دیہات سے شہروں کو ہجرت کرنے والے مزارعین اور دولت امویہ کے درمیان فوجی ٹکراؤ
علی محمد الصلابی6۔ دیہات سے شہروں کو ہجرت کرنے والے مزارعین اور دولت امویہ کے درمیان فوجی ٹکراؤ
اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب والی عراق حجاج بن یوسف نے طاقت کے بل بوتے پر انہیں ان کی اراضی میں واپس لوٹانے کی کوشش کی اور ان پر جزیہ عائد کر دیا تو وہ بنو امیہ کے باغی ابن الاشعث کے پرچم تلے جمع ہو گئے۔
(الخراج و النظم، ریس: صفحہ 219۔ الاصطلاحات الاجتماعیۃ و الاقتصادیۃ فی الدولۃ الامویۃ: صفحہ 71 )
مگر اس کے ساتھ ساتھ اس مدت کے دوران کچھ ایسے منصوبے بھی وضع کیے گئے جن کی وجہ سے علاقے میں زرعی انحطاط کی شدت میں کمی واقع ہوئی، جن میں قابل ذکر یہ ہیں:
ا: زیاد بن ابیہ نے کوفہ کو سیلابی ریلوں سے بچانے کے لیے ایک پل تعمیر کیا جس کی وجہ سے پانی میں غرقاب زمینوں کو نئے سرے سے قابل کاشت بنایا گیا، اس پل کی اہمیت کے پیش نظر اموی دورِ حکومت کے بعض امراء و ولاۃ اس کی نگہداشت کرتے رہے۔
(الادارۃ فی العصر الاموی: صفحہ 247)
ب: زرعی کارکنوں کو ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں منتقل کیے جانے کا عمل جاری کیا گیا جس کا مقصد اس علاقہ میں زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا تھا، مثلاً:
٭ زیاد بن ابیہ نے زرعی تجربہ رکھنے والے پچاس ہزار خاندانوں کو کوفہ اور بصرہ سے خراسان اس مقصد کے لیے منتقل کیا تاکہ وہ اسے آباد کر سکیں۔
(مقدمہ فی التاریخ الاقتصادی العربی للدوری: صفحہ 27)
دولت امویہ آب پاشی کے بڑے بڑے ذرائع قائم کرنے کا فریضہ سرانجام دینے سے غافل نہیں تھی اس کے لیے کنویں کھودے گئے، نہریں نکالی گئیں، سیلابی شگاف بند کیے گئے اور کئی ڈیمز تعمیر کیے گئے۔ رہے مالکان اراضی تو وہ بھی کبھی کبھار ان کاموں میں ان کے ساتھ شراکت کیا کرتے تھے۔ اندرون مملکت آب پاشی کے وسائل قائم کرنا حکمرانوں ہی کی ذمہ داری تھی
(تاریخ بلاد الشام الاقتصادی: عاطف رجال: صفحہ 135)
اور وہ اس سے عہدہ برآ بھی ہوئے۔ اموی حکمرانوں نے امکانی حد تک اراضی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے زرعی اراضی کے رقبہ میں اضافہ کیا، ان کی اصلاح کی گئی، پانی سٹور کیا گیا اور انہیں سیراب کرنے کے وسائل مہیا کیے گئے۔
(التنظیم الاقتصادی فی صدر الاسلام: صفحہ 82)
یہاں تک کہ امویوں کے صحرائی محلات بھی زرعی پیداوار بڑھانے کے مراکز تھے۔
(تاریخ بلاد الشام الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 136)
خود خلیفہ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما زراعت کو ترقی دینے اور زرعی پیداوار کا معیار بہتر بنانے میں بڑی دلچسپی لیتے تھے۔ وہ آب پاشی کے وسائل کو ترقی دیتے، زمینوں کو زرخیز بنانے پر اپنی توجہ مبذول کرتے اور اس کے لیے مقامی لوگوں میں سے تجربہ کار لوگوں کی خدمات سے فائدہ اٹھاتے۔
(النزاعات المادیۃ: حسین مروہ: جلد 1 صفحہ 476۔ تاریخ بلاد الشام الاقتصادی)
یزید بن معاویہ کو تو مہندس (انجینئر) کے لقب سے ملقب کیا گیا تھا اس لیے کہ اسے زرعی امور میں گہرا تجربہ حاصل تھا اور اسے آب پاشی کے نظام کو بہتر سے بہتر بنانے کا شوق دامن گیر رہتا۔ اس نے اپنے نام سے موسوم نہر یزید کھدوانے کا حکم دیا اور پھر اسے مزید چوڑا اور گہرا کیا جس وجہ سے اس میں پانی کی گنجائش پہلے سے کہیں بڑھ گئی اور اس طرح وہ غوطہ میں وسیع و عریض اراضی کو سیراب کرنے کے لیے کافی ہو گئی۔
(تہذیب تاریخ دمشق: جلد 1 صفحہ 445، 446)
مزید برآں اس سے مزارعین کو اپنی بعض متروکہ اراضی کی اصلاح اور ان سے فائدہ اٹھانے کا موقع میسر آیا۔
(تاریخ بلاد الشام الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 141)
بلاد شام میں زیادہ تر اراضی کو بارش کے پانی سے سیراب کیا جاتا تھا اور ان کا دار و مدار بھی اسی پانی پر تھا، مگر بہت زیادہ زمین کو نہروں اور چشموں کے پانی سے بھی سیراب کیا جاتا۔
(مفاتیح العلوم: خوارزمی: صفحہ 46۔ تاریخ بلاد الشام الاقتصادی: صفحہ 141)
جبکہ بعض اونچی زمینوں کو ایسے آلات کے ذریعے سے سیراب کیا جاتا جو نیچے بہنے والی نہروں کا پانی اٹھا کر ان زمینوں میں پھینکتے یا کنوؤں اور ٹینکیوں سے پانی اٹھا کر بالائی زمینوں میں پھینکتے اور یوں شام کے گوشے گوشے میں بہت سارے زرعی رقبے کو سیراب کیا جاتا۔
(تاریخ بلاد الشام فی العصر الاموی: صفحہ 141)
اس علاقے میں وافر مقدار میں پیدا ہونے والی اشیاء میں سے مندرجہ ذیل سرفہرست تھیں: گندم، جو، چاول، زیتون، انگور، انجیر، کھجور، کپاس، گنا، پھل اور سبزیاں وغیرہ۔
(تاریخ بلاد الشام فی العصر الاموی: صفحہ 147 تا 157)