Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خوارج عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں

  علی محمد الصلابی

خوارج اس نام سے معرکہ صفین میں تحکیم کے بعد معروف ہوئے۔ قبل ازیں ان کا شمار سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے انصار میں ہوتا تھا، یہ لوگ جنگ جمل اور معرکہ صفین میں ان کے ساتھ تھے، بعد ازاں وہ تحکیم کو مسترد کرتے ہوئے ان کی مخالفت پر اتر آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں مطمئن کر کے واپس اپنی جماعت میں لانے کی بڑی کوشش کی مگر وہ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے اور پھر انہوں نے انتہا پسندی سے کام لیتے ہوئے زمین میں فساد برپا کر دیا۔ سیدنا امیر علی رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی اور ان میں سے زیادہ تر لوگوں کا جنگ نہروان میں خاتمہ کر دیا۔ وہ اپنے لیے خوارج کے نام کو پسند نہیں کرتے تھے اس لیے کہ انہیں اس نام سے ان کے مخالفین نے موسوم کیا تھا جس کی وجہ ان کا مسلمانوں کے ایام اور ان کی جماعت کے خلاف خروج کرنا تھا، وہ اپنے آپ کو شراۃ کے نام سے موسوم کیا کرتے تھے کیوں کہ انہوں نے اس امید سے اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ کے لیے فروخت کر دیا تھا کہ انہیں آخرت میں جنت کا داخلہ نصیب ہو گا۔ ان کا اشارہ اس ارشاد باری تعالیٰ کی طرف تھا:

اِنَّ اللّٰهَ اشۡتَرٰى مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ بِاَنَّ لَهُمُ الۡجَــنَّةَ‌۞ (سورۃ التوبة آیت نمبر 111)

ترجمہ: واقعہ یہ ہے کہ اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بات کے بدلے خرید لیے ہیں کہ جنت انہی کی ہے۔

خوارج کو محکمۃ بھی کہا جاتا ہے، اس لیے کہ انہوں نے ((لَا حُکْمَ اِلَّا لِلّٰہِ)) کا نعرہ لگایا تھا۔ نیز ان پر حروریۃ کا بھی اطلاق کیا جاتا ہے، یہ حروراء نامی اسی بستی کی طرف نسبت ہے جو کوفہ کے مضافات میں واقع ہے اور جہاں وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغاوت کرنے کے بعد پہلی دفعہ جا ٹھہرے تھے۔

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 454)

چونکہ ان کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کا سبب ان کے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان واقعہ تحکیم تھا، لہٰذا انہوں نے خلافت کے بارے میں جو نظریہ اختیار کیا وہ دو عام اصولوں پر قائم تھا جن پر ان کے مختلف گروہوں کا اتفاق ہے۔

(النظریات السیاسیۃ الاسلامیۃ' محمد رضا: صفحہ 57 )

پہلا اصول: خلافت قریش کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جیسا کہ اہل سنت کا مذہب ہے۔

(الدولۃ الامویۃ فی المشرق، محمد النجار: صفحہ 87)

بلکہ ہر وہ مسلمان اس کا استحقاق رکھتا ہے جو اس کی اہلیت رکھتا ہو اگرچہ وہ حبشی غلام ہو۔ خلیفہ کا مسلمانوں کے آزادانہ اختیار کے ذریعے منتخب ہونا ضروری ہے، پھر جب اس کا انتخاب پایہ تکمیل کو پہنچ جائے تو پھر نہ تو اس کے لیے اس منصب سے الگ ہونا جائز ہے اور نہ ہی وہ تحکیم کو قبول کر سکتا ہے، اس اصول کی روشنی میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کو تسلیم کرتے ہیں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے نصف اوّل کو تسلیم کرتے جبکہ بعد ازاں کے عہد خلافت سے لاتعلقی کا اظہار کرتے اور انہیں کافر بتاتے ہیں، جہاں تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے تو وہ ان کی خلافت کا آغاز سے لے کر تحکیم سے قبل تک اعتراف کرتے ہیں جبکہ تحکیم کے بعد نہ صرف یہ کہ ان کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ انہیں کافر گردانتے ہیں۔

(مقالات الاسلامیین: جلد 1 صفحہ 89، 156)

اسی طرح وہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور بنو امیہ کی خلافت کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔

(الدولۃ الامویۃ فی المشرق: صفحہ 87)

