یہود کی تاریخ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

یہود کی تاریخ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 4

یہود کی تاریخ:

حضرت یعقوب علیہ السلام کو قرآن عظیم کی اصطلاح میں اسرائیل کہا گیا ہے آپ کی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ہے حضرت عزیر علیہ السلام کے پیروکار اپنے آپ کو بنی اسرائیل یا حضرت یعقوب علیہ السلام کے بڑے بیٹے یہودا کی اولاد کی طرف نسبت کر کے قوم یہود کہلاتی ہے اس قوم کی پہیم نافرمانیوں اور بے پناہ ستم کاریوں سے ہر دور کے انبیاء ان کی تیشہ زنی کے کا شکار رہے

یہود کی فطرت و سرشت معصیت و کفران اور شرارت و خباثت کے اس خمیر سے گوندھی گئی جو روزِ ازل سے ان کی طبائع میں ودیعت کی گئی تھی، قرآنِ عظیم کا بیان ہے:

وَيَقۡتُلُوۡنَ النَّبِيّٖنَ بِغَيۡرِ الۡحَـقِّ‌ (سورة البقرہ: آیت، 61)

ترجمہ: اور پیغمبروں کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔

تاریخ طبری کے مطابق 40 ہزار انبیاء قتل کیے گئے،

 ان تمام کو یہود ہی کی جفا کاریوں کا نشانہ بننا پڑا، انبیاء کے انداز و ترہیب پر یہود کہتے:

وَقَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعۡدُوۡدَةً (سورة البقرة: آیت، 80)

ترجمہ: اور یہودیوں نے کہا ہے کہ ہمیں گنتی کے چند دنوں کے علاوہ آگ ہرگز نہیں چھوئے گی۔ 

یہود کا یہ زعمِ باطل قرآن عظیم میں دوسری جگہ بیان کیا ہے:

نَحۡنُ اَبۡنٰٓؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّآؤُهٗ‌ (سورة المائدہ: آیت، 18)

ترجمہ: ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ 

خود موسیٰ علیہ السلام کو اس قوم نے دھوکہ دیا: فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قَٰعِدُوْنَ (سورة المائدہ: آیت، 24)

ترجمہ: تو بس تم اور تمہارا رب چلے جاؤ، اور ان سے لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔

 ہزاروں نہیں تو سینکڑوں قرآنی آیات اس بات پر شاہد ہیں کہ دنیا کی پوری تاریخ میں یہود سے زیادہ فتنہ ساماں، دھوکہ باز، شریر اور فسادی قوم پیدا نہیں ہوئی، قرآن کریم کی چند شہادتیں میں ملاحظہ ہوں:

1) فَبِمَا نَقۡضِهِمۡ مِّيۡثَاقَهُمۡ لَعَنّٰهُمۡ (سورة المائدہ:آیت، 13)

ترجمہ: پھر یہ ان کی عہد شکنی ہی تو تھی جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا۔

2) مِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا يُحَرِّفُوۡنَ الۡـكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ (سورة النساء:آیت، 46)

ترجمہ: یہودیوں میں سے کچھ وہ ہیں جو (تورات) کے الفاظ کو ان کے موقع محل سے ہٹا ڈالتے ہیں۔

3) وَقَدۡ كَانَ فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ يَسۡمَعُوۡنَ کَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوۡنَهٗ (سورة البقرة: آیت، 75) 

ترجمہ: حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کے لوگ اللہ کا کلام سنتے تھے، پھر اس میں تحریف کر ڈالتے تھے۔

حاصلِ كلام یہ نکلا کہ کلام اللہ میں تحریف و تبدیلی یہود کی عادت اور شرارت تھی جسں کی نسبت قرآن کو متعدد مقامات پر نہایت صراحت کے ساتھ اس کا ذکر کرنا پڑا، یہود نے کذب و افترا اور بہتان باندھنے تک سے گریز نہ کیا، فتنہ پردازی اور شرانگیزی میں اس قوم کا کوئی ثانی نہیں، آنحضرتﷺ کے عہد سے قبل کی تاریخ یہود کے بعد آپ کے مبارک عہد کی کیفیت ملاحظہ ہو۔

قرآن عظیم کا بیان ہے:

1) لَـتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡا‌۔ (سوةالمائدہ: آیت، 82)

