یہود کی تاریخ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

یہود کی تاریخ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 4

وادی القراء میں حضرت محمدﷺ کی موجودگی میں ایک تیر سے آپﷺ کے خادم خاص حضرت مدعم شہید ہوئے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو السلام علیکم کی بجائے اسام علیکم (تم پر ہلاکت ہو) یہودیوں نے کہنا شروع کر دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ایک دن پہلے صیفونہ یہودی اور فیروز ابولولو مجوسی کو ایک ساتھ مدینہ منورہ دیکھا گیا۔

 حضورﷺ کی آخری وصیت:

حضورﷺ کی آخری وصیتوں میں ایک وصیت یہ تھی!

اخرجو اليهود من جزيرۃ العرب

ترجمہ: یہود کو جزیر عرب سے نکال دو(صحیح بخاری: کتاب الجہاد)

آنحضرتﷺ کے ان واضح اور غیر مبہم ارشادات پر عمل کرنے کا فخر و اعزاز سیدنا عمر فاروقؓ کو حاصل ہوا، چنانچہ حضرت عمرؓ نے خیبر، فدک، وادی قراء وغیرہ سے تمام یہود کو عرب سے شام کی طرف جلا وطن کر دیا۔

 شیعہ مذہب کا بانی:

جزيرة العرب کے جنوب میں یمن ایک ملک ہے، صنعا اس کا مشہور دار الحکومت ہے، یہاں یہودیوں کی کثیر آبادی تھی، عبداللہ بن سباء اس خاندان کا ایک فرد تھا، نہایت شاطرانہ ذہنیت اور عیارانہ فطرت کا مالک تھا، اس کا دل اسلام کے خلاف جوش و خروش اور غیظ و غضب سے لبریز تھا، اس کا دماغ سازش و منصوبہ بندی، جوڑ توڑ اور پروپیگنڈے میں اپنی مثال آپ تھا،

چھوٹے سے قد کا یہ یمنی یہودی اپنی فطرت اور صلاحیت کے بل بوتے پر بڑی سے بڑی قوم میں باہمی نزاع، اختلاف، اشتقاق، عداوت و شقاوت پیدا کرنے میں یدِ طولیٰ رکھتا تھا، اسلام کے خلاف بڑی بڑی جنگوں سے جب نقصان نہ پہنچایا جا سکا تو یہ شخص فریب کاری اور فتنہ سامانی کے اسلحہ سے لیس ہو کر ازخود مدینہ منورہ چلا آیا، اس نے اسلام کی تخریب کا یہ پروگرام مرتب کیا کہ مسلمان بن کر اسلام میں افتراق اور مسلمانوں میں اختلاف پیدا کر کے اندر ہی اندر اسلام کی جڑیں کھودی جائیں اور اسلام سے یہود نے جو چرکے کھائے ہیں ان کا انتقام لیا جائے۔

عبداللہ بن سبا کی ابتدائی کارگزاری:

ابن سبا کی اسلام دشمن تحریک کے بغور مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے دینِ اسلام کی بیخ کنی اور مسلمانوں میں تفریق کا بیج بونے کے لیے دو محاذ منتخب کیے ایک سیاسی اور دوسرا مذہبی، پاکستان کے مشہور مؤرخ اور سکالر علامہ سید نور الحسن بخاریؒ جنوری 1984ء میں ملتان میں جن کا انتقال ہوا ہے۔) انہوں نے اپنی بلند پایہ تصنیف کشف الحقائق میں ابن سباء کے دونوں محاذوں کا تجزیہ درج ذیل الفاظ میں کیا ہے:

"سیاسی محاذ اس طرح قائم کیا کہ امیر المؤمنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور ان کے امراؤ عمال (گورنروں) کے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کر کے عوام کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت و عداوت کے جذبات اس حد تک مشتعل کیے کہ انہیں معزول کر دیا جائے، نظام مملکت کے اس اضمحلال کے بعد اسلامی سلطنت کمزور ہو جائے گی مسلمانوں میں باہمی انتشار و تفرقہ پیدا ہو گا"

مذہبی محاذ اس طرح قائم کیا کہ سیدھے سادھے دین فطرت کے صاف اور واضح عقیدوں میں تبدیلی پیدا کی جائے، توحید و رسالت پر حملہ کیا جائے اسلام کے بنیادی حقائق کو مسخ کر کے عوام کو گمراہ کیا جائے، اس طرح مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کیا جائے اور ان میں اعتقادی تفرقہ ڈال کر فرقہ بندی کا بیج بویا جائے تاکہ یہ علیحدہ علیحدہ فرقوں اور گروہوں میں بٹ جائیں (کشف الحقائق:27)

