معاویہ (رضی اللہ عنہ) باغی تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر جلیل القدر بدری صحابہ رضی اللہ عنہ سے جنگ کی ہے۔ (احکام القرآن)
مولانا ابوالحسن ہزارویمعاویہ (رضی اللہ عنہ) باغی تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر جلیل القدر بدری صحابہ رضی اللہ عنہ سے جنگ کی ہے۔ (احکام القرآن)
الجواب اہلسنّت
1: ہم گذشتہ الزام میں عرض کر چُکے ہیں کہ روایت میں جو فئہ باغیہ کے الفاظ آئے ہیں اس کا مطلب وہ باغی نہیں جو اصطلاح شرح میں مقرر ہے ورنہ تو باغی کے خلاف سخت احکام مقرر فرمائے ہوئے ہیں ان کو جاری نہ کرنے اور احکام شرع سے روگردانی کا الزام حیدر کرار (رضی اللہ عنہ) کی ذات پر آئے گا اور جو بالکل بعید ہے لہٰذا فئہ باغیہ کا یہاں لُغوی معنیٰ مراد ہے جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں۔
2: اہل علم نے اس کی ایک اور توجیہ بھی ذکر فرمائی ہے کہ اہل السنہ والجماعتہ کا اس بات پر اجتماع و اتفاق ہے کہ ان (صفین والوں) کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف کھڑے ہونا ان کے اجتہاد کی بنا پر تھا اور وہ ان کے حق میں معاف ہے۔
(الناجيہ عن طعن المعادیہ صفحہ 38 تحت الجواب التاسع)
معلوم ہوا کہ فئہ باغیہ کا لفظ ان کی اجتہادی غلطی پر دلالت کرتا ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابل نکلے تھے۔
3: یہ بات عجیب ہے کہ یوں کہا جائے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑے اور یہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بدری صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حالانکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی بدری صحابہ کرام شریک تھے۔ اگرچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا تقابل حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کرنا وزن کے اعتبار سے حیدر کرار رضی اللہ عنہ کے پلڑا کو بھاری کرتا ہے کہ بلاشبہ جو مرتبہ و مقام حیدر کرار رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی کو حاصل ہے وہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حاصل نہیں۔ لیکن ایک دوسری بات بھی قابل غور ہے کہ جمل میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا شریک تھیں وہ صلح کروانے اور لڑائی کی آگ کو بجھانے کے لیے ہی تشریف لائیں تھیں مگر ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ماں ہیں اور ماں کو یہ حق شریعت نے دیا ہے کہ وہ بغیر قصور کے بھی اولاد کی تادیب و تضریب کا حق حاصل ہے مگر اولاد کو یہ حق قطعاً نہیں کہ وہ قصور کی موجودگی میں بھی ماں کو اُف تک کہے۔
اگرچہ اُن نفوس قدسیہ کے درمیان میں یہ تقابلی جائزہ پیش نظر رکھنا خطرناک اور خوفناک راستہ پر چلنا ہے مگر ناچار ان لوگوں کو الزام کی حد تک یہ بات کہنے کے لیے عرض کیا جا سکتا ہے کہ محض ایک جانب نظر رکھنے کی بجائے دونوں اطراف پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ دونوں طرف عظیم المرتبت ذوات قدسیہ تھیں مگر اس حقیقت سے انکار ہرگز ممکن نہیں کہ دونوں طرف کے حضرات اپنی اپنی جگہ خلوص نیت کے ساتھ محض مسلمانوں کی خیر خواہی چاہتے تھے۔ دونوں طرف کے حضرات جنتی اور عفو الٰہی کے تمغہ سے نواز ے ہوئے لوگ ہیں البتہ اجتہاد میں راہ صواب بہرحال حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دامن میں ہے۔