض کو باطل کر دیا۔ تیری آیات میں الحاد کیا، تیرے اولیاء سے دشمنی کی اور تیرے دشمنوں سے محبت کی، اور تیرے بندوں کو تباہ کر دیا۔ تیرے ملک میں ضرر پھیلایا۔ اے اللہ! ان دونوں پر اور ان کے انصار پر لعنت کر۔ انہوں نے یقیناً نبوت کے گھرانے کو ویران کر دیا اور ان کے دروازے کو توڑ دیا اس کی چھت کو گرا دیا اور گھر کے آسمان کو زمین کے ساتھ ملا دیا۔ بالائی حصہ کو نچلے حصہ سے ملا دیا۔ ظاہر اور باطن کو ایک کر دیا۔ اور اہلِ بیتؓ کی جڑیں کاٹ دیں۔ ان کے بچوں کو قتل کیا، نبی کے وصی سے منبر خالی کرالیا جو کہ اس کے علم کا وارث بھی تھا۔ انہوں نے اس کی نبوت کا انکار کیا، اپنے رب کے ساتھ شرک کیا، ان کے گناہ کو اور بڑھا دے۔ اور انہیں جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پھینک دے۔ اور تجھے کیا معلوم کہ جہنم کی وادی سقر کیا؟ یہ وہ وادی ہے جو کسی چیز کو باقی نہیں چھوڑتی۔ اے اللہ! انہیں ان کے ہر برے عمل پر لعنت کر، اور جو حق انہوں چھپایا اور جتنے بھی منبروں پر چڑھے اور جتنے اہلِ نفاق سے انہوں نے دوستی کی، اور مومنوں کو دور کیا یا ولی کو اذیت دی یا راندہ درگاہ کو پناہ دی یا حق دار کو راندہ درگاہ کیا یا جتنے کافروں کی مدد کی یا امام کو مغلوب کیا؟ اور فرائض میں تبدیلی کی یا اثر کو بدل ڈالا یا جتنا بھی شر انہوں نے چھپایا جتنا بھی خون بہایا؟ جتنی بھی احادیث کو بدلا احکام کو تبدیل کیا؟ کفر ایجاد کیا؟ یا جھوٹ کی تدلیس کی وراثت کو غصب کیا؟ یا مال فئے کو ختم کیا، جتنا بھی حرام کھایا جس کو اپنے لیے حلال کیا؟ یا باطل کی بنیاد رکھی جتنا بھی ظلم پھیلایا ظلم کو پذیرائی دی وعدوں کی خلاف ورزی کی عہد و پیمان کو توڑا حلال کو حرام کیا یا حرام کو حلال کیا نفاق کو دل میں چھپایا غدر کو پوشیدہ رکھا، جتنے بھی پیٹ چاک کئے پسلیاں توڑیں، تحریروں کو پھاڑا جتنی بھی پگڑیوں کو اچھالا ذلیلوں کو عزت دی یا عزت داروں کو ذلیل کیا جتنا بھی حق روک لیا یا امام کی مخالفت کی اتنی ہی تعداد میں ان پر لعنت کر۔ 

اے اللہ! ان کی ہر تحریف کردہ آیت کی تعداد میں ان پر لعنت کر اور ہر اس فریضہ کی تعداد میں جو انہوں نے ضائع کیا یا سنت کو تبدیل کر دیا یا دعویٰ کو باطل کر دیا اور بیعت کا انکار کیا اور حیلہ جو ایجاد کیا؟ یا پھر خیانت کا ارتکاب کیا یا جتنی بھی گھاٹیوں پر چڑھے۔ یا جتنے بھی دباب لڑھکائے؟ یا جو بھی ناکارہ چیز انہوں نے اپنے اوپر لازم کر لی (اس کی تعداد میں ان پر لعنت کر) اے اللہ! اپنے سربستہ راز میں اور کھلے اعلانیہ میں ان پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لعنت کر دائمی و ابدی لعنت کر جو کہ ختم ہونے والی نہ ہو۔ اور نہ ہی اس کی تعداد کی کوئی منتہا ہو۔ ایسی لعنت کہ جس کی صبح ہو مگر شام نہ ہو۔ ان پر ان کے اعوان و انصار ان سے محبت کرنے والے اور دوستی رکھنے والے ان کی بات ماننے والے اور ان کا دفاع کرنے والے اور ان کا کلام پیش کرنے والے اور ان کے احکام کی تصدیق کرنے والے سب پر لعنت کر۔ پھر اس دعا کے بعد چار بار کہے: اے اللہ! ان پر لعنت کا ایسا عذاب برسا کہ جس سے اہلِ جہنم بھی پناہ مانگتے ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔

(البلد الأمين والدرع الحصين: صفحہ، 646 علم اليقين، جلد، 2 صفحہ، 701، 703 مفتاح الجنان: صفحہ، 113، 114 تحفه عوام مقبول: صفحہ، 423، 424)

علامہ مجلسی صاحب اس دعاء کے بارے میں رقمطراز ہیں یہ بہت ہی عظیم الشان رفیع المرتبت دعا ہے۔ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کی طرف یہ قول منسوب کیا ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ دعائےقنوت میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ اور کہا کرتے تھے: 

یہ دعا کرنے والا بالکل ایسے ہی ہے جیسے نبی کریمﷺ کے ساتھ مل کر بدر و احد اور حنین کے جہاد میں دس لاکھ تیر چلانے والا۔

(بحار الأنوار : جلد 85 صفحہ، 260 كتاب الصلاة باب: القنوتات الطويلة المروية عن أهل بيت عليهم السلام)

نیز شیعہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو فرعون اور ہامان کا لقب بھی دیتے ہیں۔ چنانچہ روایت کرتے ہیں کہ ان کے راوی مفضل نے ابو عبد اللہ سے پوچھا: اے میرے آقا! فرعون اور ہامان کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا: سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ ہیں۔

(مختصر بصائر الدرجات: صفحہ، 424 قرة العيون:صفحہ، 432، 433 بحار الانوار: جلد 53 صفحہ، 17 الزام الناصب فی اثبات الحجة الغائب: جلد، 2 صفحہ، 285)

ایسے ہی حضراتِ شیخینؓ  کو دشمنین (دو مورتیاں) کا نام بھی دیتے ہیں۔ اس بارے میں عیاشی بہتان تراشی کرتے ہوئے روایت کرتا ہے کہ ابوحمزہ نے ابوؒجعفر سے سوال کیا اللہ آپ کی اصلاح فرمائے، اللہ کے دشمنوں سے کون مراد ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ان سے چار بت مراد ہیں۔ میں نے عرض کی وہ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا:

ابو الفصیل (ابو بکرؓ کی توہین کرنے کے لئے گھڑا گیا نام) رمع (عمرؓ کو الٹا کر بنایا گیا اسم) نعثل بوڑھا بجو مراد (عثمانؓ لیتے ہیں) اور معاویہؓ۔ اور جس نے ان کے دین کو اختیار کیا، جس نے ان کے ساتھ دشمنی کی اس نے اللہ کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی کی۔

(تفسير العياشی: جلد، 2 صفحہ، 122 حدیث نمبر: 155 بحار الأنوار: جلد 27 صفحہ، 58 حدیث نمبر: 16)

صفحہ 2 از 3