یہود کی تاریخ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

یہود کی تاریخ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 4

سب سے پہلے بنو نضیر نے عہد شکنی کی، بدر کی لڑائی کے موقع پر اس قبیلہ کی بے وفائی نے آنحضرتﷺ کی ذات پر گہرا اثر ڈالا، آپﷺ نے شوال میں ان پر حملہ کر کے دس دن تک محاصرہ کیے رکھا، بالآخر یہودیوں نے ہتھیار ڈال دیے، آپﷺ نے سب کو جلا وطن کر دیا۔

 یہود کی اسلام دشمنی کے چند واقعات:

1: کعب بن اشرف یہود عرب کا سردار تھا، بہت بڑا شاعر تھا، اسلام دشمنی میں اپنی مثال آپ تھا، حضورﷺ اور صحابہ کرامؓ سے دلی بغض و عداوت رکھتا تھا، اپنے اشعار میں حضورﷺ کی دشمنی اور بد گوئی اس کا مشن تھا، غزوۂ بدر میں مشرکین مکہ کے سرداروں کی ہلاکت پر اس کو اس قدر قلق اور صدمہ ہوا کہ دانت پیس کر رہ گیا، چالیس آدمی لے کر مکہ گیا، اپنے اشعار کے ذریعے مشرکین مکہ کو انتقام پر برانگیختہ کیا(طبقات ابنِ سعد: صفحہ32، جلد3)

اس سے بڑھ کر یہ کہ ایک مرتبہ اس نے آنحضرتﷺ کو شہید کرنے کی سازش کی، بالآخر آپﷺ کے حکم سے محمد بن مسلمہ نے اسے ربیع الاول 3ھ میں قتل کر دیا۔(سیرت النبیﷺ: صفحہ 373،جلد1)

2: ابو رافع بن ابی الحقیق بھی یہود کا سردار تھا، کعب بن اشرف اس کا نواسہ تھا۔

3: یہودی عورتوں کی اسلام دشمنی ملاحظہ ہو کہ ایک موقع پر ایک یہودیہ ظالمہ نے مکان کی چھت سے پتھر گرا کر آنحضرتﷺ کے ایک انتہائی محبوب صحابیؓ کو شہید کر دیا، اسے قصاص میں قتل کیا گیا احادیث کی کتب سے معلوم ہوتا ہے یہ عورت جب قصاص میں قتل کی گئی تو اسے اپنے کیے پر کچھ پشیمانی نہ تھی(بحوالہ کشف الحقائق: صفحہ19)

4: حیی بن اخطب، سلام بن ابی الحقیق ، کنانہ بن ربیع ( سرداران یہود) نے کئی مرتبہ مدینہ پر حملے کرنے کے منصوبے بنائے (سیرۃ النبی: صفحہ439،جلد1)

5: یہود خیبر، بنو عطفان، بنو فزارہ وغیرہ کے حملے کی پیش بندی کے لیے آنحضرتﷺ نے 14 سو صحابہؓ کے ہمراہ بیسں ہزار یہودیوں کا مقابلہ کر کے خیبر کے دس قلعے فتح کیے۔

فتح خیبر کے بعد آنحضرتﷺ کا احسانِ عظیم:

فتح خیبر کے بعد آپ یہود کو قتل یا جلا وطن کر سکتے تھے، مگر آپ نے خیبر کی زمین علاقہ کی وفاداری کی یقین دہانی پر عطا کر دی ان کی زمینوں اور باغات کو برقرار رکھا، فتح و غلبہ کے بعد قتل نہیں کیا، لیکن اس کے بعد ایک یہودی عورت نے آپ کے کھانے میں زہر ملا دیا، آپ نے ایک لقمہ تناول فرما کر کھانا چھوڑ دیا، حضرت شراء بن براء نے زیادہ کھا لیا۔ وہ شہید ہو گئے، چنانچہ یہودیہ عورت کو قصاص میں قتل کیا گیا۔

صحیح بخاری میں حضرت ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ کی روایت ہے کہ یہودیوں نے حضورﷺ کے خلاف ایک لشکر تیار کیا، اس طرح مشرکین مکہ اور تمام عرب قبائل کا لشکر ذی قعدہ 5ھ میں مدینہ منورہ چڑھ آیا