اور انہیں کافر بتاتے ہیں۔ خوارج سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ، طلحہ، زبیر، عمرو بن العاص اور ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہم کو بھی کافر کہتے ہیں۔ المختصر وہ مسلمانوں میں سے ہر اس شخص کو کافر گردانتے ہیں جو ان کی رائے سے اختلاف کرتا اور ان کے مذہب کو اختیار نہیں کرتا، اس بنا پر وہ ان کے ملک کو دار الکفر خیال کرتے، ان کے اموال اور خون کو مباح قرار دیتے اور ان کے بچوں تک کے قتل کو جائز تسلیم کرتے ہیں۔

(مقالات الاسلامیین: جلد 1 صفحہ 159، 189)

دوسرا اُصول: دوسرا اصول جس پر نظریہ خوارج قائم ہے وہ یہ ہے کہ ظالم امام کے خلاف خروج کرنا واجب ہے۔

(النظریات السیاسیۃ الاسلامیۃ: صفحہ 57)

خارجی نظریات کا یہ پہلو انتہائی خطرناک ہے، اگر ان کا اختلاف نظری اختلاف تک محدود رہتا یا دلیل و برہان کے ساتھ جدل و جدال سے آگے نہ بڑھتا تو معاملہ بالکل آسان تھا، مگر انہوں نے اپنے مخالفین کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے اور اس کا آغاز سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے کیا اور بزورِ بازو اپنی آراء اور اپنے مذہب کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کی، وہ جس طرح اپنی رائے اور مذہب میں انتہا پسند ثابت ہوئے اسی طرح طاقت اور تشدد کے استعمال میں بھی آخری حد تک جا پہنچے، اسی طرح انہوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے آپ کو بلکہ امت کو بھی شدید نقصان پہنچایا اور دولت امویہ کو سنگین صورتِ حال سے دوچار کر دیا جس کے وہ زبردست مخالف تھے۔

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 455)

خوارج کے بارے میں مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیں میری کتاب: ’’سیرۃ امیر المومنین علی بن ابوطالب شخصیتہ و عصرہ‘‘۔

(سیرۃ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ' صفحہ 633)

جیسا کہ ہم نے ابھی ذکر کیا خوارج کی تحریک کی خطرناکی ان کی شدت پسندی میں پنہاں تھی اور چونکہ وہ اپنے خودساختہ اصولوں پر سختی کے ساتھ کاربند تھے، لہٰذا انہوں نے اس کے لیے خوشی خوشی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور دولتِ امویہ کے ساتھ اپنی جنگوں میں شجاعت و دلیری کی عجیب و غریب داستانیں رقم کیں۔ اس دوران وہ خودکش گروہوں کے مماثل نظر آتے ہیں۔ انہوں نے اکثر اوقات انتہائی کم تعداد میں ہونے کے باوجود بڑے بڑے حکومتی لشکروں کو شکست فاش دے کر اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔ اگر شجاعت و دلیری، پیش قدمی اور قربانی کا یہ جذبہ صحیح رخ پر گامزن ہوتا اور وہ اعدائے اسلام کے ساتھ دولتِ امویہ کی جنگی کوششوں کے ساتھ اپنی کوششیں شامل کر دیتے تو انسانی تاریخ کا رُخ بدل جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ خوارج نہ تو دنیا کے طالب تھے اور نہ مادہ پرست، وہ جس فکر پر ایمان رکھتے تھے اس کے لیے مخلص تھے اور اسے بروئے کار لانے کے لیے ہمہ وقت اور ہمہ تن کوشاں رہے۔

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 458)

انہوں نے اس کے لیے اپنے آپ کو تباہ کروا لیا اور امت کو اس کے وقت، مال اور جانوں کے حوالے سے بڑے بڑے مسائل سے دوچار کر دیا۔ اگر خوارج نے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی، ان سے جنگیں لڑیں اور انہیں کافر تک قرار دے ڈالا تو انہوں نے دولت امویہ کے خلاف اس سے بھی سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے اسلحہ سے لیس ہو کر اس کے سامنے آن کھڑے ہوئے اور 41 ھ میں کوفہ چھوڑنے سے قبل سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت پر اتر آئے۔

(العالم الاسلامی فی العصر الموی: صفحہ 458۔ تاریخ خلیفۃ: صفحہ 203، 204)

.