مستورد بن علفہ تمیمی کی تحریک
علی محمد الصلابیمستورد بن علفہ تمیمی کی تحریک
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 87 حاشیہ 92)
طبری نے اپنی تاریخ میں مستورد بن علفہ تمیمی کی تحریک کے بارے میں بڑی تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ جبکہ دیگر اکثر مصادر میں اس کے بارے میں اختصار سے کام لیا گیا ہے، جبکہ خلیفہ بن خیاط (مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 189 ) نے تو اس سے بھی زیادہ اختصار سے یہ واقعہ نقل کیا ہے، طبری کی طرف سے اس واقعہ کو تفصیل کے ساتھ ذکر کرنے کی غالباً یہ وجہ ہے کہ وہ اس تحریک کی اہمیت کی طرف اشارہ کرنا چاہتے تھے جس کا تعلق اس بات سے ہے کہ اس کے اصحاب نہروان کے ان خوارج کی فکر کی نمائندگی کرتے ہیں جن کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جنگ کی تھی، اس لیے کہ اس حرکت کی طرف منسوب اکثر لوگ معرکہ نہروان کے دوران ایک ہی خندق میں موجود رہے تھے اور یہی وہ بات ہے جس نے والی کوفہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اعوان و انصار کی طرف متوجہ کیا۔ خصوصاً وہ لوگ جو معرکہ نہروان میں شریک ہوئے مثلاً معقل بن قیس ریاحی جو کہ نہروان کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک کمانڈر تھا۔
(ایضاً: صفحہ 190)
اور یہ اس لیے کہ انصار سیدنا علی رضی اللہ عنہ خوارج کے بارے میں زیادہ باخبر تھے اور ان کے بارے میں ان کا رویہ زیادہ سخت تھا۔ تاریخ طبری کی روایات اس واقعہ کے بارے میں ہمیں بڑی اہم تفصیلات فراہم کرتی ہیں: مثلاً:
الف: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں خوارج کا موقف:
یہ خوارج کے اس قول سے مستفاد ہوتا ہے: اللہ اس ہاتھ کو قطع نہ کرے جس نے اس (علی رضی اللہ عنہ ) کے سر پر تلوار ماری۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر سن کر تمام خوارج اللہ تعالیٰ کی حمد بجا لائے (تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 88) اور اس کے شکر گزار ہوئے۔
ب: خوارج کے ساتھ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی سیاست:
یہ مندرجہ ذیل سے مستفاد ہے: انہوں نے لوگوں کے ساتھ بڑا اچھا سلوک کیا اور ہوس پرستوں کی بھی کچھ تفتیش نہ کی، انہیں بتایا جاتا کہ فلاں روافض کا عقیدہ رکھتا ہے اور فلاں خوارج والی رائے رکھتا ہے، وہ سب کو یہی جواب دیتے کہ اللہ کو یہی منظور ہے کہ لوگوں میں اختلاف موجود رہے، جن باتوں میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں ان کے مابین اللہ ہی فیصلہ کرے گا۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 89)
س: حیان بن ظبیان سلمی کی تحریک: یہ تحریک 58ھ میں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عثمان بن ربیعہ کی ولایت کے ایام میں اٹھی، اس کی ولایت کے دوران اس جماعت نے خروج کیا جسے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے جیل میں بند کر رکھا تھا اور جس کا تعلق ان خوارج کے ساتھ تھا جنہوں نے مستورد بن علفہ سے بیعت کی تھی، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ان پر فتح یاب ہونے کے بعد انہیں جیل میں ڈال دیا پھر جب ان کی وفات ہو گئی تو وہ جیل سے رہا ہو گئے
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 326)
اور خلافت کے خلاف تحریک شروع کر دی ان لوگوں کا رئیس حیان بن ظبیان سلمی تھا، والی کوفہ نے ان کی طرف ایک لشکر بھیجا جس نے تمام خوارج کو قتل کر ڈالا۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 313)