یہود کی تاریخ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

یہود کی تاریخ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 4

 مشہور شیعہ مؤرخ حسین کاظم زادہ کی زبان سے سنیں:

جس دن سعد بن ابی وقاصؓ نے خلیفہ دوئم کی جانب سے ایران کو فتح کیا، ایرانی اپنے دلوں کے اندر کینہ و انتقام کا جذبہ پالتے رہے، یہاں تک کہ شیعہ فرقہ کی بنیاد پڑ جانے سے پورے طور پر اس کا اظہار کرنے لگے صاحبان واقفیت و اطلاع اس بات کو بخوبی جانتے اور مانتے ہیں کہ شیعیت کی بنیاد ابتداء میں اعتقادی مسائل، نظری و نقلی اختلافات کے علاوہ ایک سیاسی مسئلہ بھی تھا،آگے چل کر اس سیاسی مسئلہ کو یہی مصنف واضح کر کے لکھتا ہے کہ ایرانی ہرگز اس بات کو کبھی نہ بھول سکتے تھے نہ معاف کر سکتے تھے اور نہ قبول کر سکتے تھے کہ مٹی پر ننگے پاؤں پھرنے والے عربوں نے جو جنگل و صحرا کے رہنے والے تھے ان کی مملکت پر تسلط کر لیا ہے ان کے قدیم خزانوں کو لوٹ کر غارت کر دیا ہے اور ہزاروں لوگوں کو قتل کر دیا ہے، آگے چل کر یہی مصنف لکھتا ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ نے مدائن اور اس کے مفتوح ہزاروں ایرانی قیدیوں کو آزاد کر دیا، اس طرح تمام قیدی آزاد ہو گئے۔

ایرانیوں کی نفرت کا ایک اور واقعہ بھی اس حسین کاظم زادہ صاحب کی زبانی سنیے:

ہرمزان ایرانی کو جو خوزستان کا سابق والی اور دو یکے از بزرگ زادگان و صاحب افسران تھا، معہ ایک اور شخص کے قتل کر دیا کیونکہ ابو لولو اکثر ہرمزان کے پاس جاتا رہتا تھا،سیدنا عثمانؓ نے سیاست کو عدالت پر ترجیح دے کر خون بہا اپنے پاس سے دے کر عبیداللہ کو آزاد کر دیا، حالانکہ حضرت علیؓ نے عبید اللہ کو قصاص میں قتل کر دینے کا مشورہ دیا تھا

مصنف یہ واقعہ لکھنے کے بعد اس پر حاشیہ آرائی کرتے ہوئے لکھتا ہے،اس معاملے نے ایرانیوں کے دلوں میں سیدنا عمر و سیدنا عثمان رضی اللہ عنھما کے خلاف غصہ اور کینہ کو بھڑکا دیا اور حضرت علیؓ کے ساتھ ان کی محبت کو اور زیادہ کر دیا، ایرانی جو اپنے بادشاہ اور سرپرست سے محروم ہو گئے تھے، اس دن سے حضرت علیؓ کو اپنا حامی اور مہربان سمجھنے لگے، ان کے اور ان کی اولاد کے حق میں اپنے اخلاص و محبت کا اظہار کرنے لگے، حالانکہ یہ سب جھوٹ اور فریب ہے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عبیداللہ کو ہرمزان کے بیٹے قبازان کے حوالے کیا تھا، ہرمزان بظاہر مسلمان تھا مگر در پردہ پکا اسلام کا دشمن مجوسی تھا اور اس کا بیٹا قبا اذان پکا مسلمان تھا اور اپنے باپ کی سازش سے بھی واقف تھا اس عبیداللہ کو

"فترکہ اللہ" یعنی اللہ کے واسطے چھوڑ دیا تھا۔

طبری اس واقعہ پر الگ عنوان قائم کر کے تبصرہ کرتا ہے (طبری: صفحہ23، جلد5) 

"حضرت عثمانؓ نے اپنے پلے سے کوئی خون بہا نہیں ادا کیا تھا، یہ صرف عجمی سازش کی سحر کاری ہے اور لطف یہ کہ بڑے بڑے محققین اور مؤرخین نے اسے دوست تسلیم کر لیا"

