ثالثاً: اہم دروس و عبر اور فوائد
علی محمد الصلابیثالثاً: اہم دروس و عبر اور فوائد
1۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں خوارج کے طرزِ عمل پر نگاہ رکھنے والا اس نتیجے پر پہنچے گا کہ اس عہد میں ان کے خروج کا مقصد بنو امیہ کی حکومت کو غیر مستحکم اور کمزور کرنا تھا۔ انہیں اس کو ختم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
(الخوارج فی العصر الاموی: نایف معروف: صفحہ 130)
2۔ خوارج کی بعض تحریکوں کا انحصار ان چند جماعتوں پر تھا جو جنگ نہروان سے پسپا ہو کر ادھر ادھر بکھر گئی تھیں اور جن کے ساتھ کوفہ میں مقیم خارجی بھی شامل ہو گئے تھے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت تبدیل ہونے کے باوجود خوارج کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔
3۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خارجی معارضہ کی حقیقت، حکومت اور خاص طور سے ان کی ذات کے بارے میں ان کے مؤقف سے بخوبی آگاہ تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے خوارج کو اپنی صف میں شامل کرنے کے لیے کسی سرگرمی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انہوں نے پہلے دن سے ہی ان کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
(حرکۃ الخوار:، لطیفۃ البکائی: صفحہ 60)
4۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے خارجیوں کے خلاف جنگ میں پولیس اور لشکر کو استعمال کرنے میں کبھی تردّد سے کام نہیں لیا۔ انہوں نے اپنے مقتولین کا بدلہ لینے والوں کے خلاف ہی طاقت کا استعمال نہیں کیا بلکہ اسے ان لوگوں کے خلاف بھی استعمال کیا جن کے بارے میں خروج کا ارادہ کرنے کی بھی اطلاع ملی، اس کی مثال کے طور پر معین بن عبدالرحمٰن محاربی اور حیان بن ظبیان سلمی وغیرھما کا نام لیا جا سکتا ہے، اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ مغیرہ رضی اللہ عنہ شہر میں خوارج کی نقل و حرکت کی نگرانی کیا کرتے تھے، ان کی جاسوسی کرتے اور ان کے بارے میں انہیں جو خبریں ملتیں ان کی روشنی میں انہیں سزا بھی دیا کرتے تھے۔
(ایضاً: صفحہ 65)
5۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا اہم ترین کردار یہ ہے کہ انہوں نے خوارج کے خلاف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے انصار و معاونین کو استعمال کیا اور اس کے لیے انہوں نے ان کی باہمی عداوت سے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے دولت امویہ کو کوئی قابل ذکر نقصان پہنچائے بغیر کوفہ میں موجود مخالفین کو خاموش کروا دیا اور کوفیوں کو دولت امویہ کے ساتھ معارضہ سے ہٹا کر دوسری باتوں میں الجھا دیا۔ جس سے دولت امویہ کو اپنا اثر و نفوذ مضبوط بنانے کا موقع میسر آ گیا۔
(ایضاً: صفحہ 65)
جبکہ دوسری طرف انہوں نے روافض اور خوارج میں پہلے سے موجود خلیج کو مزید گہرا کر دیا اور اس دوران انہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ دولت امویہ کو متحد اور قوی معارضہ کے خطرہ سے بچائے رکھا، کوفہ میں انہوں نے معارضہ کے بارے میں یہی مؤقف اختیار کیے رکھا کہ وہ خلیفہ کے احکامات کی تعمیل کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بعض اجتہادات سے بھی کام لیا جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ اس طرح دولت امویہ کی زیادہ خدمت کی جا سکتی ہے۔
(حرکۃ الخوارج: صفحہ 66)
