Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نفقات عامہ

  علی محمد الصلابی

خامساً: نفقات عامہ

1۔ فوجی اخراجات:

دولت امویہ نے آباد زمین کے گوشے گوشے میں اسلام کی نشر و اشاعت کی ذمہ داری اپنے سر لے رکھی تھی، یہی وجہ ہے کہ اموی دورِ حکومت میں دولت اسلامیہ کی حدود میں بہت زیادہ وسعت ہوگئی اور یہ اس امر کے باوجود ہوا کہ انہیں کئی قسم کے فتنوں اور داخلی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ یہ ایسی آگ تھی جسے سرد کرنے کے لیے بھاری رقوم کی ضرورت تھی۔ عصر اموی میں عسکری اخراجات دو قسم کے تھے: فوجی اخراجات اور حربی صنعتیں۔

(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 97)

الف: فوجیوں کی تنخواہیں:

اس شعبے پر دیوان الجند کی نگرانی تھی، مصادر کا اسی بات پر اتفاق ہے کہ 20 ھ میں سب سے پہلے اس دیوان کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وضع کیا اور ترتیب دیا تھا۔

(طبقات ابن سعد: جلد 1 صفحہ 213۔ تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 143)

یہ دیوان جنگجوؤں سے ان کے کارناموں، انساب و اوصاف اور ان کے عطیات کی مقدار کے ریکارڈ کو محفوظ رکھتا،

(التراتیب الاداریۃ: کتانی: جلد 1 صفحہ 225۔ الدوادین فی العصر الاموی: صفحہ 37)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فوج کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا اور یہ اس لیے کہ ملک کی اقتصادی حالت بہت بہتر ہو گئی تھی۔ امیر المؤمنین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی سیاست کے ایک حصے کے طور پر یمنی اور قیسی قبائل کے مابین توازن برقرار رکھنے کے لیے مختلف قبائل کے احوال و ظروف کا جائزہ لیتے رہتے تھے۔ انہوں نے مصر میں سے عرب قبیلہ پر ایک ایسے شخص کا تقرر کر رکھا تھا جو ہر روز مختلف مجالس میں جا کر دریافت کرتا: کیا آج رات کسی کے گھر بچہ پیدا ہوا؟ کیا تمہارے ہاں کوئی مہمان آیا؟ اس پر اسے بتایا جاتا کہ فلاں شخص کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے اور فلاں کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے، پھر ان کے بتانے پر ان کے نام لکھ لیے جاتے، اسے کبھی یہ بھی بتایا جاتا کہ اہل یمن سے ایک شخص اپنے اہل و عیال سمیت ہمارے پاس مہمان آیا ہے، پھر جب تمام قبائل سے اس قسم کی معلومات اکٹھی کر لیتا تو دیوان جاکر رپورٹ کرتا۔

(حسن المحاضرۃ: سیوطی: جلد 1 صفحہ 65۔ الدواوین فی العصر الاموی: صفحہ 37)

فوج کا مرکزی دیوان دمشق میں تھا جبکہ مختلف صوبوں میں اس کی شاخیں بھی کام کرتی تھیں۔ جیسا کہ کوفہ، بصرہ اور فسطاط ہیں۔

(الجیش و الاسطول الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 535)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں فوجیوں کی تنخواہوں کے چند درجات تھے، جن کی تفصیل اس طرح سے ہے:

اعزازی عطیہ: 2000 درہم

عرب عطیہ: (الف): 300 درہم، (ب): 1000 درہم، (ج) 1500 درہم۔

عطیات میں موالی کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 98)

سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے عہد حکومت میں فوجیوں کی تنخواہوں کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

منطقہ مصر: اس علاقہ میں رجسٹرڈ فوجیوں کی تعداد چالیس ہزار تھی، جن میں سے چار ہزار اعزازی عطیات کے لیے رجسٹرڈ تھے۔

(دیوان الجند: سلومی: صفحہ 149۔ التطور الاقتصادی: صفحہ 99)

