عروہ بن ادیہ خارجی کی خبر
علی محمد الصلابی58ھ میں عبیداللہ بن زیاد نے خوارج پر سختی کرتے ہوئے ان میں بہت ساروں کو گرفتار کر کے قتل کر ڈالا جبکہ کچھ دوسروں کو لڑائی میں مار دیا، ان میں سے جن لوگوں کو گرفتار کر کے قتل کیا گیا ان میں عروہ بن اُدیہ ابو بلال مرداس بن ادیہ بھی شامل تھا۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 230)
اسے قتل کرنے کا سبب یہ بنا کر ابن زیاد اپنے شرط لگانے کے گھوڑوں میں نکلا جب وہ ایک گھوڑے کا انتظار کرنے کے لیے بیٹھا تو اس کے پاس کئی لوگ اکٹھے ہو گئے ان میں عروہ بھی شامل تھا وہ ابن زیاد کی طرف متوجہ ہو کر اسے وعظ کرنے لگا، اس دوران اس نے ان آیات کی تلاوت کی:
اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ اٰيَةً تَعۡبَثُوۡنَ۞ وَ تَتَّخِذُوۡنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ۞ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ۞(سورۃ الشعراء آیت 128، 129، 130)
ترجمہ: کیا تم ہر اونچی جگہ پر کوئی یاد گار بنا کر فضول حرکتیں کرتے ہو؟ اور تم نے بڑی کاریگری سے بنائی ہوئی عمارتیں اس طرح رکھ چھوڑی ہیں جیسے تمہیں ہمیشہ زندہ رہنا ہے؟ اور جب کسی کی پکڑ کرتے ہو تو پکے ظالم و جابر بن کر پکڑ کرتے ہو۔
جب وہ خاموش ہو گیا تو ابن زیاد نے یہ سمجھا کہ اس نے برسرِ محفل میری توہین کی ہے اور اس کے ساتھ اس کے ساتھیوں کی کوئی جماعت ضرور موجود ہے، پھر وہ یہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ عروہ سے کہا گیا کہ ابن زیاد تجھے مروا ڈالے گا اس پر وہ چھپ گیا۔ جب ابن زیاد نے اسے تلاش کیا تو وہ بھاگ کر کوفہ چلا گیا مگر اسے پکڑ کر زیاد کے سامنے پیش کر دیا گیا اور اس نے اس کے دونوں ہاتھ اور پیر کٹوا دئیے۔
(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 517)
ابن زیاد نے اسے بلا کر پوچھا: اب کیسا لگ رہا ہے؟ اس نے کہا: تو نے میری دنیا خراب کر دی اور میں نے تیری آخرت، اس پر ابن زیاد نے اسے قتل کر دیا اور چونکہ اس کی بیٹی بھی اس کے مذہب پر تھی
(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 387، 388۔ تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 230)
لہٰذا اس نے اسے بھی قتل کروا دیا۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 204)
مبرد نے عروہ بن ادیہ کے قتل کے دو اہم سبب ذکر کیے ہیں: ان میں سے پہلا سبب یہ تھا کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کافر کہتا تھا، اور دوسرا یہ کہ اس نے اپنے بھائی مرداس بن ادیہ کی خروج کے لیے مدد کی۔
(الکامل فی اللغۃ: جلد 3 صفحہ 1098 نقلا عن مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 205)