اس طرح لونڈی اور غلام بنانے والا پہلا واقعہ بھی سراسر غلط ہے، صرف اہواز کے مقام پر بغاوت ہوئی تو حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے بغاوت کچل کر وہاں کے لوگوں کو گرفتار کیا مگر حضرت عمرؓ کے حکم سے سب چھوڑ دیے گئے، مدائن کی فتح کے وقت بھی سب نے جزیہ دینا قبول کیا اور ذمی بن کر رہنا قبول و منظور کیا اور وہ بدستور اپنی جائیدادوں اور املاک پر قابض رہے صرف جلولا کی جنگ میں مال غنیمت کے علاوہ غلام اور لونڈیاں مسلمانوں لشکریوں کے ہاتھ میں آئیں، ان میں اعلیٰ خاندان کی لڑکیاں بھی تھیں حضرت عمرؓ سبایا الجلوت سے پناہ مانگا کرتے تھے، ایک دفعہ عبداللہ بن سباء نے حضرت ابوالدرداء کے سامنے بھی بڑے محتاط انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ تم مجھے یہودی معلوم ہوتے ہو(حقیقت مذہبِ شیعہ:صفحہ23) 

عبادہ بن صامتؓ سے اس قسم کی گفتگو کی تو انہوں نے پکڑ کر دمشق میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا انہوں نے اس کو شام سے نکال دیا ۔

 تاریخ شیعیت پر اجمالی نظر:

بلا شبہ شیعہ مذہب کا بانی ٹھگنے قد اور کالے رنگ والا یمنی یہودی عبداللہ بن سبا تھا، تاہم اس مذہب کی ابتدائی کارگزاری سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہود و مجوس اور عیسائیت کی اسلام دشمنی اور غیظ و غضب نے شقاوت کی جو آخری شکل اختیار کی اور تین غیر مسلم طاقتوں کی ستم کاریوں سے جو مرکب اور ملغوبہ تیار ہوا، اس کا نام شیعیت یا سبائیت ہے بعض لوگوں نے انہیں کو رافضیت کا نام دیا، اس وقت دنیا میں تقریباً 70 سے زائد مختلف الخیال اور مختلف العقائد گروہ اپنے آپ کو سچا شیعہ کہلانے کے مدعی ہیں، چنانچہ مشہور مستشرق ہنر لامن اپنی مشہور تالیف( اسلام معتقدات و آئین) میں لکھتا ہے:

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جاہ طلب اور کثیر التعداد اوصاف نے تھوڑے ہی دنوں میں شیعہ جماعت کو بہت سے ایسے فرقوں میں منقسم کر دیا جو برابر ایک دوسرے پر سب و شتم کرتے تھے، یہ لوگ سیاسی فہم و فراست سے عاری رشک و حسد میں مبتلا اور منصب امامت کے بارے میں آپس ہی میں جو شدت کے ساتھ لڑتے جھگڑتے تھے وہ حکومت کے خلاف حزب مخالف کی صفت رکھتے تھے ان لوگوں کی سازشوں اور ایسے لوگوں کی بغاوتوں کے حالات سے جو ناقص طور سے منظم کی گئیں، پہلی دو صدی کے واقعات ان سے بھرے پڑے ہیں"(ترجمہ:سرڈینس ڈائریکٹر شعبہ السنہ شرقیہ لنڈن یونیورسٹی:صفحہ143) لندن کی مشہور لیوزک کمیٹی نے سلسلہ مذاہب مشرق کی چھٹی کتاب مذہب تشیع کے نام سے 1933ء میں شائع کی اس کے مؤلف ڈوائٹ ایم ڈونالڈسن میں یہ صاحب 16 سولہ برس مشہد (ایران) میں رہے، موصوف اپنی کتاب کے صفحہ نمبر پر 41رقم طراز ہیں:

 "خلافت کے متعلق حضرت علیؓ کے دعاوی کو ان کے دوست محض سیاسی نصب العین نہیں بلکہ قضا و قدر کی طرف سے ان کا مقرر کردہ حق تصور کرتے تھے"

حضرت عثمانؓ کے زمانے میں ایک پر جوش واعظ عبداللہ بن سباء نے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی غرض سے ساری مملکت میں سیاحت کی تھی۔


صفحہ 4 از 4