Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فضیلت و عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا عقیدہ

  الشیخ شفیق الرحمٰن الدراوی

یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تمام کے تمام عادل اور باقی امت کے تمام لوگوں سے افضل ہیں اور وہ اس امت کے چنیدہ و برگزیدہ لوگ تھے، جو کہ ایمان میں کامل اور حق و صواب کے سب سے زیادہ قریب تھے۔ پوری امت میں فضیلت، نیکی اور درست رائے میں کوئی دوسرا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسا نہیں۔
(الدرۃ المضیۃ فی عقیدۃ الفرقۃ المرضیۃ مع شرحہا لوامع الأنوار: جلد، 2 صفحہ، 377)
اس عقیدہ پر تمام اہلِ اسلام کا اجماع ہے۔ اور اس بارے میں ان بھٹکے ہوئے گمراہ اہلِ بدعت فرقوں کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں جو اس سے اختلاف رکھتے ہیں۔
علامہ ابنِ قیم رحمۃ اللہ اپنے قصیدہ نونیہ میں فرماتے ہیں:
تمام علمائے کرام کا اجماع ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انسانیت کے سب سے بہترین لوگ تھے۔ یہ عقیدہ ضروری طور پر معلوم ہے اور اس میں دو انسانوں کے مابین بھی کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا قول نقل کیا گیا ہے۔ 
(نونیۃ ابن القیم مع شرحہا توضیح المقاصد لابن عیسیٰ: جلد، 2 صفحہ، 461) 
اہلِ سنت والجماعت کا اجتماعی عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں ان کی عدالت کے متعلق پوچھ گچھ یا سوال کرنا جائز نہیں۔ 
امام نوویؒ فرماتے ہیں:
تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عدول ہیں۔ وہ بھی جو فتنوں میں مبتلا ہوئے اور دوسرے بھی۔ اس پر تمام معتمد علماء کا اجماع ہے۔ 
(تقریب النووی: صفحہ، 214) 
حافظ ابنِ صلاح رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
تمام امت کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عادل ہونے پر اتفاق ہے وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی عادل ہیں جو کہ فتنوں میں مبتلا ہوئے اور دوسرے بھی۔
(الحدیث والمحدثون: صفحہ، 129)
علامہ خطیب بغدادیؒ فرماتے ہیں:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت اللہ اور اس کے رسولﷺ‏ سے ثابت ہے۔ اب ان کے متعلق کسی سے سوال کرنے کی ضرورت نہیں۔ عدالت کا سوال ان کے بعد کے لوگوں کے متعلق کیا جائے گا۔
(الکفایۃ فی علم الروایۃ: صفحہ، 46) 
اہلِ سنت والجماعت کا ان سے محبت اور دوستی رکھنے پر اتفاق ہے اور اس میں اہلِ بدعت کے علاوہ کوئی اس عقیدہ کا مخالف نہیں ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل کے دلائل بہت زیادہ ہیں۔ کتاب اللہ اس بزرگ جماعت کی مدح و تعریف میں خوشبووں کے جھونکے بکھیر رہی ہے۔ اس لیے کہ دلوں کے راز جاننے والے اللہ تعالیٰ علام الغیوب اور علیم بذات الصدور کو ان کی صداقت اور ایمان کی درستگی، خالص محبت، وافر عقل، پختہ رائے اور کمال خیر خواہی، امانت داری اور اصلاح کا علم تھا۔
ان قرآنی دلائل میں سے ایک یہ فرمانِ الہٰی ہے:
وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ذٰ لِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ۞
(سورۃ التوبہ: آیت 100)
ترجمہ: اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہو گیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔
سورۃ انفال میں فرمانِ الہٰی ہے:
اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجَاهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيۡنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤئِكَ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ ۞
(سورۃ الأنفال: آیت 72)
ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے ہجرت کی ہے اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے، وہ اور جنہوں نے ان کو (مدینہ میں) آباد کیا اور ان کی مدد کی، یہ سب لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ولی وارث ہیں۔ 
یہاں تک کہ آگے چل کر فرمایا:
وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ۞
(سورۃ الأنفال: آیت 74)
ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لے آئے، اور انہوں نے ہجرت کی، اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا، وہ اور جنہوں نے انہیں آباد کیا اور ان کی مدد کی وہ سب صحیح معنوں میں مومن ہیں۔ ایسے لوگ مغفرت اور باعزت رزق کے مستحق ہیں۔
اور فرمانِ الہٰی ہے:
لَـقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِىِّ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ فِىۡ سَاعَةِ الۡعُسۡرَةِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا كَادَ يَزِيۡغُ قُلُوۡبُ فَرِيۡقٍ مِّنۡهُمۡ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡ‌ اِنَّهٗ بِهِمۡ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞
