ادارہ جاتی اخراجات:
علی محمد الصلابی2۔ ادارہ جاتی اخراجات:
ادارہ کے اخراجات دو قسم کے تھے: ملازموں کی تنخواہیں اور دفتری ضروریات کے اخراجات، دوسری قسم کے اخراجات بالکل معمولی تھے جو کہ روشنی کے انتظامات، کاغذات اور دیگر عام سے سامان پر اٹھتے تھے جو کہ آج کل کے دفتری اخراجات کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر تھے۔
(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 106)
لہٰذا ہم اپنی گفتگو کو ملازمین کی تنخواہوں تک محدود رکھیں گے۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ملازمین کی تنخواہیں والی صوبہ کے صوابدید پر تھیں وہ جس قدر چاہتا اپنے اور اپنے عمال کے لیے تنخواہیں مقرر کر لیتا۔ جو کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اس قسم کے اخراجات کے مقابلہ میں بہت زیادہ تھیں اور یہ لامرکزیت کا نتیجہ تھا، مثلاً سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں والیٔ عراق زیاد بن ابیہ کی ماہانہ تنخواہ پچیس ہزار درہم تھی۔
(الادارۃ فی العصر الاموی؛ صفحہ 310)
ان بھاری بھر کم تنخواہوں کے ساتھ ساتھ بعض لوگوں کے لیے اضافی مراعات بھی مختص تھیں، مثلاً زیاد اپنے ادارے کے ماتحت ایک والی کو اس کی تنخواہ کے علاوہ ایک لاکھ درہم سالانہ ادا کیا کرتا تھا۔
(ایضاً: صفحہ 200)
یہ عصر اموی کے دوران ملازمین کی تنخواہوں کے چند نمونے ہیں جن سے حکومتی ملازمین کی تنخواہوں اور ان کے دیگر وظائف کا انداہ لگایا جا سکتا ہے، اس لیے کہ اس وقت ہمارے سامنے تفصیلی معلومات موجود نہیں ہیں۔
الف: اموی دور حکومت کے پورے عرصے اور عباسی دورِ حکومت میں مامون کے عہد حکومت تک کاتبوں کی تنخواہ زیادہ سے زیادہ چھتیس صد درہم سالانہ ہوتی تھی، جبکہ اس کی کم از کم حد سات صد بیس درہم سالانہ تھی۔
(ایضاً: صفحہ 310)
ب: عصر اموی میں پولیس کے سربراہ کی زیادہ سے زیادہ تنخواہ ایک لاکھ درہم سالانہ تھی۔
(ایضاً: صفحہ 318)
ج: قاضیوں کو بیت المال سے تنخواہیں ادا کی جاتی تھیں تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔
(ایضاً: صفحہ 331)
عصر اموی میں قاضی کی کم از کم تنخواہ بارہ صد درہم سالانہ تھی۔
(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی؛ صفحہ: 107
جبکہ زیادہ سے زیادہ تنخواہ تین ہزار درہم سالانہ تک جا پہنچتی تھی۔
( فتوح مصر و اخبارہا: صفحہ 232)