مشہور تو یہ ہے کہ اس لشکر کی تعداد دس ہزار تھی مگر بخاری کی شرح فتح الباری میں تصریح کی گئی ہے کہ ان کی کل تعداد چوبیس ہزار سے زائد تھی، اسی لشکر کے مقابلہ کے لیے آپ نے مدینہ منورہ کے اطراف میں خندق کھودنے کا حکم دیا، اسی وجہ سے اس لڑائی کو خندق کی لڑائی کہا جاتا ہے اس موقع پر صحابہ کرامؓ نے اپنی عورتوں اور بچوں کو قلعہ بند کر لیا، چاہیے تو یہ تھا کہ سابقہ معاہدہ کی رو سے بنو قریظہ مشرکین کے مقابلہ میں مسلمانوں کا ساتھ دیتے مگر انہوں نے عورتوں کو نہتا سمجھ کر ان کو زک پہنچانا چاہی، یہ قلعہ یہود کے قبیلہ سے متصل تھا، انہوں نے رات کے وقت قلعہ پر حملہ کر دیا، ایک یہودی قلعہ کے دروازے تک پہنچ گیا حضرت صفیہ ( آنحضرتﷺ کی پھوپھی) نے خیمہ کی ایک چوب اکھاڑ لی اور یہودی کے سر پر اس زور سے ماری کہ سر پھٹ گیا، اس کا سر کاٹ کر قلعہ کے نیچے پھینک دیا، یہودیوں کو یقین ہو گیا کہ قلعہ میں فوج کا ایک دستہ بھی متعین ہے اس خیال سے پھر انہوں نے حملہ کی جرات نہ کی۔

23 ذی قعدہ 5ھ کو آپﷺ جنگ خندق سے واپس آئے تو اللہ کے حکم سے اس وقت بنو قریظہ پر چڑھائی کا حکم ملا، بالآخر بنو قریظہ کو عہد شکنی کی عبرت ناک سزادی گئی(زرقانی: صفحہ129،جلد2)

شیعہ کا تاریخی پس منظر:

آنحضرتﷺ کے واضح ارشادات کے بعد یہودیت کا مستقبل سر زمینِ عرب میں تاریک ہو گیا، ایک طویل عرصہ تک یہودیوں کی ستم کاریوں، عہد شکنیوں اور تیشہ زنیوں سے اسلام کا سینہ چھلنی ہوتا رہا، آنحضرتﷺ زندگی میں یہودیت کی جفا کاریوں کا شکار رہے، آپﷺ کو مشرکینِ مکہ کی واضح دشمنی اور کھلے عام عداوت سے وہ دکھ نہ پہنچا جو یہود کی محلاتی سازشوں، من گھڑت قسم کی پھیلائی ہوئی افواہوں اور آئے دن کے بغض و عناد سے آلودہ چالبازیوں سے آپ کو ذہنی کوفت، قلبی صدمہ، پریشانیوں کی ٹھیس اٹھانا پڑی۔

آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد فتنوں کا آغاز ہوا کئی قبائل زکوٰۃ سے منحرف ہو گئے یہود کی ایک آبادی جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کی پیرو کار بن گئی، اگر نظر غائر سے ان تمام بستیوں اور قبیلوں کا جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر ان کے در پردہ یہود کی کارستانی ہی نظر آئے گی۔

آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد قریب تھا کہ گلشنِ رسالت خزاں آلود ہوتا، مگر ساقی بزمِ افروز کی مے وحدت اور باد بہاری نے سیدنا صدیق اکبرؓ ایسا اولو العزم مدبر ورثہ میں چھوڑ دیا تھا جس کی نادرہ روزگار کاوش اور بے مثال استقلال نے اسلام کے جہاز کو کلفتوں عداوتوں، سازشوں اور ابر سیاہ بن کر اٹھنے والی مخالف ہواؤں کے تھپیڑوں سے ساحل مراد پر پہنچا دیا یہودیت دم بخود ہو کر رہ گئی۔

عہدِ فاروقی میں اسلام کی شوکت و حشمت چار دانگ عالم میں پھیلی تو یہود و مجوس دانت پیس کر رہ گئے، اسلام کا نیر اقبال اوج ثریا کی بلندی پر پہنچ گیا۔ تو یہود نے دسیسہ کاریوں، زیرِ زمین سازشوں اور خفیہ سرگرمیوں کے ذریعے اسلام کو زک پہنچانے کا منصوبہ بنایا۔حضورﷺ مرضِ وفات میں فرماتے تھے عائشہ میں نے خیبر میں جو کھانا کھایا تھا میں اس کا اثر برابر محسوس کرتا رہا، اس زہر کے اثر سے میں اپنی رگ کٹتی دیکھتا ہوں(صحیح بخاری: باب مرض النبیﷺ)

آنحضرتﷺ کے مبارک عہد میں سیدہ عائشہؓ پر تہمت کے پس پردہ انہی یہودیوں کی سازش کار فرما تھی،

ایک بدوی سردار کنانہ بن ربیع نے دھوکے سے حضرت محمود بن مسلم کو شہید کیا(سیرت ابنِ ہشام: صفحہ، 85 جلد، 2)

صفحہ 2 از 4