شیعہ کے درج بالا عقائد کی روشنی میں ہم شیعہ سے پوچھتے ہیں…

شیعہ کے درج بالا عقائد کی روشنی میں ہم شیعہ سے پوچھتے ہیں کہ آج تمہارا امام کہاں ہے؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 2 از 3

(أصول الكافی: جلد، 1 صفحہ، 246، 247 كتاب الحجة: ح، 2 باب النهي عن الاسم وسائل الشيعة: جلد، 11 صفحہ، 260 ح، 7 باب تحريم تسمية المهدى و سائر الائمة عليهم السلام وذكرهم وقت التقية وجواز ذلك مع عدم الخوف)

کلینی نے ابو عبداللہؒ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا اس معاملے کے صاحب کو اس کے نام سے صرف کافر ہی پکارے گا۔ 

(أصول الكافی: جلد، 1 صفحہ، 247 كتاب الحجة: ح، 4 باب فی النهى عن الاسم، كمال الدين و تمام النعمة: صفحہ، 587 ح، 1 الباب، 56 النهى عن تسمية القائم )

اور جب حسن عسکریؒ سے پوچھا گیا ہم اسے کسی نام سے یاد کیا کریں؟ تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ تم یوں کہا کرو آلِ محمد صلوات اللہ علیہ وسلامہ کا حجت۔

(أصول الكافی: جلد، 1 صفحہ، 246 كتاب الحجة: ح، 1 باب النهی عن الاسم)

شیعہ کی رسوائی:

درج بالا روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام غائب کا نام اور جگہ چھپانے کا مقصد اس جھوٹے افسانے کو سو سو پردوں میں چھپانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ کیونکہ شیعہ علماء اس کو چھپانے کا حکم کیسے دے سکتے ہیں جب خود ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جس شخص کو ہم اہلِ بیت کے امام کا علم نہ ہو تو بلاشبہ وہ غیر اللہ کو جانتا ہے اور اسی کی عبادت کرتا ہے۔ اللہ کی قسم! یہ لوگ اسی طرح گمراہ ہوتے ہیں۔

(أصول لكافی: جلد، 1 صفحہ، 129 كتاب الحجة: ح، 4 باب معرفه الامام والرد اليه)

اور ان کا عقیدہ و ایمان ہے کہ جس انسان کی موت اس حالت میں آ جائے کہ وہ اپنے امام کو نہ پہچانتا ہو تو یقیناً وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔ 

(المحاسن: جلد، 1 صفحہ، 176 للبرقی)

 کمر شکن:

چونکہ شیعہ کا عقیدہ اپنے علماء کے من گھڑت جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے ؟ اسی لیے یہ بات بھول گئے کہ انہوں نے پہلے یہ حکم لگایا ہے کہ جو کوئی امام زمانہ کا نام لے گا وہ کافر ہو جائے گا۔ انہوں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاریؓ سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ‎ نے فرمایا: مہدی میری اولاد میں سے ہوگا؟ اس کا نام میرے نام پر اور اس کی کنیت میری کنیت پر ہوگی۔ (اعلام الوری: صفحہ، 413) 

جس طرح عثمان بن سعید نے امام کے روپوش ہونے کے عقیدہ کا اعلان کیا تھا اسی طرح عثمان کے بعد اس کے بیٹے ابو جعفر محمد بن عثمان (متوفی 304 ھ) نے بھی یہی دعویٰ کیا جس کی وجہ سے شیعہ متعدد فرقوں میں بٹ گئے وہ ایک دوسرے پر شدید لعن طعن کرتے تھے وہ ایک دوسرے سے براءت کا اعلان کرتے اور باہم گالی گلوچ کرتے جس کا مقصد صرف لوگوں کے مال ہڑپ کرنا تھا۔ 

(كتاب الغيبة: صفحہ، 236 فصل فی ذكر طرف من أخبار السفراء الذين كانوا فی حال الغيبة)

پھر محمد بن عثمان نے اپنے بعد ابو القاسم حسین بن روح النوبختی کو متعین کر دیا اس تقرری سے بھی شدید اختلافات پیدا ہوئے لوگوں کا مال بٹورنے والے نائین کی جنگ زور پکڑ گئی اور باہمی سب و شتم کی آندھی طوفان کی شکل اختیار کر گئی۔

(كتاب الغيبة: صفحہ، 251 (ة) ذكر اقامة ابى جعفر محمد بن عثمان بن سعيد العمري ابا القاسم الخ)

