Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کوفہ میں خوارج کی تحریکیں

  علی محمد الصلابی

1۔ فروہ بن نوفل اشجعی کی تحریک:

41 ھ کے واقعات کے ضمن میں طبری رقمطراز ہیں: ’’اس سال خوارج نے جو شہ زور میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے الگ ہو گئے تھے، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا۔‘‘

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 81)

عوانہ سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ابھی کوفہ سے روانہ نہیں ہوئے تھے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا گزر نخیلہ کے مقام پر ہوا، پانچ صد حروریہ (حروریۃ: خوارج، حروراء کوفہ سے باہر ایک بستی ہے جس میں یہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کرنے کے بعد آباد ہو گئے تھے۔ (معجم البلدان: جلد 2 صفحہ 245)

جو (سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے) الگ ہو کر فروہ بن نوفل اشجعی کے ساتھ شہرزور کے مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے، کہنے لگے: اب ہمارا سابقہ اس شخص سے پڑا ہے جس کے بارے میں ہمیں کوئی شک نہیں ہے، چلو اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد کرو، وہ فروہ بن نوفل کی قیادت میں آگے بڑھے اور کوفہ میں داخل ہو گئے، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اہل شام کے شہ سواروں کا دستہ روانہ کیا مگر انہوں نے شامیوں کو منتشر کر دیا۔ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ سے کہا: اللہ کی قسم! تمہیں میرے پاس امان نہیں ملے گی یہاں تک کہ تم اپنے یہاں کی اس آفت کو دور کر دو۔ یہ سن کر اہل کوفہ خوارج کی طرف نکلے اور ان سے جنگ کرنے لگے۔ خوارج نے ان سے کہا: تم پر افسوس ہو، تم ہم سے کیا چاہتے ہو، معاویہ ہمارا اور تمہارا مشترکہ دشمن ہے، ہمیں اس سے لڑنے دو، اگر ہم کامیاب رہے تو ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے بچا لیا اور اگر وہ کامیاب ہو گئے تو تم ہم سے بچ گئے۔ انہوں نے کہا: و اللہ! ہم تم لوگوں سے لڑیں گے۔ وہ کہنے لگے: اللہ ہمارے نہروان والے بھائیوں پر رحم فرمائے۔

 ( تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 81)

اہل کوفہ! وہ تمہیں بخوبی جانتے تھے، اس وقت ان کا سردار فروہ بن نوفل مارا گیا تو انہوں نے عبداللہ بن ابو الحر کو اپنا رئیس بنا لیا۔

(یہ ان لوگوں میں شامل تھا جو جنگ نہروان کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے سے الگ رہے تھے۔ (انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 164)

یہ فروہ بن نوفل وہی ہے جس نے معرکہ نہروان سے تھوڑی دیر پہلے کہا تھا: و اللہ! میں نہیں جانتا کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کس بنا پر لڑائی کریں، پھر وہ پانچ سو شہ سواروں کے ساتھ واپس چلا گیا۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 182)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا منصب خلافت سنبھالنے کے بعد خوارج کے بارے میں کیا مؤقف تھا؟ اس کے بارے میں ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگوں نے واپس جا کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی، پھر نہروان پر موجود لوگ (یعنی خوارج) بھی ان سے بیعت کرنے لگے یہاں تک کہ ان میں سے تقریباً تین صد لوگ باقی رہ گئے، اور وہ اصحاب نخیلہ تھے۔

(انہیں اس نام سے موسوم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انہیں نخیلہ میں قتل کیا گیا تھا.)