امیر معاویہ (رضى الله عنه) کی حکومت غیر قانونی اور ظالمانہ تھی۔ (ادب القاضی)
مولانا ابوالحسن ہزارویامیر معاویہ (رضى الله عنه) کی حکومت غیر قانونی اور ظالمانہ تھی۔ (ادب القاضی)
الجواب اہلسنّت
پُورا ہی صفحہ دیکھ کر قبر حشر کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے 'غیر قانونی حکومت کا تصور کہاں سے حاصل کیا گیا۔ اس موقع پر کتاب میں نہ تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ظالم کہا گیا اور نہ ہی ان کی حکومت کے لیے کوئی غیر قانونی حکومت کا لفظ استعمال ہوا البتہ یہ بات صاف صاف مذکور ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی معاونت کی ان کے منصب کو قبول کیا اور تعاون کرنے میں پیش پیش رہے۔ یہ لفظ کہ صحابہ کرام نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے ذمہ داری قبول کیں۔“ (عکسی صفحہ ) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے منصف اور عادل ہونے کی بین دلیل ہے کیونکہ خُود صاحب کتاب اسی عکسی صفحہ پر یہ قانون واضح طور پر لکھ چُکے ہیں کہ جب یہ اندیشہ ہو کہ قاضی انصاف قائم نہ رکھ سکے گا تو ایسی صورت میں عہدہ قضاء قبول کرنا جائز نہیں. ہاں البتہ انصاف کر سکنے کی توقع ہوتو پھر عہدہ قبول کرنے میں حرج نہیں اس ضابطہ کی روشنی میں صحابہ کا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے عہدہ قبول کرنا اور ذمہ داریوں کو حاصل کر کے پورا کرنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عادل ہونے کی بذات خود دلیل ہے۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عادل ہونے پر صرف یہی دلیل ہے۔ بلکہ اس کے علاوہ دیگر کئی دلائل واضح طور پر موجود ہیں جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عدل پر دال ہیں ہم نے گذشتہ الزامات میں بطور نمونہ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے ان کے عادل ہونے کی شہادت پیش کر دی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