جہاں تک امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے انصار اور خاص طور سے ان میں سے زعماء کا تعلق ہے تو دولت امویہ انہیں قریب رکھنے اور ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہی، یہی وجہ ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ نرمی پر مبنی رویہ اختیار کیے رکھا، یہی وجہ ہے کہ ان کی ولایت کے سارے عرصہ میں کوفہ پرامن اور پرسکون رہا۔
(ایضاً: صفحہ 66)
6۔ زیاد کی طرف سے بصرہ کی ولایت کا منصب سنبھالنے کے ساتھ ہی خوارج کا قلع قمع کرنے کی کارروائیاں تیز ہو گئیں وہ نہ صرف یہ کہ انہیں قتل کرتا بلکہ وہ لاشوں کا مثلہ کر کے انہیں پبلک مقامات پر یا ان کے گھروں کے سامنے لٹکا دیتا اور اس میں مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی تمیز نہ کی جاتی، اگرچہ لاشوں کی اس انداز میں بے حرمتی کرنا انتہائی غیر پسندیدہ عمل ہے اور جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، حتیٰ کہ کفار کی لاشوں کا مثلہ کرنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے مگر زیاد نے یہ کام خوارج کے ساتھ روا رکھا اور اس حوالے سے مردوں اور عورتوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جس سے مقصود دوسرے لوگوں کو مرعوب کرنا اور انہیں امن سے رہنے کے لیے مجبور کرنا تھا۔ خوارج کو دی جانے والی سزائیں انہیں قتل کرنے، لاشوں کا مثلہ کرنے اور دیگر جسمانی سزاؤں تک ہی محدود نہیں تھیں بلکہ وہ مالی عطیات اور وظائف تک کا احاطہ کرتی تھیں اور زیاد اس میدان میں اپنے سے گزشتہ حکمرانوں سے بہت آگے بڑھ گیا تھا۔ اس نے سرکاری خزانے سے عطیات وصول کرنے والے لوگوں کے ناموں کی فہرست والے رجسٹر سے خوارج کے نام تک خارج کر کے ان کے عطیات و وظائف بند کر دئیے تھے۔
(صدر الاسلام و الدولۃ الامویۃ، محمد عبدالحی شعبان: صفحہ 99۔ حرکۃ الخوارج لطیفۃ البکائی: صفحہ 70)
7۔ زیاد نے اپنی متشددانہ پالیسی کو ملکی سیاست میں اہم ستون کے طور سے اپنا رکھا تھا، اس کے نزدیک ان لوگوں کے خلاف اندھی طاقت کا استعمال ریاستی مصلحت کا تقاضا تھا جو اس کی طاقت کے سامنے ہتھیار پھینک کر پرامن زندگی گزارنے سے انکاری تھے۔
(حرکۃ الخوارج: صفحہ 71)
8۔ زیاد کی پرتشدد سیاست کی وجہ سے خوارج کی تحریکیں دم توڑ گئیں، ریاستی قوت کی دھاک بیٹھ گئی اور مختلف قبائل اس کے ہم نوا بن گئے جس کی وجہ سے شہر میں امن و امان کی صورت حال بہت بہتر ہو گئی۔ اگرچہ زیاد مخالف تحریکوں کو دبانے اور عراق کے دوسرے رہائشیوں کو مرعوب کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا اور اس نے آزادی سے لطف اندوز ہونے والے جنگجوؤں کو مکمل طور سے ریاستی مشینری کے تابع کر دیا تھا مگر وہ بہت سارے خوارج کے دلوں سے خروج کے ارادوں کا گلا گھوٹنے میں کامیاب نہ ہو سکا، یہی وجہ تھی کہ وہ اس کے بیٹے عبیداللہ کی ولایت کے دوران دوبارہ پھر میدان میں اتر آئے۔
(حرکۃ الخوارج: صفحہ 74)
9۔ خوارج کا قلع قمع کرنے میں عبیداللہ بن زیاد اپنے باپ سے بھی آگے نکل گیا، جو بھی خارجی اس کے ہتھے چڑھ جاتا وہ کسی کو بھی معاف نہ کرتا اور ان کے لیے ہر قسم کی سزا روا رکھتا، اگرچہ اس کے نزدیک ان کے لیے قابل ترجیح سزا انہیں قتل کرنا ہی تھا مگر وہ حالات کے تحت کسی کو پابند سلاسل بھی کر دیتا اور کبھی کسی کے بارے میں درگزر سے بھی کام لیتا، مختلف قبائل کے سرکردہ لوگوں کی سفارش پر رہا کردہ خوارج میں سے اگر کوئی دوبارہ سرکاری احکامات تسلیم کرنے سے انکار کرتا یا ان کی مخالفت پر کمربستہ ہوتا تو اسے موت کا سامنا کرنا پڑتا۔ ابن زیاد اس بات کا انتظار نہیں کرتا تھا کہ کوئی خارجی بغاوت پر اترے گا تو وہ اس سے نمٹ لے گا بلکہ وہ تمام امکانی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے انہیں تلاش کیا کرتا جن میں مالی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے بعض قبائل کے لوگوں کا ان کی سرگرمیوں کی ٹوہ لگانا اور پھر انہیں اس کے یا اس کے دیگر اہل کاروں کے سامنے پیش کرنا سرفہرست تھا۔ یہ طریقہ کار اپناتے ہوئے وہ کتنے ہی ایسے لوگوں کو اپنی گرفت میں لانے میں کامیاب ہو گیا جو خارجی نظریات کے حامل تھے یا خوارج کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوا کہ چغل خوروں اور دوسروں پر جھوٹی تہمتیں لگا کر اپنے مقاصد پورے کرنے والوں کو وسیع میدان حاصل ہو گیا۔
(حرکۃ الخوارج: صفحہ 74)
جس سے قدیم قبائل میں تنازعات و تعصبات بھڑک اٹھے اور قبائل کے درمیان نئے نئے اختلافات اٹھ کھڑے ہوئے۔
(ایضاً: صفحہ 74)
10۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ایام میں خارجی تحریکوں کے عمومی امتیازات:
الف: غیر منظم اور جلد بازی سے عبارت۔
ب: اجتماعی خودکشی کی سی کارروائیاں جیسی، اس لیے کہ وہ چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی صورت میں نکلتے جنہیں تھوڑی ہی دیر میں تہس نہس کر دیا جاتا۔
ج: ایسی ذمہ دار اور تجربہ کار قیادت کا فقدان جو اُن کے مقاصد کے حصول کے لیے ان کی شجاعت و بہادری سے فائدہ اٹھا سکتی۔
د: ایک دوسرے کی غلطیوں کو بار بار دہرانا اور دوسری تحریکات کے تجربات سے فائدہ نہ اٹھانا۔
ھ: قومی دھارے میں واپس آنے کے لیے بات چیت اور تبادلہ خیالات سے اجتناب کرنا اور مسلم معاشرے پر فکر و رائے کو طاقت کے زور پر ٹھونسنا۔
و: ان کے خیال میں جن دینی اسباب نے انہیں خروج کے لیے مجبور کیا ان کا خلط ملط ہونا، علاوہ ازیں ان میں جاہلی عصبیت کا عنصر بھی موجود تھا، مثلاً یہی کہ ان میں سے بعض لوگ اپنے مقتول ساتھیوں کا بدلہ لینے کے لیے خروج پر کمربستہ ہو جاتے تھے۔
ز: اسلامی معاشرے میں رہ کر اس سے اجنبیت کا احساس اور اس سے نفرت اور ان کا یہ یقین کہ کفار کے ساتھ جہاد کرنے سے اہل قبلہ کو قتل کرنا اولیٰ ہے۔
ح: اپنی دعوت کو پھیلانے کے لیے کسی نئی زمین کی جستجو نہ کرنا اور صرف عراق کے بعض شہروں خاص طور سے کوفہ اور بصرہ پر انحصار کرنا۔
ط: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے غلط طریقہ کار اپنانا، جس کی وجہ ان کی کم علمی اور دین سے جہالت تھی اس لیے کہ عبادت کی کثرت آدمی کی سمجھ داری کی دلیل نہیں ہوتی، اگر یہ بات ہوتی تو خوارج اپنے زمانے کے سب سے زیادہ سمجھ دار اور باشعور ہوتے۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 210 )
وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مصداق تھے: ’’تمہارا ایک آدمی اپنی نماز کو ان کی نماز اور اپنے روزے کو ان کے روزے سے کم تر سمجھے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔‘‘
(بخاری مع فتح الباری: جلد 12 صفحہ 203)
ی: انہیں تبدیلی پر مبنی اپنے پروگرام کے لیے زیادہ انتظار اور صبر و حوصلہ کی ضرورت تھی۔
11۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بعض خوارج کے لیے ابوبکرہ ثقفی کی سفارش اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو نصیحت:
