صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین افضلیت کا عقیدہ - دفاعِ…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین افضلیت کا عقیدہ

  الشیخ شفیق الرحمٰن الدراوی

صفحہ 2 از 2
نبی کریمﷺ‏ کے کسی ادنیٰ صحابی رضی اللہ عنہ پر بھی کسی کو قیاس نہیں کیا جا سکتا تو پھر سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا کیا سوال؟ آپؓ رسول اللہﷺ‏ کے سسرالی رشتہ دار (سالے) ہیں آپﷺ‏ کے صحابی اور کاتبِ وحی ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی وحی پر آپﷺ‏ کے امین ہیں۔
(تاریخِ مدینہ دمشق: جلد، 9 صفحہ، 208)  
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ سے پوچھا گیا: کیا نبی کریمﷺ‏ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کسی ایک کو قیاس کیا جا سکتا ہے؟ تو آپؒ فرمانے لگے:
معاذ اللہ! حضرت امیرِ معاویہؓ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ سے بدرجہا افضل ہیں۔ رسول اللہﷺ‏ نے فرمایا ہے: 
بہترین لوگ میرے زمانہ کے لوگ ہیں۔ 
(حدیث کی تخریج گزر چکی ہے، مزید دیکھیں: السنۃ لخلال: جلد، 2 صفحہ، 435)
مزید آپ فرماتے ہیں:
ایک ادنیٰ صحابی رضی اللہ عنہ بھی بعد میں آنے والی صدی کے ان لوگوں سے بہتر ہے جنہوں نے نبی کریمﷺ‏ کو نہیں دیکھا، اگرچہ وہ اپنے سارے اعمال لے کر اللہ کی بارگاہ میں پہنچ جائیں۔
(شرح أصول اعتقاد اہل السنۃ: جلد، 1 صفحہ، 160) 
اگر یہ کہا جائے کہ نبی کریمﷺ‏ کے اس فرمان کی کیا توجیہ ہو گی؟ 
آپﷺ‏ کا فرمان ہے:
بیشک تمہارے پیچھے ایسے ایام ہیں جن میں صبر کرنا ایسے ہے جیسے انگارے کو پکڑ لینا۔ ان ایام میں نیک اعمال کرنے والے کا اجر ایسے ہی ہو گا جیسے اس جیسے نیک اعمال کرنے والے پچاس افراد کا عمل۔ تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: کیا ان میں سے پچاس نیک افراد کا عمل؟ تو آپﷺ‏ نے فرمایا: تم میں سے پچاس افراد۔
(اخرجہ الترمذی فيمی جامعہ کتاب التفسیر، باب سورۃ المائدۃ: جلد، 5 صفحہ، 257 رقم، 3058 اور کہا ہے یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ابوداؤد، کتاب الملاحم، باب الأمر و النہی: جلد، 4 صفحہ، 332 رقم، 4341 وصححہ الألبانی فی السلسلۃ الصحیحۃ: رقم، 494)
جواب: یہ فضیلت ایک متعین معاملہ میں ہے، اس سے مطلقاً فضیلت ثابت نہیں ہوتی اور وہ معاملہ یہ ہے کہ ان دنوں میں صبر کرنے والے کا اجر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے پچاس صبر کرنے والوں کے اجر کے برابر ہے۔ پس پتا چلا یہ ایک خاص فضیلت ہے جو کہ ایک متعین مسئلہ میں ہے۔ یہ فضیلت مطلق طور پر نہیں۔ 
حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں: 
یہ حدیث کہ ان میں سے ایک عامل کا اجر تم میں سے پچاس کے اجر کے برابر ہو گا۔ اس میں کسی غیر صحابی کی صحابی رضی اللہ عنہ پر فضیلت کی کوئی دلیل نہیں۔ اس لیے کہ صرف اجر زیادہ ہونے کے ثبوت سے مطلق طور پر افضلیت کا ثبوت لازم نہیں آتا۔ نیز یہ کہ اجر میں تفاضل اس جیسے عمل کی نسبت سے ہوتا ہے۔ جب کہ وہ لوگ جو نبی کریمﷺ‏ کی زیارت کی سعادت حاصل کر پائے ہیں، کوئی فضیلت اس سعادت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
(فتح الباری: جلد، 7 صفحہ، 7)

صفحہ 2 از 2