مہاجرین کا بوجھ
علی محمد الصلابیدولت امویہ کو آغاز کار میں عراق آنے والے مہاجرین کا بوجھ اٹھانا پڑا، یہ لوگ بے روزگار تھے یہ لوگ سرکاری دفتر میں عطیات کے لیے رجسٹرڈ بھی نہیں تھے اور نہ ہی ان کے پاس قابل کاشت زمینیں تھیں جن میں وہ کھیتی باڑی کر کے گزر بسر کر سکیں، بجائے اس کے کہ وہ کسی دوسرے میدان عمل میں کچھ کرتے انہوں نے آب پاشی کے نظام میں دخل اندازی کرتے ہوئے اس میں شگاف ڈال دئیے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کھیتیاں غرقاب ہو گئیں۔ زیاد عراق کی ولایت سنبھالنے کے بعد تخریب کاری کی اس جیسی کارروائیوں کو بمشکل ختم کر سکا۔
(ایضاً)