Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بعض علاقوں کے خراج میں کمی و زیادتی اور شاہ خرچیاں

  علی محمد الصلابی

بعض علاقوں کے خراج میں کمی و زیادتی اور شاہ خرچیاں

ا: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو مصر رشوت کے طور پر دیا گیا: متعدد روایات میں وارد ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو مصر رشوت کے طور پر دیا گیا تھا اور یہ اس لیے کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مدد کی تھی، یہ جملہ روایات و اخبار سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ دشمنی پر مبنی ہیں اور جن میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ گویا ایک گھٹیا اور مشکوک سودے بازی کی وجہ سے وہ دونوں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف متفق تھے جس میں وہ دنیوی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے رب، دین اور تاریخ کے ساتھ خیانت اور زیادتی کے مرتکب ہوئے، گویا کہ اگر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو مصر کی گورنری نہ ملتی تو ان کے لیے اس قضیہ کے حل کے لیے اپنا تعارف پیش کرنا امر محال تھا جس کے لیے ہزاروں لوگ بیک آواز تھے اور وہ قضیہ تھا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ۔ ان میں سے بعض روایات میں ان جلیل القدر اصحاب رسولﷺ کو سب و شتم بھی کیا گیا ہے اور جن سے لگتا ہے کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اخروی اجر و ثواب پر مصر کی گورنری کو ترجیح دی اور خود انہوں نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: یہی دنیا ہمارا اصل مقصود ہے۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا نقلاً عن الکامل فی التاریخ)

انہوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تمہیں اس وقت اپنا دین نہیں دوں گا جب تک تم سے تمہاری دنیا نہ لے لوں۔

(الامامۃ و السیاسۃ: جلد 1 صفحہ 98 )

اسی طرح ان کا یہ قول: میں تم سے مصر کے بدلے اپنا دین فروخت کر رہا ہوں۔

(العقد الفرید: جلد 4 صفحہ 345)

اسی طرح ان کا سیدنا معاویہ سے یہ کہنا: اگر مصر اور اس کی ولایت نہ ہوتی، مجھے معلوم ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر ہیں اور تم باطل پر

(مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 29 )

مزید اس طرح کی اور کئی روایات۔ (وقعۃ صفین، صفحہ 237۔ یہ تمام روایات شیعہ روافض سے مروی ہیں۔)

اسی طرح مسعودی اور ابن قتیبہ کی طرف منسوب کتاب ’’الامامۃ و السیاسۃ‘‘ وغیرہ کی باطل اور موضوع روایات میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو لالچی اور دنیا پرست شخص قرار دیا گیا ہے، ان موضوع، ضعیف اور سقیم روایات سے کئی مورخین اور اہل قلم حضرات نے متاثر ہو کر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو پستی میں دھکیلنے کی کوشش کی جن میں سے محمود شیت خطاب، (سفراء النبی صلي الله عليه وسلم: صفحہ 508)

عبدالخالق سید ابو رابیہ (عمرو بن العاص: لعبد الخالق سید ابو رابیۃ: صفحہ 316)

اور عباس محمود العقاد قابل ذکر ہے۔ آخر الذکر تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی اس انداز سے تصویر کشی کرتے ہیں گویا کہ وہ دونوں بڑے موقع پرست اور مصلحتوں کا شکار تھے، اگر تمام تاریخی ناقدین عقاد کی پیش کردہ روایات کے بطلان پر اتفاق کر لیں تو انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ عقاد ان ضعیف، لالچی اور غیر معتبر روایات کو نقل کرنے کے بعد رقمطراز ہیں: تاریخی ناقدین کچھ بھی کہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ ان دونوں (معاویہ و عمرو) کا اتفاق بادشاہت اور ولایت کے حصول کے لیے تھا، اور یہ وہ سودے بازی تھی جس سے دونوں کو حصہ ملا، اور اگر یہ کچھ نہ ہوتا تو دونوں میں اتفاق نہ ہوتا۔

(عمرو بن العاص: عقاد: صفحہ 231، 232)

