Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بصرہ میں خوارج کی تحاریک

  علی محمد الصلابی

1۔ یزید باہلی اور سہم ہجیمی کی تحریکیں:

41 ھ میں عبداللہ بن عامرؓ کی ولایت کے ایام میں یزید بن مالک باہلی نے خروج کیا، اس وقت اس کے ساتھ سہم بن غالب ہجیمی بھی تھا۔ جب وہ صبح کے وقت پل کے قریب پہنچے تو وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی عبادہ بن قرص رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھا تو اسے قتل کر ڈالا، پھر انہوں نے ابن عامرؓ سے امن کی درخواست کی تو اس نے انہیں امن دے دیا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میں نے انہیں تمہاری ذمہ داری میں دے دیا ہے۔ اس کے جواب میں اسے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ اگر تم اس ذمہ داری کو توڑ ڈالو تو تم سے جواب طلبی نہیں ہو گی۔ ان لوگوں کو ابن عامرؓ کی معزولی تک امن حاصل رہا۔

(الکامل: جلد 2 صفحہ 454)

46ھ میں جب زیاد کو والی مقرر کیا گیا تو سہم بن مالک ہجیمی اور یزید بن مالک باہلی دونوں نے پھر خروج کیا، سہم اہوار کی طرف نکل گیا پھر واپس آنے پر چھپ گیا اور زیاد سے امن کا طلب گار ہوا مگر اس نے اس کا یہ مطالبہ ردّ کرتے ہوئے اسے قتل کر ڈالا اور اس کی لاش اس کے گھر کے دروازے پر لٹکا دی۔ رہا یزید بن مالک تو زیاد نے اسے بحرین کی طرف بھگا دیا، پھر اسے اجازت دی تو وہ واپس آ گیا، زیاد نے اس سے کہا: اپنے شہر سے باہر نہیں جانا، مسلم بن عمرو باہلی سے اس کی ضمانت طلب کی(عمرو باہلی: فاتح کبیر قتیبہ کے والد)

تو اس نے اس سے انکار کر دیا، البتہ یہ کہا کہ اگر اس نے گھر سے باہر رات گزاری تو میں تجھے اس سے آگاہ کر دوں گا، پھر ایک دن مسلم زیاد کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ اس نے آج کی رات گھر میں نہیں گزاری، اس پر اسے قتل کر دیا گیا اور اس کی لاش کو باہلہ میں پھینک دیا گیا۔

(الکامل: جلد 2 صفحہ 477)