(سورۃ التوبة: آیت 117)
ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے رحمت کی نظر فرمائی ہے نبیﷺ‏ پر ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے ایسی مشکل کی گھڑی میں نبی کریمﷺ‏ کا ساتھ دیا، جبکہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ڈگمگا جائیں، پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ یقیناً وہ ان کے لیے بہت شفیق، بڑا مہربان ہے۔
اور ایسے ہی اللہ تعالیٰ کا ایک فرمان یہ بھی ہے:
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌ سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ ذٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞
(سورۃ الفتح: آیت 29)
ترجمہ: محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہو گئی، پھر اپنے تنے پر اس طرح سیدھی کھڑی ہو گئی کہ کاشت کار اس سے خوش ہوتے ہیں۔ تاکہ اللہ ان (کی اس ترقی) سے کافروں کا دل جلائے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ نے ان سے مغفرت اور زبردست ثواب کا وعدہ کر لیا ہے۔  
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
يَوۡمَ لَا يُخۡزِى اللّٰهُ النَّبِىَّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ‌ نُوۡرُهُمۡ يَسۡعٰى بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَتۡمِمۡ لَنَا نُوۡرَنَا وَاغۡفِرۡ لَنَا‌ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞
(سورۃ التحريم: آیت 8)
ترجمہ: اس دن جب اللہ نبی کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو رسوا نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرف دوڑ رہا ہو گا۔ وہ کہہ رہے ہوں گے کہ: اے ہمارے پروردگار! ہمارے لیے اس نور کو مکمل کر دیجیے اور ہماری مغفرت فرما دیجیے۔ یقیناً آپ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔
فرمانِ الہٰی ہے:
وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِيۡكُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰهِ‌ لَوۡ يُطِيۡعُكُمۡ فِىۡ كَثِيۡرٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ لَعَنِتُّمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيۡكُمُ الۡاِيۡمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ ۞ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةً وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞
(سورۃ الحجرات: آیت 7، 8)
ترجمہ: اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہارے درمیان اللہ کے رسولﷺ‏ موجود ہیں۔ بہت سی باتیں ہیں جن میں وہ اگر تمہاری بات مان لیں تو خود تم مشکل میں پڑ جاؤ۔ لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے، اور اسے تمہارے دلوں میں پُرکشش بنا دیا ہے، اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آ چکے ہیں۔ جو اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کا نتیجہ ہے، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔ 
اور فرمانِ الہٰی ہے:
لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا‌ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ۞
(سورۃ الحديد: آیت 10)
ترجمہ: تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔ یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔  
اور فرمانِ الہٰی ہے:
قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰى ءٰۤللّٰهُ خَيۡرٌ اَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ ۞(سورۃ النمل: آیت 59)
ترجمہ: (اے پیغمبر) کہو: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور سلام ہو اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے منتخب فرمایا ہے بتاؤ کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جن کو ان لوگوں نے اللہ کی خدائی میں شریک بنا رکھا ہے؟  
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ کی تفسیر کے مطابق اس آیت سے مراد رسول اللہﷺ‏ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں۔
اور فرمانِ الہٰی ہے:
كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ‌ ۞
(سورۃ آل عمران: آیت 110)
ترجمہ: (مسلمانو) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لیے وجود میں لائی گئی ہے، تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ 
