Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اجتماعی ضمانت کے اخراجات

  علی محمد الصلابی

دولت امویہ میں اجتماعی ضمانت کے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا جو کہ عینی صورت میں ہوتے تھے، مثلاً وارد ہے کہ سن 45، 53ھ کے درمیانی عرصہ میں حجاز اور عراق کے صوبوں کے فقراء کو ایسے کارڈز جاری کیے جاتے تھے جن پر ان کے ہر فرد کے لیے عینی مدد کی مقدار درج ہوتی تھی۔

(الادارۃ فی العصر الاموی: صفحہ 335)

جن پر بعد ازاں حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے زمانہ میں نقدی اخراجات کا بھی اندراج کر دیا گیا، نقدی کی صورت میں تعاون کی یہ مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ ضرورت مند مقروض لوگوں کے ذمہ واجب الاداء قرضہ جات ادا کیے جاتے اور ایسے لوگوں کی شادی کے اخراجات برداشت کیے جاتے جنہیں اس کی ضرورت ہوتی مگر وہ اس کے اخراجات ادا کرنے سے قاصر ہوتے۔

(الاموال لابی عبید: صفحہ 234، 235 )

عینی اخراجات کی مثال یہ ہے کہ ہر نابینا شخص کے لیے ایک قائد اور ہر پانچ یتامٰی کے لیے ایک خادم رکھنے کا حکم جاری کیا گیا۔

(سیرۃ عمر بن عبدالعزیز لابن الجوزی: صفحہ 183)

جن کے اخراجات حکومت برداشت کرتی۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں اجتماعی کفالت کے اخراجات غیر مسلموں کو بھی ادا کیے جاتے تھے۔

(الوثائق السیاسیۃ و الاداریۃ العائدۃ للعصر الاموی: صفحہ 433) 

آگے چل کر اس نظام کو مزید وسعت دی گئی اور (120، 126 ھ) کے عرصہ کے دوران عراق میں اس کا سلسلہ سالانہ عمومی اخراجات تک بڑھا دیا گیا اور اس سلسلے میں دس ہزار درہم نوجوانوں (مرد و زن) کے گھروں کی حفاظت کرنے کے لیے مخصوص کیے گئے تھے۔

( الاحکام السلطانیۃ ماوردی: صفحہ 175، 176)