مگر متعدد ایسے دلائل موجود ہیں جو ان ضعیف، موضوع اور سقیم روایات کی تردید کرتے ہیں جنہیں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا چہرہ مسخ کرنے کے لیے بڑی پذیرائی حاصل ہوئی، ان دلائل میں چند درج ذیل ہیں:

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا تقویٰ و طہارت اور صحت اسلام معروف و معلوم ہے، اور قبول اسلام کے بعد خدمت اسلام کے حوالے سے دونوں کی تاریخ درخشاں و تاباں ہے۔

(الدولۃ الامویۃ: حمدی شاہین صفحہ 416)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی عظمت و رفعت کے لیے ان کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا ہی کافی ہے: ’’یا اللہ! اسے ہادی اور مہدی بنا اور اس کے ساتھ دوسروں کو ہدایت نصیب فرما۔‘‘

(صحیح سنن ترمذی: البانی: جلد 3 صفحہ 236) 

ان کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا بھی فرمائی تھی: ’’یا اللہ! معاویہ کو کتاب اور حساب سکھا اور اسے عذاب سے بچا۔‘‘

(موارد الظمان: جلد 7 صفحہ 249۔ اس کی سند حسن ہے)

جہاں تک سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں ایمان کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا تھا: ’’لوگ مسلمان ہوئے اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ایمان لائے۔‘‘

(سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: جلد 1 صفحہ 238، رقم: 155)

دوسری حدیث میں ہے: ’’العاص کے دونوں بیٹے عمرو اور ہشام مومن ہیں۔‘‘

 (الطبقات: جلد 4 صفحہ 191۔ السلسلۃ الصحیحۃ: جلد 1 صفحہ 240، رقم: 156)

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ارشاد گرامی ہے: ’’عمرو صادق ہیں: اللہ کے ہاں عمرو کے لیے خیر کثیر ہے۔‘‘

(المستدرک: جلد 3 صفحہ 455)۔ حاکم نے اسے صحیح کہا۔ ذہبیؒ فرماتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے اس کی سند حسن ہے۔

سیدنا عمرو بن العاص نے علی رضی اللہ عنہ کے عہد میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے مطالبہ پر بیعت کی تھی، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ شہادت عثمان رضی اللہ عنہ سے شدید طور پر متاثر ہوئے، جب انہوں نے خلیفہ مظلوم کی شہادت کی خبر سنی تو وہ روتے ہوئے پیدل ہی چل کھڑے ہوئے، اس وقت وہ کہہ رہے تھے: ہائے عثمان! ہم حیاء داری اور دین کو آپ کی موت کی خبر دیتے ہیں، یہاں تک وہ دمشق پہنچ گئے۔

(تاریخ طبری نقلاً عن عمرو بن العاص، غضبان: صفحہ 481)

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا شمار سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قریبی ساتھیوں، مشیروں اور دوستوں میں ہوتا تھا، وہ عہد عثمان رضی اللہ عنہ میں بدون ولایت شوریٰ کے اجلاس میں شریک ہوا کرتے تھے، ان کے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ ایک دوسرے سے تعاون کر کے قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص اور خلیفہ شہید کا انتقام لے سکیں۔

(عمرو بن العاص: غضبان: صفحہ 480، 490) 

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل ناحق سفاک مجرموں کے خلاف ان کے غیض و غضب کو تحریک دینے کے لیے کافی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم کے خلاف دلیری دکھانے والوں سے انتقام لینے کے لیے مدینہ منورہ کے علاوہ کسی اور جگہ کا انتخاب ضروری تھا۔ آخر خلیفہ مظلوم عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے غضب ناک ہونے میں انوکھے پن والی کون سی بات ہے؟ اگر اس موضوع میں کسی کو کوئی شک ہے تو اس کا دار و مدار ان جھوٹی روایات پر ہے جو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ ان کا واحد مقصد اقتدار اور حکومت کا حصول تھا۔

(عمرو بن العاص: غضبان: صفحہ 492)