اسی طرح ان کے عطیات کی مقدار اسی لاکھ درہم تک جا پہنچی تھی۔ دیوان میں دوسرے رجسٹرڈ فوجیوں کی تعداد چھتیس ہزار تھی، اگر ایک فوجی کی سالانہ تنخواہ تین سو درہم بھی تسلیم کر لی جائے تو ان کی تنخواہ ایک کروڑ تیس لاکھ درہم سالانہ قرار پاتی ہے۔

(الخطط: القریزی: جلد 1 صفحہ 128)

منطقہ شام: شامی دیوان میں رجسٹرڈ فوجیوں کی کل تعداد ساٹھ ہزار تھی۔ ہر فوجی کی سالانہ تنخواہ ایک ہزار درہم تھی، اسی طرح شام میں فوجیوں کو تنخواہ کی مد میں ساٹھ لاکھ درہم ادا کیے جاتے تھے۔

(الخراج و النظم المالیۃ: ریس: صفحہ 94)

منطقہ عراق: منطقہ عراق میں بصری دیوان میں رجسٹرڈ جنگجوؤں کی تعداد اسی ہزار تک جا پہنچی تھی۔

(الحیاۃ الاقتصادیۃ فی صدر الاسلام نقلا عن التطور الاقتصادی: صفحہ 99)

جن کی تنخواہوں پر زیاد کے عہد میں تین کروڑ ساٹھ لاکھ درہم خرچ آتا تھا، اگر ہم دیوان مصر پر قیاس کرتے ہوئے دس فیصد کے تناسب سے اعزازی عطیات وضع کر لیں تو باقی دو کروڑ درہم بچتے ہیں، اس بنا پر دیوان بصرہ میں ایک فوجی کی تنخواہ دو سو اٹھتر درہم بنتی ہے، منطقہ عراق کے دیگر علاقوں کو بھی اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔

(ایضاً: صفحہ 100 )

چونکہ دیوان جند فوجیوں کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کا ذمہ دار تھا، لہٰذا دولت امویہ اسے ترقی دینے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہی۔ مثلاً:

 مدینہ منورہ کے عطیات پر مامور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا مندوب ہر شخص کو اس کا عطیہ براہ راست ادا کرتا تھا جبکہ قبل ازیں کے نظام کے تحت انہیں عرفاء (رؤسا) کے ذریعے تقسیم کیا جاتا تھا اور وہ انہیں من پسندانہ انداز میں تقسیم کیا کرتے تھے۔

(دیوان الجند: سلومی: ص: 169۔ التطور الاقتصادی: صفحہ 102)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں عراق پر ان کے والی زیاد بن ابیہ نے دیوان جند کے دفتری اخراجات میں کمی کرنے کے لیے عطیات کی تقسیم کے ذمہ دار عرفاء کی تعداد میں کمی کر دی تاکہ ہر قبیلہ کے لیے یہ ذمہ داری ایک ہی عریف (رئیس) ادا کرے۔

(الادارۃ فی العصر الاموی: صفحہ 320)

ب: حربی صنعتوں کے اخراجات: اگرچہ حربی صنعتوں پر اٹھنے والے اخراجات کے حوالے سے رقوم کی متعین تعداد ہمارے سامنے موجود نہیں ہے مگر کچھ اشارات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ اخراجات مسلسل بڑھ رہے تھے، دولت امویہ بحری اسلحہ میں اضافہ کرنے اور اسے ترقی دینے میں خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی تھی، آغاز کار میں بحری اسلامی بیڑا دو سو کشتیوں پر مشتمل تھا۔

(تاریخ الاسکندریۃ و حضارتہا فی العصر الاسلامی: صفحہ 115، 116)

جن کی تعداد سلیمان بن عبدالملک کے زمانہ حکومت میں اٹھارہ سو تک جا پہنچی تھی۔

  (التطور الاقتصادی: صفحہ 106)