براہ مہربانی شیعہ علماء کے عقیدہ کی رو سے ان کے ائمہ کے بعض…

براہ مہربانی شیعہ علماء کے عقیدہ کی رو سے ان کے ائمہ کے بعض فضائل ذکر کریں۔

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 2 از 2

(اصولِ الکافی جلد، 1 صفحہ، 186 کتاب الحجۃ)

باب 08:  ائمہ سے اپنے شیعہ کے احوال کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہوتی۔ انہیں اس بات کا علم ہوتا ہے جس کی امت کو ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں پیش آنے والی مشکلات اور مصائب کا علم ہوتا ہے اور وہ اس پر صبر کرتے ہیں۔ اور اگر وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے رفع ہونے کی دعا کریں تو ان کی دعا قبول ہوتی ہے۔ ائمہ دلوں کے بھید جانتے ہیں انہیں موت کا علم اور آفات و مشکلات کا علم ہے۔ انہیں فیصلہ کن خطاب اور لوگوں کی پیدائش کا علم حاصل ہے۔

(بحار الانوار: جلد، 26 صفحہ، 137 اس میں 43 احادیث ہیں)

باب 09: اگر امیر المؤمنینؓ نہ ہوتے تو جبریل علیہ السلام اپنے رب کو نہ پہچان پاتے اور نہ انہیں اپنے نام کا علم ہوتا۔

اس سلسلہ میں انہوں نے ایک روایت یوں گھڑ لی ہے: جبریل علیہ السلام رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ تو سیدنا علیؓ میں تشریف لائے تو جبریل امین ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہو گئے رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا تم اس نوجوان کے لیے کھڑے ہوتے ہو؟ اس پر جبریل نے عرض کی اس مل مجھ پر حق تعلیم ہے رسول اللہﷺ نے پوچھا: اے جبریل! وہ تعلیم کیسی تھی؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کیا تو مجھ سے پوچھا: تم کون ہو؟ اور تمہارا نام کیا ہے؟ میں کون ہوں؟ اور میرا نام کیا ہے؟ میں اس جواب کے لیے حیران سر گرداں تھا، پھر اس نوجوان کا جلوہ عالمِ انوار میں ظہور پذیر ہوا۔ اور اس نے مجھے اس کا جواب سیکھایا اور کہا: یوں کہو تم رب جلیل ہو، تمہارا نام جمیل ہے اور میں ایک ذلیل و عاجز بندہ ہوں میرا نام جبریل ہے۔ اس لیے میں اس نوجوان کی تعظیم بجالاتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔ 

(شرح زیارۃ الجامعۃ الکبیرۃ جلد، 2 صفحہ،371) 

باب 10: ائمہ ابھی اپنی ماؤں کے پیٹ میں ہوتے ہیں کہ وہ سننا اور بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ اور ماؤں کے پیٹ میں ہی اور اللہ عزوجل کی عبادت کرتے ہیں۔ اور وقت رضاعت فرشتے ان کی اطاعت بجالاتے ہیں۔ اور صبح و شام ان پر نازل ہوتے ہیں۔ ائمہ کے لئے ہر شہر میں منارے بنائے جاتے ہیں جن پر چڑھ کر وہ لوگوں کے اعمال دیکھتے ہیں۔

(کمال الدین وتمام النعمۃ جلد، 2 صفحہ، 393 حدیث نمبر، 2 باب ماروی فی میلاد القائم صاحب الزمان الیتیمۃ والدرۃ الثمینۃ صفحہ، 190)

باب 11: بلاشبہ ائمہ سیدنا علیؓ کی صلب سے اللہ کی اولاد ہیں۔ اس دعویٰ کی دلیل میں شیعہ کے آیت اللہ عبد الحسین نجفی نے یہ آیت گھڑی ہے:

اليوم اكملت لكم دينكم بامامته فمن لم يأتم به و بمن كان من ولدي من صلبه الى يوم القيامة فأولئك حبطت أعمالهم و في النار هم خالدون۔

ترجمہ: آج کے دن امیر المؤمنین کی امامت کے ساتھ تمہارا دین مکمل کر دیا ہے۔ تو جس شخص نے اس کی اور تاقیامت اس کی صلب سے میری اولاد کی پیروی نہ کی تو یہ وہی لوگ ہیں جن کے اعمال ضائع ہو گئے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (نعوذ باللہ)

(الغدیر جلد، 1 صفحہ، 425)

ہم اس شرک وکفر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ 

باب 12:  بے شک ائمہ زمین کے ارکان ہیں (یعنی زمین ان ہی کی بدولت قائم ہے) انہوں نے یہ روایت گھڑ کر سیدنا علیؓ کی طرف منسوب کر لی ہے کہ آپؓ نے فرمایا: 

مجھے ایسی صفات عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے قبل کسی کو عطا نہیں ہوئیں۔ مجھے موت، آفات، نسب اور فیصلہ کن خطاب کا علم دیا گیا ہے۔ مجھ سے پہلے لوگوں کا علم مجھ سے فوت نہیں ہوا اور نہ وہ علم مجھ سے پوشیدہ ہے جو مجھ سے غائب ہے۔ 

(اصول الکافی: جلد، 1 صفحہ، 141 کاتب الحجۃ ح، 2 ان الآئمۃ ہم ارکان ارض)

باب 13: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو جو علم بھی سکھایا، وہ امیر المؤمنین کو بھی سکھانے کا حکم دیا۔ اور بے شک امیر المؤمنین رسول اللہﷺ  کے ساتھ علم میں برابر شریک ہیں۔

(اصول الاکافی: جلد، 1 صفحہ، 190 کتاب الحجۃ اس میں تین احادیث ہیں) 

تبصره: 

یقیناً شیعہ علماء کے یہ دعویٰ نہایت عجیب و غریب اور کفر و شرک کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ وہ ان دعووں کے ساتھ ائمہ کو درجہ امامت سے نکال کر کبھی نبوت و رسالت کے درجے پر بٹھاتے ہیں تو کبھی الوہیت کے درجے پر فائز کر دیتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے، شیطان اور اس کی جماعت سے پناہ مانگتے ہیں۔ اس بات میں دو آراء نہیں ہیں کہ یہ دعویٰ محض کفر اکبر ہیں، بلکہ اگلے اور پچھلے لوگوں میں ایسا کفر اور گمراہی کا مرتکب کوئی دوسرا فرقہ یا مذہب نہیں ہوا ہے۔


صفحہ 2 از 2