بالآخر اس جھگڑے کو ختم کرنے کیلئے ابنِ روح نے امام کے نائب کیلئے علی بن محمد السمری کے حق میں وصیت کر دی۔

(كتاب الغيبة: صفحہ، 264 ذكر أمر السمرى بعد الحسين بن روح و انقطاع الاعلام به و هم الابواب بحار الأنوار: جلد، 51 صفحہ، 107، 108 باب ما ورد من اخبار الله)

السمری اپنے اس منصب پر تین سال فائز رہا اور اسے امام کا نائب وکیل ہونے کے عہدے کی حقارت اور بدمزگی کا اندازہ ہو گیا۔ پھر جب وہ بستر مرگ پر تھا اس سے پوچھا گیا تمہارے بعد تمہارا وصی کون ہوگا؟ تو اس نے جواب دیا سارا معاملہ اللہ ہی کے سپرد ہے وہ اپنا کام خود سنبھال لے گا۔

(كمال الدين و تمام النعمة: صفحہ، 397 ح، 12 الباب، 42 ماروى فی ميلاد القائم صاحب الزمان الخ بحار الأنوار: جلد، 51 صفحہ، 361 -ذكر أمر أبی الحسن)

امام مہدی غائب کے ان چار نائبین کے دور کو غیبت صغریٰ کہا جاتا ہے۔ پھر شیعہ علماء نے عقیدہ غیبت کو مزید آگے بڑھایا تو امام کے صرف ایک نائب، جو اس سے براہِ راست ملاقات کرتا تھا، اس کی بجائے انہوں نے امام کے ساتھ براہِ راست ملاقات کے منقطع ہونے کا اعلان کر دیا اور شیعہ کے اداروں نے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا جو امام منتظر کے دستخط سے اس کی طرف منسوب کر کے ایک حکم جاری کیا کہ ہر شیعہ مجتہد امام کا نائب ہو گا اس حکم نامے میں لکھا تھا پیش آمدہ حوادثات میں ہمارے راویوں کی احادیث کی طرف رجوع کرو کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں اور میں اللہ کی حجت ہوں۔

(كتاب الغيبة: صفحہ، 197 فصل فی طهور المعجزات الدالة على صحة امامته فی زمان الغيبة الخرائج و الجرائح: جلد، 3 صفحہ، 1114 ح، 30 الباب عشرون فی علامات و مراتب نبينا و اوصيانه الاحتجاج للطبرسی: جلد، 2 صفحہ، 470 توقيعات الناحية المقدسة وسائل الشيعة: جلد، 18 صفحہ، 370 ح، 9 باب وجوب الرجوع فيه القضاء)

امام غائب نے انہیں قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کا حکم کیوں نہیں دیا؟ آخر شیعہ علماء نے یہ کام امام کے نائب السمری کی طرف کیوں منسوب کیا ہے؟

اس کا جواب امام مہدی کے ایک نائب ابوجعفر محمد بن علی الشلمغانی نے یہ دیا ہے کہ جب سے ہم ابو القاسم حسین بن روح کے ساتھ اس (نیابت) دھندے میں داخل ہوئے ہیں ہمیں پورا علم تھا کہ ہم کیا کر رہے ہیں یقینا ہم اس نیابت کے حصول کے لیے اس طرح ٹوٹ پڑتے تھے جس طرح کتے مردار کے حصول کے لیے ٹوٹ پڑتے ہیں ۔

(اللغيبة للطوسی: صفحہ، 264 بحار الأنوار: جلد، 51 صفحہ، 359 ذكر اقامة أبی جعفر محمد بن عثمان)

جی ہاں! امام کی غیوبت کا مسئلہ مذہب شیعہ کے بنیادی ارکان میں سے ہے جس نے بہت سارے شیعہ علماء کو حیران و پریشان کر دیا ہے۔ اس کی وجہ امام کے بارے میں شک اور روپوشی کی طوالت، اس کی خبروں کا انقطاع وغیرہ ہے ان اسباب کی بنا پر ان کی پریشانی کچی ہے۔ شیعہ کے عالم ابنِ بابویہ امی کہتا ہے میں نیسا پور واپس جا کر وہاں رہائش پذیر ہو گیا۔ تو میں نے نوٹ کیا کہ ہمارے پاس آنے والے اکثر شیعہ امام کی روپوشی سے سخت پریشان اور مضطرب ہیں اور امام قائم کے بارے میں شکوک وشبہات میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

صفحہ 2 از 3