علمی دلچسپی
علی محمد الصلابیسیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ امراء، علماء اور فرزندان امت مسلمہ کو تہذیبی ثقافتی اٹھان کے لیے متحرک ہونے کے لیے حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے ان کے دور حکومت میں تفسیر، علوم القرآن، فقہ اور عقیدہ جیسے علوم کو خوب ترقی ملی اور متعدد ایسے ممتاز علماء پیدا ہوئے جن کے بعد مسلمان آج تک ان کے علوم سے استفادہ کرتے اور ان کے اقوال و اجتہادات سے استشہاد کرتے چلے آئے ہیں، جن میں عبداللہ بن عباس، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر وغیرہم رضی اللہ عنہم قابل ذکر ہیں۔ اس دوران قرآن کریم، سنت نبویہ، فقہ اور عربی زبان کو رئیسی علوم کی حیثیت حاصل تھی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان علوم کے علاوہ دیگر کئی علوم کا اہتمام کیا کرتے تھے، مثلاً:
تاریخ
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو سب سے پہلے عربی زبان میں تاریخ مدون کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس جگہ تاریخ سے مغازی نبویہ، قصص الانبیاء، امام العرب اور انساب مراد نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد گزشتہ امتوں کی تاریخ، بادشاہوں کے اطوار و احوال اور سیاست کے مختلف انداز ہیں جن سے آگاہ رہنا بادشاہوں اور حکمرانوں کے لیے ضروری ہے۔
(الدولۃ الامویۃ: حمدی شاہین: صفحہ 454۔ التاریخ العربی: جلد 1 صفحہ 95)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ رات کا ایک تہائی حصہ نیند لیتے پھر بیدار ہو کر بیٹھ جاتے اور پھر بادشاہوں کے احوال و واقعات ان کی سیرت و کردار، جنگوں کے بارے معلومات اور جنگی حربوں پر مشتمل کتب تاریخ انہیں پڑھ کر سنائی جاتیں اور یہ ذمہ داری اس کام کے لیے مقرر کردہ غلام ادا کرتے وہ اس قسم کا مواد یاد کرتے اور ہر رات انہیں سنایا کرتے۔
(مروج الذہب: جلد 2 صفحہ 41۔ الدولۃ الامویۃ: حمدی شاہین: صفحہ 455)
انہوں نے عبیدہ بن شربہ کو اپنے ہاں تشریف لانے کی دعوت دی۔ ان کا شمار یمن اور دمشق کے ممتاز علماء تاریخ میں ہوتا تھا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے گزشتہ لوگوں کے حالات و واقعات اور عرب و عجم کے بادشاہوں کے بارے میں مختلف معلومات حاصل کرتے، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے کاتبین کو حکم دیا تھا کہ عبیداللہ بن شربہ انہیں جو کچھ بتائیں اسے لکھ لیا کریں، چنانچہ انہوں نے ان سے سن کر کتاب الامثال، کتاب الملوک اور اخبار الماضیین (ایضاً: جلد 2 صفحہ 85۔ ایضاً: صفحہ 455۔ التعلیم فی العصر الاموی: انتصار السیتی: صفحہ 177) نامی کتابیں مدون کیں۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے صرف عبیدہ ہی نہیں بلکہ عرب و عجم سے اور بھی کئی ایسے لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے جو گزشتہ اقوام کے حالات و واقعات سے آگاہ ہوتے اور جن سے وہ انہیں مستفید کیا کرتے تھے۔
(التاریخ العربی و المؤرخون: جلد 1 صفحہ 95۔ الدولۃ الامویۃ: حمدی شاہین: 455)
سیاستدانوں، بادشاہوں اور حکمرانوں کے لیے تاریخ بڑی اہمیت کی حامل ہے، تاریخ سے بخوبی آگاہ سیاستدان میدان عمل میں دوسروں سے بڑھ کر کامیاب ہوا کرتا ہے، اس لیے کہ تاریخ اور سیاست میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