اس آیت سے استدلال کی وجہ صاف ظاہر ہے۔ یا تو اس سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین متعین طور پر مراد ہیں، یا پھر اس آیت میں اس پوری امت کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اگر پوری امت کی فضیلت ہے تو پھر اس میں سب سے پہلا شمار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہی ہو گا۔
اور فرمانِ الہٰی ہے:
وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا ۞
(سورۃ البقرة: آیت 143)
ترجمہ: اور (مسلمانو) اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو، اور رسول تم پر گواہ بنے۔ 
اس آیت سے استدلال بھی سابقہ آیت کی طرح ہے۔ بلکہ ہر وہ آیت اور حدیث جس میں اس امت کی فضیلت بیان ہوئی ہے، اس میں سب سے پہلے اور بدرجہ اولیٰ داخل ہونے والی جما عت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ہے۔ جب کہ حدیث شریف میں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت کھلے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔
نبی کریمﷺ‏ نے فرمایا:
ستارے آسمان کے لیے باعثث امن ہیں جب ستارے رخصت ہو جائیں گے تو آسمان سے جس چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ پورا کر دیا جائے گا۔ اسی طرح میری ذات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے باعثِ امن و سکون ہے جب میں نہیں ہوں گا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موعود مصائب سے دو چار ہو جائیں گے۔ میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میری امت کے لیے باعثِ امن ہیں جب میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رخصت ہو جائیں گے تو امن و امان اٹھ جائے گا۔ 
(مسلم: ح، 2531) 
امام ابوالعباس قرطبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود رہیں گے تو دین قائم رہے گا، اور حق کو غلبہ و استحکام نصیب ہو گا، دشمنوں پر فتح و نصرت ملتی رہے گی۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چلے جائیں گے تو أھواء پرستی کا دَور دورا ہو جائے گا اور دشمن کے دن پھر جائیں گے اور اس دین میں کمی آتی رہے گی۔ حتیٰ کہ حالت یہ ہو جائے گی کہ زمین پر اللہ تعالیٰ کا نام لینے والا کوئی باقی نہیں رہے گا۔ یہی وہ چیز ہے جس کا اس امت سے وعدہ کیا گیا ہے۔
(المفہم: جلد، 6 صفحہ، 485)
رسول اللہﷺ‏ کا فرمان ہے:
میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالی مت دو۔ اگر تم میں سے کوئی ایک احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دے، وہ ان میں سے کسی ایک کی مٹھی یا اس کے آدھے کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔
(صحیح بخاری) 
علامہ شوکانیؒ نے اس حدیث پر بہت خوبصورت تبصرہ کیا ہے فرماتے ہیں:
اس حدیث میں مخاطب لوگ جو کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد آنے والے ہیں ان کا احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنا بھی اپنے متقدمین کی ایک یا آدھی مٹھی جو کے خرچ کو نہیں پہنچ سکتی تو ہمارے دور کے لوگوں کے بارے میں میرا خیال نہیں کہ ہمارا احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنا ان کے ایک دانہ یا آدھے دانہ کے خرچ کے برابر ثواب کو پہنچ سکتا ہو۔
(ارشاد السائل الیٰ دلیل المسائل: صفحہ، 45)
رسول اللہﷺ‏ نے فرمایا:
بہترین لوگ میرے زمانہ کے لوگ ہیں۔ پھر جو ان کے بعد آئیں گے اور پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔ 
(أخرجہ البخاری، کتاب فضائل الصحابۃ باب فضل أصحاب النبیﷺ‏ ومن صحب النبیﷺ‏ أو رأہ من المسلمین فہو من أصحابہ: جلد، 3 صفحہ، 6 رقم، 3651 و مسلم فی صحیحہ فی کتاب فضائل الصحابۃ باب فضل الصحابۃ ثم الذین یلونہم: جلد، 4 صفحہ، 1963) 
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت اور ان کے بہترین لوگ ہونے کے وصف پر یہ گواہی اس زبان سے مل رہی ہے جو اپنی مرضی سے بات تک نہیں کرتی وہ مبارک زبان جب گفتگو کرتی ہے تو اس سے وحی کے پھول جھڑتے ہیں۔ اب اس گواہی سے بڑھ کر کس کی گواہی اور کون سی تعدیل ہو سکتی ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول کتنا ہی خوبصورت ہے آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعریف اور تعارف میں فرماتے ہیں:
اے لوگو! تم میں سے جو کوئی سنت اختیار کرنا چاہتا ہو، اسے چاہیے کہ ان لوگوں کی راہ پر چلے جو وفات پا چکے ہیں ۔ اس لیے کہ زندہ کو فتنہ سے محفوظ نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ محمدﷺ‏ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں جو تمام امت سے افضل لوگ ہیں۔ان کے دل سب سے نیک تھے۔ ان کا علم سب سے پختہ اور گہرا تھا، اور تکلف بالکل نہیں کرتے تھے۔ وہ ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ‏ کی صحبت اور اس کے دین کی اقامت کے لیے چن لیا تھا۔ ان کی فضیلت کو پہچانو، اور ان کے آثار کی پیروی کرو اور اگر تم استطاعت رکھو تو ان کے اخلاق اور دین کو مضبوطی سے پکڑے رہو۔ بیشک وہ لوگ صراطِ مستقیم پر قائم تھے۔ 
