سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں شیعہ علماء کا مجموعی عقیدہ کیا ہے؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 3 از 3

ایسے ہی شیعہ کے ہاں اللات و العزی سے مراد سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ ہیں۔

(كمال الدين و تمام النعمة: جلد، 1 صفحہ، 240، ح، 2 باب: 23 نص الله تبارك و تعالىٰ على القائم و أنه الثانی عشر من الأئمة عليهم السلام عيون أخبار الرضا: جلد، 1 صفحہ، 84 كتاب الرجعة: صفحہ، 112 لأحمد الأحسائی)

شیعہ کے نزدیک بے شک آدم علیہ السلام کے دور سے لے کر تا قیامت جو گناہ بھی کیا جائے گا تو وہ ابوبکرؓ اور عمرؓ کافعل ہوگا! شیعہ روایت کے مطابق ابو عبد اللہؒ نے کہا ہے: 

یہی وہ دونوں ہیں جنہوں نے ہابیل بن آدم علیہ السلام کو قتل کیا، ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ جلائی، یوسف علیہ السلام کو کنویں میں پھینکا، یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں قید کیا، یحییٰ علیہ السلام کو قتل کیا، عیسیٰ علیہ السلام کو سولی چڑھایا، جرجیس اور دانیال کو عذاب میں مبتلا کیا، سیدنا سلمان فارسیؓ کو مارا امیر المومنین سیدنا علیؓ، فاطمہؓ اور حسنؓ و حسینؓ کو جلانے کے لیے ان کے دروازے پر آگ جلائی۔ صدیقہ کبریٰ فاطمہؓ کے ہاتھ پر کوڑا برسایا اور ان کے پیٹ میں ٹانگ مار کر ان کے بیٹے محسن کا حمل گرایا، حسنؓ کو زہر دیا اور حسینؓ کو قتل کیا، ان کے بچوں کو ذبح کیا اور ان کے چچا زاد بھائیوں کو مار ڈالا اور ان کے انصار کو قتل کر دیا۔ رسول اللهﷺ کی اولاد کو لونڈیاں بنا لیا، اور آلِ محمدﷺ کا خون بہایا۔ لہٰذا ہر خون جو بہایا گیا اور ہر شرم گاہ جو حرام طریقہ سے استعمال کر لی گئی، اور ہر زنا، ہر بد معاشی، بے حیائی، گناہ ظلم و جور اور غنڈہ گر دی جو آدم علیہ السلام کے عہد سے لے کر القائم کے ظہور تک ہو گی وہ ان دونوں کے ذمے ہو گی اور ان کے کھاتے میں ڈالی جائے گی۔ یہ دونوں ان کا اعتراف کریں گے۔ لہٰذا حاضرین مجلس کے مظالم کا ان سے بدلہ لیا جائے گا۔ پھر انہیں درخت پر سولی دے گا اور زمین سے نکلنے والی آگ کو حکم دے گا جو انہیں درخت سمیت جلا دے گی۔ پھر وہ ہوا کو حکم دے گا تو وہ انہیں سمندر میں پھینک دے گی۔

مفضل کہتا ہے: میں نے کہا اے میرے آقا! کیا یہ ان کا آخری عذاب ہوگا؟ انہوں نے کہا افسوس ہے اے مفضل! بالکل نہیں۔ اللہ کی قسم! ان سے ہر ظلم کا بدلہ لیا جائے گا یہاں تک کہ انہیں ہر روز ایک ہزار مرتبہ قتل کیا جائے اور ان کے رب نے جب تک چاہا ان کو جہنم میں ڈالے گا۔

(مختصر بصائر الدرجات: صفحہ، 415 صفحہ، 512 الزام الناصب: جلد، 2 صفحہ، 281)

آخری بات:

تمام شیعہ علماء کا اجماع ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ مشرک تھے اور وہ دونوں نبی کریمﷺ کی زندگی میں منافقت کے ساتھ اسلام کا اظہار کرتے تھے۔

(الفصول المختاره للمفيد: صفحہ، 26) 

