حکومت کی طرف سے زراعت کا اہتمام
علی محمد الصلابیثالثاً: حکومت کی طرف سے زراعت کا اہتمام
دولت امویہ کے آغاز کے ساتھ ہی بھاری زرعی ملکیتوں کا ظہور ہو گیا تھا جو کہ اس میدان میں خلفاء اور ولاۃ کے اترنے کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے صوافی اور زرخیز مفتوحہ اراضی کو آباد کرنے میں خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ خاص طور سے صوبہ عراق اور اس جیسے دیگر علاقہ جات میں، اس بارے میں ان کے لیے ان کے زیر ملکیت آبی گزرگاہیں بڑی مددگار ثابت ہوئیں۔ عراق کے خراج پر متعین سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے والی نے ان کے لیے زمینیں آباد کیں، اس نے ان کا پانی خشک کر کے انہیں زراعت کے قابل بنایا جن کا غلہ پانچ ملین درہم کی مالیت تک جا پہنچا۔
(فتوح البلدان: صفحہ 291۔ الخراج و النظم المالیۃ للدولۃ الاسلامیۃ: صفحہ 187)
غلہ کی اس قدر پیداوار سے ان کے رقبہ کی وسعت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان زمینوں کی آمدن کو اپنے خصوصی اخراجات میں شامل نہیں کرتے تھے بلکہ اس کے کچھ حصے کو عوام الناس کے اخراجات کے لیے بھی صرف کیا جاتا تھا۔
(الحیاۃ الاقتصادیۃ و الاجتماعیۃ: صفحہ 135)
اور نہ ہی ان کے بعد ان زمینوں کو ان کے ترکہ کے طور پر تقسیم کیا گیا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جس زمین کو حجاج بن یوسف نے بعدازاں عبدالملک کے لیے آباد کیا تھا یہ وہی زمین تھی جسے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے آباد کیا تھا اور جو زیادہ پانی کی وجہ سے غیر آباد ہو گئی تھی۔
(الخراج و النظم المالیۃ الدولۃ الاسلامیۃ: صفحہ 214)
شرعی حوالے سے غیر آباد زمینوں کو آباد کرنا جائز ہے اور یہ زمین کی ملکیت حاصل کرنے کا ایک سبب ہے۔ اور جس کا اثبات اس بارے وارد متعدد احادیث سے ہوتا ہے اور اس میں حاکم و محکوم سب برابر ہیں۔ حاکم کے بارے میں اس حوالے سے کچھ اضافی قیود ہیں، جن میں سے اہم تر یہ ہیں:
حاکم اپنی حیثیت اور اقتدار سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکتا وہ زمین کی آبادی کے عمل میں رعایا کے عام افراد کی طرح داخل ہو گا۔
زمین کو آباد کرنے کے لیے مسلمانوں کا مال خرچ نہیں کر سکتا، وہ یہ کام اپنے خاص مال سے کرے گا۔
زمین آباد کرنے کی صورت میں زمین کی ملکیت کے حصول کی وجہ سے نہ تو مسلمان افراد یا جماعت کو کوئی نقصان پہنچنا چاہیے اور نہ ذمی لوگوں کو۔
(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 178)
زمین کو آباد کرنے کی غرض سے اسے مختلف لوگوں کے حوالے کرنے کی وجہ سے بڑی بڑی زرعی ملکیتیں معرض وجود میں آئیں۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے دو نہروں کے درمیان واقع جزیرہ اپنے بعض بھائیوں کو الاٹ کر دیا جسے بعد ازاں زیاد بن ابیہ نے دو سو درہم میں خرید کر کسی اور کے نام الاٹ کر دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑا رقبہ تھا جسے آباد کرنے کے لیے زیاد نے کئی نہریں کھدوائیں۔
(ایضاً: صفحہ 174)
ایک دفعہ زیاد نے دریائے ابلہ کے کنارے پر زمین کا
