ثالثاً: اہم دروس و عبر اور فوائد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

ثالثاً: اہم دروس و عبر اور فوائد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

9۔ خوارج کا قلع قمع کرنے میں عبیداللہ بن زیاد اپنے باپ سے بھی آگے نکل گیا، جو بھی خارجی اس کے ہتھے چڑھ جاتا وہ کسی کو بھی معاف نہ کرتا اور ان کے لیے ہر قسم کی سزا روا رکھتا، اگرچہ اس کے نزدیک ان کے لیے قابل ترجیح سزا انہیں قتل کرنا ہی تھا مگر وہ حالات کے تحت کسی کو پابند سلاسل بھی کر دیتا اور کبھی کسی کے بارے میں درگزر سے بھی کام لیتا، مختلف قبائل کے سرکردہ لوگوں کی سفارش پر رہا کردہ خوارج میں سے اگر کوئی دوبارہ سرکاری احکامات تسلیم کرنے سے انکار کرتا یا ان کی مخالفت پر کمربستہ ہوتا تو اسے موت کا سامنا کرنا پڑتا۔ ابن زیاد اس بات کا انتظار نہیں کرتا تھا کہ کوئی خارجی بغاوت پر اترے گا تو وہ اس سے نمٹ لے گا بلکہ وہ تمام امکانی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے انہیں تلاش کیا کرتا جن میں مالی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے بعض قبائل کے لوگوں کا ان کی سرگرمیوں کی ٹوہ لگانا اور پھر انہیں اس کے یا اس کے دیگر اہل کاروں کے سامنے پیش کرنا سرفہرست تھا۔ یہ طریقہ کار اپناتے ہوئے وہ کتنے ہی ایسے لوگوں کو اپنی گرفت میں لانے میں کامیاب ہو گیا جو خارجی نظریات کے حامل تھے یا خوارج کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوا کہ چغل خوروں اور دوسروں پر جھوٹی تہمتیں لگا کر اپنے مقاصد پورے کرنے والوں کو وسیع میدان حاصل ہو گیا۔

(حرکۃ الخوارج: صفحہ 74)

جس سے قدیم قبائل میں تنازعات و تعصبات بھڑک اٹھے اور قبائل کے درمیان نئے نئے اختلافات اٹھ کھڑے ہوئے۔

(ایضاً: صفحہ 74)

10۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ایام میں خارجی تحریکوں کے عمومی امتیازات:

الف: غیر منظم اور جلد بازی سے عبارت۔

ب: اجتماعی خودکشی کی سی کارروائیاں جیسی، اس لیے کہ وہ چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی صورت میں نکلتے جنہیں تھوڑی ہی دیر میں تہس نہس کر دیا جاتا۔

ج: ایسی ذمہ دار اور تجربہ کار قیادت کا فقدان جو اُن کے مقاصد کے حصول کے لیے ان کی شجاعت و بہادری سے فائدہ اٹھا سکتی۔

د: ایک دوسرے کی غلطیوں کو بار بار دہرانا اور دوسری تحریکات کے تجربات سے فائدہ نہ اٹھانا۔

ھ: قومی دھارے میں واپس آنے کے لیے بات چیت اور تبادلہ خیالات سے اجتناب کرنا اور مسلم معاشرے پر فکر و رائے کو طاقت کے زور پر ٹھونسنا۔

و: ان کے خیال میں جن دینی اسباب نے انہیں خروج کے لیے مجبور کیا ان کا خلط ملط ہونا، علاوہ ازیں ان میں جاہلی عصبیت کا عنصر بھی موجود تھا، مثلاً یہی کہ ان میں سے بعض لوگ اپنے مقتول ساتھیوں کا بدلہ لینے کے لیے خروج پر کمربستہ ہو جاتے تھے۔

ز: اسلامی معاشرے میں رہ کر اس سے اجنبیت کا احساس اور اس سے نفرت اور ان کا یہ یقین کہ کفار کے ساتھ جہاد کرنے سے اہل قبلہ کو قتل کرنا اولیٰ ہے۔

ح: اپنی دعوت کو پھیلانے کے لیے کسی نئی زمین کی جستجو نہ کرنا اور صرف عراق کے بعض شہروں خاص طور سے کوفہ اور بصرہ پر انحصار کرنا۔

ط: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے غلط طریقہ کار اپنانا، جس کی وجہ ان کی کم علمی اور دین سے جہالت تھی اس لیے کہ عبادت کی کثرت آدمی کی سمجھ داری کی دلیل نہیں ہوتی، اگر یہ بات ہوتی تو خوارج اپنے زمانے کے سب سے زیادہ سمجھ دار اور باشعور ہوتے۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 210 )

وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مصداق تھے: ’’تمہارا ایک آدمی اپنی نماز کو ان کی نماز اور اپنے روزے کو ان کے روزے سے کم تر سمجھے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔‘‘

(بخاری مع فتح الباری: جلد 12 صفحہ 203)

ی: انہیں تبدیلی پر مبنی اپنے پروگرام کے لیے زیادہ انتظار اور صبر و حوصلہ کی ضرورت تھی۔

11۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بعض خوارج کے لیے ابوبکرہ ثقفی کی سفارش اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو نصیحت:

41ھ میں حمران بن ابان نے بصرہ پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا، اسے اور اس کے ساتھیوں کو قتل کرنے کے لیے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ادھر ایک لشکر بھیجا تو ابوبکرہ ثقفی ان کے پاس آیا اور ان سے انہیں معاف کرنے اور درگزر سے کام لینے کی درخواست کی، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں درگزر سے کام لیتے ہوئے انہیں رہا کر دیا اور بصرہ پر بسر بن ارطاۃ کو والی مقرر کر دیا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 149)

اس موقع پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابوبکرہ سے فرمایا: کیا تو ہمیں کسی چیز کی وصیت کرنا چاہتا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، امیر المؤمنین! میں آپ کو وصیت کرتا ہوں کہ آپ اپنا اور اپنی رعیت کا خیال رکھیں، اور نیک اعمال بجا لائیں، آپ نے بہت بڑی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے اور وہ ہے اللہ کی مخلوق پر اللہ کی خلافت۔ اللہ سے ڈرا کریں، آپ کے سامنے ایک حد ہے آپ اس سے تجاوز نہیں کر سکتے، آپ کے پیچھے ایک تیز رو متلاشی ہے ہو سکتا ہے کہ جب تم اپنی آخری حد کو پہنچو تو آپ کا متلاشی آپ کو آ لے اور پھر آپ کو اس کے حوالے کر دیا جائے جو آپ سے ہر اس چیز کے بارے میں سوال کرے جو آپ کرتے رہے جس کا اسے آپ سے زیادہ علم ہے۔ اللہ کی رضا پر کسی چیز کو ترجیح نہ دینا۔

(ایضاً: جلد 11 صفحہ 150)

12۔ خوارج کے ساتھ جنگ میں نرم جذبات کا استعمال:

صفحہ 2 از 3