اور اس بات پر بھی شیعہ علماء کا اتفاق ہے کہ: یہ دونوں حضرات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پہلے خلیفہ بننے کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ ان کے عالم علامہ مفید کا کہنا ہے کہ: فرقہ امامیہ اور بہت سارے زیدیہ کا اجماع ہے کہ حضرت امیر المؤمنین سے پہلے خلیفہ بننے والے گمراہ اور فاسق تھے۔ اور امیر المؤمنین کو رسول اللہﷺ کے مقام سے پیچھے کرنے کی وجہ سے ظالم اور نافرمان ہیں، اور یہ دونوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے۔

(أوائل المقالات: صفحہ، 41-42 القول فی المتقدمين على أمير المؤمنين)

علامہ مجلسی نے کہا ہے: میں کہتا ہوں کہ وہ روایات جو کہ سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ اور ان کے امثال کے کفران پر لعنت کرنے کے ثواب اور ان سے اور ان کی بدعات سے برات کے اظہار کو متضمن ہیں ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس مجلد میں؟ یا پھر کئی ایک مجلدات ان کا تذکرہ کرنے کی گنجائش ہی موجود نہیں۔ اور جتنی روایات ہم نے ذکر کی ہیں وہ ان لوگوں کے لیے کافی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دینا چاہے۔

(بحار الأنوار: جلد، 30 صفحہ، 399 ح: 165 باب: كفر الثلاثة ونفاقهم وفضائح أعمالهم و قبائح آثارهم)

معاصر شیعہ عالم ابوعلی الاصفہانی نے کہا ہے: سیدنا

ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کے کفر کا مسئلہ ایک مسلمہ مسئلہ جس پر بہت ساری روایات دلالت کرتی ہیں اور ان میں سے چند ایک روایات کا تذکرہ ہم بطورِ تبرک کے کریں گے۔

(فرحة الزہراء: صفحہ، 33 عدم أيمان أبی بكرؓ و عمرؓ)

تعلیق:

جس شخص کے پاس عقل و خرد کی رتی بھی موجود ہو، کیا وہ ایسی خرافات کی تصدیق کر سکتا ہے؟

اپنی چھری اپنا گلا:

کلینی روایت کرتا ہے کہ ایک عورت نے سیدنا جعفر صادقؒ سے سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمرؒ کے بارے میں سوال کیا تو عرض کی کیا آپ ان دونوں کو دوست سمجھتے اور ان سے محبت کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا تم ان سے محبت رکھو۔ اس نے کہا میں جب اپنے رب سے ملوں تو اسے کہہ دوں کہ تم نے مجھے ان دونوں سے محبت رکھنے کا حکم دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔

(الروضة من الكافی: جلد، 8 صفحہ، 1995 حدیث نمبر : 71 حديث أبی بصير مع المرأة: جلد، 8 صفحہ، 2079 حديث نمبر: 319 حدیث علی بن حسین)

اسی پر بس نہیں بلکہ زید بن علی بن حسین بن علیؓ بن ابی طالب نے اپنے ساتھیوں کو بتایا تھا انہوں نے اپنے آباء و اجداد میں سے کسی کو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سے برأت کا اظہار کرتے ہوئے نہیں سنا۔ 

(الانتفاضات الشيعة: صفحہ، 497)

شیعہ عالم ابو جعفر محمد بن حبیب نے کہا ہے کہ: سیدنا زیدؒ کی وجہ سے ان لوگوں کا نام رافضی پڑا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے حضرت کی بیعت کی اور پھر آپ کا امتحان لینے لگے؟ تو آپ نے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ ہی سے محبت وموالات کا اظہار کیا تو انہوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا۔ اس دن سے ان کا نام رافضی پڑ گیا۔

(المحبر: صفحہ، 483 لمحمد بن حبيب (متوفى 245ھ) الصوارم: صفحہ، 225 رقم، 76 إنا نرفضك فقال إذهبواأنتم الرافضة، اور انہوں نے کہا ہم آپ کی امامت نہیں مانتیں تو انہوں جاؤ تم رافضی ہو)


صفحہ 3 از 3