ایک بہت بڑا قطعہ اراضی کسی کے نام الاٹ کیا اور پھر اسے سیراب کرنے کے لیے ایک نہر کھدوائی، اسی طرح اس نے اپنی ہر بیٹی کو ساٹھ ساٹھ جریب زمین الاٹ کی۔
(معجم البلدان: جلد 1 صفحہ 435۔ التطور الاقتصادی: صفحہ 180)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد ان زرعی ملکیتوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا، یہ زرعی زمینیں صرف اموی خاندان کے لوگوں کو ہی الاٹ نہیں کی جاتی تھیں اگرچہ غالب اکثریت انہی لوگوں کی تھی
(ارض الصوافی: مصری: صفحہ 122)
بلکہ رعایاکے عام لوگوں کو بھی یہ سہولت حاصل تھی۔ اس کی مثال یہ ہے کہ زیاد جس کسی کو زرعی زمین کا قطعہ اراضی الاٹ کرتا اسے دو سال تک اس کے پاس رہنے دیتا اس دوران اگر وہ اسے آباد کر لیتا تو ٹھیک ورنہ اس سے واپس لے کر کسی اور کو دے دیتا۔
(تطویر نظام ملکیۃ الاراضی: محمد علی: صفحہ 190، 191)
ان قطعات اراضی کی ساخت ساٹھ سے سو جریب کے درمیان تھی
(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 188)
اور ان زمینوں کے بڑے بڑے مالک یا تو اموی خاندان کے لوگ تھے یا ان کا تعلق اشراف قریش کے ساتھ تھا۔ حکومت اراضی الاٹ کرنے کے لیے ایسے مال دار لوگوں کو تلاش کرتی جو ان پر خرچ کر کے ان سے پیداوار حاصل کر سکیں، مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا بہت بڑی ملکی دولت معاشرے کے چند ہاتھوں میں آ گئی۔
(تطویر نظام ملیکۃ الاراضی: محمد علی: صفحہ 190، 191)
اموی دور حکومت میں عمومی طور سے زراعت کا انحصار نہری پانی پر تھا یہی وجہ ہے کہ زرعی پیداوار کے رئیسی مراکز عراق، مصر اور شام تھے، خصوصاً نہروں کے آس پاس کے علاقہ جات۔
(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی؛ صفحہ 188)
بنو امیہ کے دور حکومت میں زرعی ترقی میں پرائیویٹ الاٹمنٹ کا بڑا اہم کردار تھا جس سے وسیع و عریض زمینی رقبے کو قابل کاشت بنایا گیا، اسی کی مثال وہ نشیبی زمینیں ہیں جو فارسیوں کے عہد سے اموی دور حکومت کے آغاز تک پانی میں ڈوبی رہتی تھیں۔ اموی حکمرانوں نے انہیں قابل کاشت بنانے کے لیے ان کا پانی روک کر انہیں خشک کرنے کی تحریک کا آغاز کیا جس کی وجہ سے بکثرت اناج پیدا کرنے والی وسیع اور زرخیز زمینیں میسر آئیں۔
(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 190)
زرعی ملکیتوں میں اضافہ ہوا تو زرعی پیداوار میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آبپاشی کے مرکز سے بہت دور زمینیں معرض وجود میں آ گئیں اور جنہیں سیراب کرنے کے لیے ماہرانہ انداز میں متعدد بڑی اور چھوٹی نہریں کھودی گئیں جس سے زرعی پیداوار میں بے پناہ اضافہ ہو گیا،
(الادارۃ فی العصر الاموی: صفحہ 151)
مگر زرعی زمینوں کی الاٹمنٹ کا کام دولت امویہ کے مشرقی علاقہ میں ناکامی سے دوچار ہوا جس کے چند عوامل یہ تھے:
1۔ سیاسی اضطراب:
علاقہ میں سیاسی اضطراب اور امن و امان کے فقدان کا اثر زرعی پیداوار پر پڑنا یقینی تھا جس کا آغاز یزید بن معاویہ، معاویہ ثانی اور مروان بن حکم کی آمد کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔
(الادارۃ فی العصر الاموی: صفحہ 196)