Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اندرونی اور بیرونی تجارت

  علی محمد الصلابی

دولت امویہ ایک طرف مشرقِ اقصیٰ کے ممالک جیسے چین، ہندوستان وغیرہ اور دوسری طرف بیزنطی حکومت کے درمیان واقع تھی، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس زمانے کے پیمانوں کے مطابق اس کے ان حکومتوں کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم ہو گئے۔

(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 205) 

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے منصب خلافت سنبھالنے کے بعد ملک میں استحکام آ گیا اور گزشتہ کی طرح اندرونی تجارتی سرگرمیاں شروع ہو گئیں، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے تاجروں کو مراعات دینے اور تجارتی حجم میں اضافہ کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ اہل شام نے تجارت کے پیشہ میں نمایاں مقام حاصل کیا اور مغربی یورپ کے ساتھ تجارتی روابط استوار کر لیے، اس کے لیے انہوں نے اسلامی بحری بیڑے سے بھرپور فائدہ اٹھایا، ان ایام میں جن عوامل نے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا ان میں سرمائے کی بہتات سرفہرست ہے یہ سرمایہ حکمران طبقہ اور ان کے حاشیہ برداروں کی ملکیت تھا اور یہ وہ لوگ تھے جو کہ شان و شوکت اور آسودگی و خوشحالی کے دل دادہ تھے، لہٰذا ان میں سامان تعیش کے حصول کا رجحان اور اس کی ضرورت قدرتی امر تھا جس کی وجہ سے وہ گراں قیمت تجارتی سامان خریدنے میں دلچسپی لینے لگے، جس سے تاجر پیشہ لوگوں کی کارکردگی اور تجارت کے فروغ میں مزید اضافہ ہوا۔

(تاریخ بلاد الشام الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 168)

امویوں نے تجارت کی دنیا میں بڑا اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر اس لیے بھی کہ خلیفۃ السلام سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے والد ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا شمار قریش مکہ کے بڑے بڑے تاجروں میں ہوتا تھا، مزید براں جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خود سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں شام کے والی تھے تو وہ اپنے تجارتی قافلوں کو شام سے جزیرہ عربیہ کے پایہ تخت بھیجا کرتے تھے۔

(ایضاً: صفحہ 172)

اموی دورِ حکومت میں تاجروں کو نمایاں معاشرتی مقام و مرتبہ حاصل تھا، انہوں نے تجارتی کارکردگی کو مؤثر بنانے کے لیے کئی تجارتی کمپنیاں قائم کر رکھی تھیں جن میں وہ سرمایہ بھی لگاتے اور عملی کردار بھی ادا کرتے۔ ان میں سے کئی لوگ مضاربت کے اصول پر کاروبار کیا کرتے تھے۔

(ایضاً: صفحہ 174)

اس دور میں مضاربہ کمپنیوں نے خوب ترقی کی اور تجارتی عمل میں بڑا نمایاں کردار ادا کیا۔

(ایضاً: صفحہ 174 )

نئی کروٹ لینے والے سیاسی ظروف و حالات کی وجہ سے دار الحکومت دمشق کو اہم تجارتی حیثیت حاصل ہو گئی تھی جو کہ مشرقی تجارت کا مرکز تھا اور جہاں سے مختلف علاقوں میں تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی تھی۔

(ایضاً: صفحہ 183)

دمشق کی اسی اہمیت کی وجہ سے اس کی مارکیٹیں مختلف قسم کے تجارتی سامان سے بھری رہتیں جس میں مقامی طور پر تیار کردہ سامان بھی ہوتا اور بیرون ملک سے درآمد کردہ بھی، یاقوت حموی رقمطراز ہے: دمشق کے بازاروں میں کسی بھی طلب کردہ چیز کا غیر موجود ہونا ممکن نہیں تھا۔ یہاں تک کہ متمدن دنیا سے درآمد کردہ مہنگا ترین سامان بھی دمشق میں موجود ہوتا تھا۔