نامور مؤرخ ابنِ جریر طبری (متوفی:310ھ) کے الفاظ میں ابن سبا کا مختصر تعارف اور اس کی مکارانہ ذہنیت کے چند شاہکار ملاحظہ ہوں:

عبداللہ بن سباء صنعا (یمن) کا رہنے والا ایک یہودی تھا، اس کی ماں حبشن تھی وہ حضرت عثمانؓ کے زمانۂ خلافت میں بظاہر اسلام لایا پھر مسلمانوں کے شہروں میں گھوم پھر کر ان کو گمراہ کرنے لگا،

اس نے اپنی مہم کا آغاز حجاز سے کیا پہلے بصرہ، کوفہ اور پھر شام آیا، اہلِ شام میں سے کوئی شخص بھی ان کے جھانسے میں نہ آیا بلکہ انہوں نے اسے شام سے نکال دیا، پھر وہ مصر آیا یہاں اس نے کافی عمر گزاری وہاں کے لوگوں سے کہنے لگا اس شخص پر تعجب آتا ہے جو کہتا ہے یا گمان رکھتا ہے کہ حضرت عیسیٰ واپس آئیں گے لیکن حضرت محمدﷺ کے واپس آنے کا انکار کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

اِنَّ الَّذِىۡ فَرَضَ عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ‌ (سورۃالقصص: آیت، 85)

ترجمہ: (اے پیغمبر) جس ذات نے تم پر اس قرآن کی ذمہ داری ڈالی ہے، وہ تمہیں دوبارہ اس جگہ پر لا کر رہے گا جو (تمہارے لیے) انسیت کی جگہ ہے۔

 پس حضرت محمدﷺ حضرت عیسیٰ کی نسبت اس دنیا میں دوبارہ آنے کے زیادہ مستحق ہیں۔

اس نے رجعت کا عقیدہ وضع کیا، جسے بعض لوگوں نے مان لیا پھر اس نے کہا ہزار نبی ہو گزرے ہیں ہر نبی کا وصی( جسے وصیتیں کی جائیں اور خفیہ ہدایات دی جائیں) ہوتا ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت محمدﷺ کے خاتم الاوصیاء ہیں، اس کے بعد کہنے لگا جو شخص رسول اللہﷺ کی وصیت کو نہ مانے اور سیدنا علیؓ وصی رسول پر غالب آ کر امت کی زمام کار اپنے ہاتھ میں لے لے اس سے بڑا ظالم اور کون ہو گا؟

اس کے بعد ان سے کہنے لگا، حضرت عثمانؓ نے خلافت بغیر حق کے لی ہے اور حضرت علیؓ رسول اللہﷺ کے وصی ہیں تم اس معاملے میں اقدام کرو اور حضرت عثمانؓ کو اس منصب خلافت سے ہٹا دو اور اس مہم کا آغاز اپنے حکام اور گورنروں پر طعن و اعتراضات سے کرو، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کر کے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرو پس اس نے تمام ممالک میں اپنے داعی اور ایجنٹ پھیلا دیے۔

(طبری: صفحہ378،جلد3)

 ایران کے مجوسی اور سبائیوں کا گٹھ جوڑ:

ان لوگوں کے دلوں میں کینہ کی پہلی چنگاری اس روز بھڑکی جب نبی کریمﷺ نے 6ھ میں باقی بادشاہوں کو دعوت نامہ ہائے مبارک لکھتے وقت پرویز شاہ ایران کو بھی نامہ لکھا پرویز لعین نے بغیر پڑھے اسے چاک کر کے اپنے گورنر کو جو یمن کا عامل تھا لکھا کہ محمدﷺ کو گرفتار کر کے دربار میں پیش کرے مگر جب بازان کے فرستادہ حضورﷺ کی خدمت میں پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ آج شب تمہارے بادشاہ پرویز کو اس کے بیٹے نے قتل کر دیا ہے اور پرویز کے نامہ چاک کرنے پر آپ نے پہلے فرما دیا تھا کہ پرویز نے میرا نامہ (رقعہ) مبارک نہیں چاک کیا بلکہ اپنی سلطنت کو چاک کیا ہے۔

صفحہ 3 از 4