ترجمہ: تم یہ بات ضرور محسوس کر لو گے کہ مسلمانوں سے سب سے سخت دشمنی رکھنے والے ایک تو یہودی ہیں، اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو (کھل کر) شرک کرتے ہیں۔

2) آنحضرتﷺ جب ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ منورہ پہنچے تو اس وقت مدینہ کی تجارت یہودیوں کے ہاتھ میں تھی، زیادہ تر آبادی اوس و خزرج کے دو قبائل پر مشتمل تھی، ان کی آخری خون ریز جنگ نے انصار کا زور توڑ دیا تھا، نتیجتاً یہود کا زور پہلے کی نسبت زیادہ ہو گیا مدینہ کے اطراف میں بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ تین بڑے بڑے یہودی قبائل آباد تھے، ان کے بڑے مضبوط اور مستحکم قلعے تھے یہ لوگ مدینہ کے کاروبار پر چھائے ہوئے تھے (تاریخ ابنِ ہشام: صفحہ391، جلد1) بحوالہ کشف الحقائق: صفحہ11 سید نور الحسن شاه) معاہدہ کے امور درج ذیل تھے:

  1.  بوقت جنگ یہود کو جان و مال سے مسلمانوں کا ساتھ دینا ہو گا۔ 
  2.  مدینہ پر اگر کوئی دشمن حملہ کرے گا تو یہود پر آنحضرتﷺ کی مدد لازمی ہوگی، (سیرت ابنِ ہشام: صفحہ 78، جلد1) لیکن بعد میں مشہور یہودی ابو رافع کو جو اسلام کا سخت ترین دشمن تھا،آنحضرتﷺ کو تکلیف دینے اور ہجوم میں اشعار کہنے کے جرم میں عبد اللہ بن ابی عقیق نے قتل کیا(طبقات ابنِ سعد: صفحہ57،جلد 2)
  3. بنو قریظہ نے بھی بنو نضیر کی طرح عہد شکنی کی، آنحضرتﷺ ایک معاہدہ کے سلسلہ میں ان کے یہاں تشریف لے گئے، انہوں نے آپ کے قتل کی سازش کی ایک شخص عمرو بن ود کو مکان کی چھت سے آپﷺ پر پتھر گرا کر شہید کرنے کے لیے مقرر کیا، آپﷺ کو بذریعہ وحی اطلاع ہو گئی آپﷺ واپس تشریف لے گئے(زرقانی:صفحہ93، جلد2)
  4. یہود مدینہ نے دوسری مرتبہ آپﷺ کو دعوت دی اور پیغام بھیجا کہ آپ بھی تین آدمی لے کر آئیں، ہم بھی تین عالم لے کر آتے ہیں تا کہ باہمی گفتگو کے بعد اسلام لائیں، آپﷺ کو ایک صحیح ذریعہ سے معلوم ہوا کہ یہودیوں نے آپﷺ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے، آپﷺ کو معلوم ہوا تو آپﷺ نے صحابہ کرامؓ کو ان پر حملہ کا حکم دیا، محاصره 15 روز تک جاری رہا آخر وہ ترکِ وطن پر آمادہ ہو گئے، قرآن کریم میں بنو نضیر کی جلا وطنی کا ذکر سورۃ الحشر میں موجود ہے۔
  5. بنو نضیر جلا وطنی کے بعد خاموش نہیں بیٹھے، ان کے بڑے بڑے سردار مکہ معظمہ پہنچے اور مشرکینِ مکہ کے بڑے بڑے سرداروں کو ساتھ لے کر ایک ایک بستی میں پہنچے اور تمام عرب کا دورہ کر کے کئی ہزار کی تعداد میں لشکروں کو جمع کر کے جنگ پر آمادہ کیا۔

آنحضرتﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری سے یہود کا علمی اور مالی تفوق غارت ہونے لگا، بلاشبہ آنحضرتﷺ کی روز افزوں ترقی سے ان کی آتش حسد و عناد بھڑک اٹھی، دیکھتے ہی دیکھتے جب مشرکین مکہ کے ساتھ صحابہ کرامؓ بدر کے مقام پر نبرد آزما ہوئے اور فتح و نصرت نے آنحضرتﷺ اور آپ کی جماعت کے قدم چوم لیے، مورتوں کے پجاری ہار گئے اور شرک کے خواہ بھی غارت گر جہنم ہو کر شکست و ریخت سے دو چار ہوئے تو یہود مدینہ آتش زیرو پا ہو گئے۔

صفحہ 1 از 4