41ھ میں حمران بن ابان نے بصرہ پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا، اسے اور اس کے ساتھیوں کو قتل کرنے کے لیے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ادھر ایک لشکر بھیجا تو ابوبکرہ ثقفی ان کے پاس آیا اور ان سے انہیں معاف کرنے اور درگزر سے کام لینے کی درخواست کی، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں درگزر سے کام لیتے ہوئے انہیں رہا کر دیا اور بصرہ پر بسر بن ارطاۃ کو والی مقرر کر دیا۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 149)
اس موقع پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابوبکرہ سے فرمایا: کیا تو ہمیں کسی چیز کی وصیت کرنا چاہتا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، امیر المؤمنین! میں آپ کو وصیت کرتا ہوں کہ آپ اپنا اور اپنی رعیت کا خیال رکھیں، اور نیک اعمال بجا لائیں، آپ نے بہت بڑی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے اور وہ ہے اللہ کی مخلوق پر اللہ کی خلافت۔ اللہ سے ڈرا کریں، آپ کے سامنے ایک حد ہے آپ اس سے تجاوز نہیں کر سکتے، آپ کے پیچھے ایک تیز رو متلاشی ہے ہو سکتا ہے کہ جب تم اپنی آخری حد کو پہنچو تو آپ کا متلاشی آپ کو آ لے اور پھر آپ کو اس کے حوالے کر دیا جائے جو آپ سے ہر اس چیز کے بارے میں سوال کرے جو آپ کرتے رہے جس کا اسے آپ سے زیادہ علم ہے۔ اللہ کی رضا پر کسی چیز کو ترجیح نہ دینا۔
(ایضاً: جلد 11 صفحہ 150)
12۔ خوارج کے ساتھ جنگ میں نرم جذبات کا استعمال:
حوثرہ بن وداع بن مسعود اسدی نے دولت امویہ کے خلاف خروج کیا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کے باپ کو بلا کر اس سے فرمایا: اپنے بیٹے کے پاس جاؤ ہو سکتا ہے کہ تمھیں دیکھ کر اس کا دل نرم پڑ جائے، وہ اس کے پاس گیا اور اس سے کہنے لگا: کیا میں تیرے پاس تیرے بیٹے کو لے کر نہ آؤں، شاید جب تو اسے دیکھے تو اس سے جدا ہونے کو پسند نہ کرے؟ وہ کہنے لگا: کافر کے ہاتھ سے لگے نیزے کے زخم میں تڑپنے کا شوق اپنے بیٹے کے شوق سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ سن کر اس کا باپ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گیا اور انہیں اس کی اس بات سے آگاہ کیا، اس پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف عبداللہ بن عوف الاحمر کی قیادت میں دو ہزار کی نفری پر مشتمل ایک لشکر بھیجا، دوسرے لوگوں کے ساتھ حوثرہ کا باپ بھی اس کے مقابلے میں اترا اور اسے دعوت مبارزت دی تو وہ کہنے لگا: ابا جان! اس کام کے لیے میرے علاوہ اور بہت ہیں۔ خوارج عبداللہ بن عوف کے ساتھ بڑی دلیری سے لڑے، خود حوثرہ ابن عوف کے مقابلے میں آیا تو ابن عوف نے اسے نیزہ مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بجز پچاس لوگوں کے اس کے تمام ساتھی بھی مارے گئے۔ یہ جمادی الاخریٰ 41 ھ کا واقعہ ہے۔ حوثرہ بڑا عبادت گزار تھا جب ابن عوف نے اس کے چہرے پر سجدوں کے آثار دیکھے تو وہ اسے قتل کرنے پر نادم ہوا اور کہنے لگا:
قتلت اخا بنی اسد سفاہا
لعمر ابی فما لُقیت رشدی
قتلت مصلیا مِحیاء لیل
طویل الحزن ذا بر و قصد
قتلت اخا تقی لانال دنیا
و ذلک لشقوتی و عثار جدی
فہب لی توبۃ یا رب و اغفر
لما قارفت من خطاء و عمد
(الکامل فی التاریخ: جلد 3 صفحہ 450)
’’میں نے ازراہ حماقت بنو اسد کے بھائی کو قتل کر ڈالا، مجھے میرے باپ کی قسم، مجھے رشد و ہدایت القاء نہیں کیا گیا، میں نے شب زندہ دار نمازی کو قتل کر دیا، جو نیک خو، نیک ارادہ اور غم ناک رہا کرتا تھا، میں نے دنیا کے حصول کے لیے اپنے متقی بھائی کو قتل کیا، اور ایسا میری بد بختی اور بدنصیبی کی وجہ سے ہوا، میرے پروردگار! میری مغفرت فرما اور مجھے توبہ کرنے کی توفیق دے، ہر اس گناہ سے جو مجھ سے ارادتاً ہوا یا غیر ارادی طور سے۔‘‘