(ابنِ عبدالبر فی جامع بیان العلم و فضلہ: جلد، 2 صفحہ، 195)
اگر منصف انسان انتہائی انصاف پسندی کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اوصاف و خصائل و شمائل پر غور و فکر کرے گا تو پتہ چلے گا کہ حقیقت میں یہ مقدس جماعت علم و فضل، عدل و انصاف، جہاد و قتال اور خیر و بھلائی کے ہر کام میں سبقت لے گئے تھے۔ یہ اپنے سے پہلے والوں پر بھی سبقت لے گئے، اور بعد میں آنے والوں پر بھی اور دُور دُور تک اور رہتی دنیا تک ان کی فضیلت و برتری کا ڈنکا بجتا رہے گا۔ یہی جماعت تھی جن کی وجہ سے اسلام ہم تک پہنچا۔ ہر خیر و بھلائی اور ہدایت کی بات کی تعلیم اور سعادت و نجات کے حصول کا سبب یہی جماعت تھی۔ امت قیامت تک ان کے عدل و جہاد اور علم کے آثار پر کاربند رہے گی۔ کوئی بھی انسان کوئی علمی مسئلہ یا خیر و بھلائی کی بات ان کے علاوہ کہیں نہیں پا سکتا۔ یہ چیزیں تو ان کے ذریعہ سے ہی ہم تک پہنچی ہیں۔ زمین کے جس کسی کونے میں امن و امان ہے تو وہ ان کے جہاد اور فتوحات کے سبب سے ہے۔ کوئی بھی حاکم یا امام ان کی راہ چھوڑ کر عدل و انصاف سے فیصلہ نہیں کر سکتا، کیونکہ اس خیر و بھلائی کے امور ان تک پہنچنے میں اصل سبب یہی جماعت تھی۔ یہی تو وہ لوگ تھے جنہوں نے اگر شہروں کو تلواروں سے فتح کیا تو دلوں کو ایمان سے فتح کیا۔ شہروں اور ملکوں کو عدل و انصاف سے بھر دیا۔ دلوں کو علم و ہدایت سے معمور کر دیا۔ پس ان کے بعد آنے والے نیکی و بھلائی کے جتنے بھی کام کریں گے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے ساتھ اس نیک عمل میں برابر کے شریک ہیں اور ان کا یہ اجر قیامت تک بڑھتا ہی رہے گا۔ پس تمام تر تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو اپنی رحمت کے ساتھ جنہیں چاہتا ہے خاص کر دیتا ہے۔
(طریق الہجرتین: صفحہ، 648)
شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ نے کتنی ہی خوبصورت بات کہی ہے، فرماتے ہیں:
جو کوئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت کو علم و بصیرت کے ساتھ دیکھے گا کہ ان پر اللہ تعالیٰ نے کتنے ہی فضائل انعام کیے تھے، تو اسے پختہ یقین ہو جائے گا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد سب سے بہترین اور افضل ترین لوگ یہی ہیں۔ نہ ہی کوئی ان جیسا تھا اور نہ ہی ہو گا۔ وہ اس امت کے انتہائی بزرگ اور چنیدہ لوگوں میں سے تھے جس امت کو اللہ تعالیٰ نے بہترین اور عزت والی امت بنایا ہے۔
(مجموع الفتاویٰ: جلد، 3 صفحہ، 103) 
اس عالیشان فضیلت اور بلند مرتبت کی وجہ سے اہلِ سنت والجماعت یک زبان ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تمام کے تمام عادل ہیں ان میں سے کسی ایک پر بھی جرح نہیں کی جا سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی قدر کسی بھی جرح و قدح یا عیب اور طعن سے پاک کر دی تھی۔ یہ تمام کے تمام اس امت کے سردار اور قائد ہیں۔ یہ بات اس سے بھی پتا چلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو شرفِ صحبت کے لیے چن لیا تھا اور پھر ان کے پاکیزہ اور پاکباز ہونے کی خبر بھی تھی۔ یہی لوگ خیر القرون تھے اور وہ بہترین امت تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی بھلائی کے لیے پیدا کیا تھا۔ اس سے بڑی تعدیل کوئی نہیں ہو سکتی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی اکرمﷺ‏ کے ساتھی بنانے اور آپﷺ‏ کی نصرت کا حق ادا کرنے کے لیے چن لیا تھا۔ اس سے بڑھ کر نہ ہی کسی کا کوئی تزکیہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس سے زیادہ کامل کسی کی کوئی تعدیل ہو سکتی ہے۔
علامہ ابنِ عبدالبر رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
بلا شبہ ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے احوال کے متعلق بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس لیے کہ اہلِ حق اہلِ سنت والجماعت کا اجماع ہے کہ تمام کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں۔
(الاستعیاب: جلد، 1 صفحہ، 103) 
محدث علامہ سلیمان العلوان اپنی کتاب (الاستنفار للذب عن الصحابہ الاخیار صفحہ، 20 پر) فرماتے ہیں:
بعض خواہشاتِ نفس کے مارے ہوئے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ صحابیت صرف ایک مہاجر اور ایک انصاری کے لیے ثابت ہوتی ہے۔ تو اس صورت میں بعد میں آنے والوں کی عدالت صرف اسی طرح ثابت ہو سکتی ہے جس طرح کہ تابعین اور بعد میں آنے والے دوسرے لوگوں کی عدالت ثابت ہوتی ہے۔ یہ بہت بڑی غلط بیانی ہے۔ اہلِ سنت والجماعت میں سے کسی ایک نے بھی ایسی کوئی بات نہیں کہی۔