(معجم البلدان: جلد 2 صفحہ 465)

صرف اسی پر بس نہیں، دمشق اپنے جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے بادیہ نشینوں کے لیے بھی اہم تجارتی مرکز تھا جہاں خرید و فروخت کے لیے بادیہ نشین اور صحراء میں مقیم لوگوں کی آمد و رفت لگی رہتی تھی۔

(تاریخ بلاد الشام الاقتصادی: صفحہ 183 )

شام کے دیگر شہر مثلاً حلب، رصافہ، حمص، رملہ، قدس اور انطاکیہ بھی اپنی تجارتی اہمیت کی بنا پر بڑی شہرت کے حامل تھے۔

(ایضاً صفحہ 183)

یہ درست ہے کہ کوفہ، بصرہ، موصل اور نجد و حجاز کے کئی شہروں میں بھی تجارتی سرگرمیاں جاری تھیں مگر اس حوالے سے شام کے شہر بہت آگے تھے ان کی حیثیت بڑے اور اہم تجارتی مراکز کی تھی، علاوہ ازیں اس کے بعض شہروں میں جو موسمی بازار لگتے تھے ان میں بھی مختلف قسم کی تجارتی اشیاء کی بکثرت خرید و فروخت ہوتی تھی جن سے شہری اور دیہاتی لوگ برابر استفادہ کیا کرتے تھے، ان موسمی منڈیوں اور بازاروں میں بصرہ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی جو تیس سے لے کر چالیس دنوں تک قائم رہتا، اس کے ساتھ ساتھ اذرعات کی منڈی بھی بڑی اہمیت کی حامل تھی جو کہ اموی دورِ حکومت کے بعد تک بھی منعقد ہوتی رہی۔

(ایضاً: صفحہ 187)

جہاں تک سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے یزید کے ادوار حکومت میں بیرونی تجارت کا تعلق ہے تو اس دوران اسے بیزنطی حکومت کے ساتھ بہت زیادہ فروغ حاصل ہوا۔ بیرونی تجارت کے اس فروغ میں متعدد عوامل نے اہم کردار ادا کیا، مثلاً:

1۔ دولت امویہ کے مشرقی علاقے میں بکثرت اضطرابات نے اگرچہ جزوی شکل میں ہی سہی دولت امویہ اور مشرقی ممالک کے درمیان تجارتی تبادلات کے حجم کو کم کر دیا تھا جس کے نتیجے میں مغرب کی طرف واقع دولت بیزنطیہ کے ساتھ اس کے تجارتی تبادلات کے حجم میں اضافہ ہو گیا۔

2۔ دولت امویہ کے پر امن حالات نے تجارتی راس المال کو کاروباری فوائد کے لیے مشرق میں بدامنی کے علاقوں سے شام منتقل کر دیا۔

3۔ تجارت کے حوالے سے یہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر مکمل اعتماد کرتے تھے جس کی وجہ سے اس میں گرم جوشی دیکھنے میں آئی۔

اگر دولت بیزنطیہ کلی طور سے بردی اوراق پر اعتماد کرتی تھی تو دولت امویہ اندرون ملک کلی طور پر بیزنطی حکومت کی طرف سے آنے والی سونے کی کرنسی کے حجم پر اعتماد کرتی تھی۔

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد آنے والے خلفاء کے مختلف ادوار حکومت کے دوران طرفین میں تجارت کے فروغ پر دلالت کرنے والی علامات مندرجہ ذیل ہیں:

ا۔ دولت امویہ میں سونے کے بیزنطی دنانیر کی کمیت، اندرونی لین دین کی کارروائیاں انہی کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچتی ہیں۔

ب۔ مصر میں بردی اوراق کے کارخانے عبدالملک بن مروانؒ کے دور حکومت تک اس کی تیاری میں بیزنطی انداز ہی اختیار کیے رہے۔

(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 209)