اسی الزام کی تردید کہ مصر سیدنا عمر بن العاصؓ کو رشوت کے طور سے دیا گیا، ابو مخنف جو کہ گزشتہ جھوٹ کا ایک راوی ہے کی ذکر کردہ اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنا لشکر مصر بھیجنا اور اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے انصار سے چھین لینا اس امید کے پیش نظر تھا کہ اگر وہ اس پر غالب آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں پر غالب آ جائیں گے اس لیے کہ مصر سے بہت زیادہ خراج حاصل ہوتا تھا۔

(تاریخ طبری: جلد 9 صفحہ 6)

ایسے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یہ سارا خراج سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے حوالے کیسے کر سکتے تھے جبکہ خود انہیں اس کی شدید ضرورت تھی؟ یاد رہے کہ اس حملہ کے قائد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تھے۔

اس کی دوسری دلیل یہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت سنبھالنے کے بعد مصر کے خراج پر اپنے عامل وردان کو لکھا کہ ہر قبطی سے ایک قیراط مزید خراج وصول کیا جائے۔ جس کے جواب میں وردان نے لکھا کہ میں ان کے خراج میں کس طرح اضافہ کر سکتا ہوں جبکہ ان کے ساتھ کیا گیا معاہدہ اس کی اجازت نہیں دیتا۔

(فتوح البلدان: صفحہ 219)

وردان کو مصر کے خراج پر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ولایت کے ایام میں والی متعین کیا گیا تھا، اس لیے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد جو لوگ مصر کے والی مقرر ہوئے وہ تھے: عتبہ بن ابوسفیان، عقبہ بن عامر اور مسلمہ بن خالد، یہ لوگ نماز اور خراج کے والی تھے۔ یہ روایت اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مصر پر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ولایت کے دوران وہاں سے زیادہ خراج وصول کرنے کا اہتمام کیا کرتے تھے مگر اس اہتمام کا اس صورت میں ہی کوئی معنیٰ بنتا ہے کہ جب مصر کا خراج سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تک پہنچایا جائے تاکہ وہ اس کے ساتھ مختلف قسم کے اخراجات پورے کر سکیں۔

(الامویون و الفیٔ: صفحہ 67، 68)

مزید براں معاویہ رضی اللہ عنہ کسی ایک فرد کے لیے خراج مصر سے دست بردار ہونے والے نہیں تھے جبکہ انہیں بخوبی علم تھا کہ یہ ساری امت کا حق ہے اور یہ کہ وہ اس سے دست بردار ہونے کا استحقاق نہیں رکھتے۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ عطیہ بن قیس سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے یہ فرماتے سنا: تمہیں تمہارے عطیات ادا کرنے کے بعد بیت المال میں کچھ مال بچ رہا ہے جسے میں تم لوگوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہوں۔

اگر آئندہ سال بھی کچھ مال بچ رہا تو میں اسے بھی تمہارے درمیان تقسیم کر دوں گا اور اگر کچھ نہ بچا تو پھر مجھ سے ناراض نہ ہونا، یہ میرا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا مال ہے جو اس نے تمہیں عطا کیا ہے۔

(منہاج السنۃ النبویۃ: جلد 3 صفحہ 185)

مزید برآں یہ بات بھی یقینی ہے کہ اہل مصر اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتے تھے کہ مصر رشوت کے طور پر سیدنا عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہ کو دے دیا جائے جیسا کہ ان کے معاندین کا خیال ہے۔ مثال کے طور پر مصر میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جنہوں نے بھی سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی نصرت و حمایت کی تھی جیسا کہ معاویہ بن خدیج اور عثمانیہ سے ان کے دیگر اصحاب و رفقاء، یہ لوگ اس بات کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کر سکتے تھے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ان پر امتیازی مقام و مرتبہ حاصل ہو۔ ہم قبل ازیں بتا چکے ہیں کہ اس معاویہ بن خدیج نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بھانجے عبدالرحمٰن بن ام الحکم کو والی کے طور پر مصر میں داخل ہونے سے پہلے ہی اسے واپس لوٹا دیا تھا اور اپنے اوپر اس کی امارت کو مسترد کر دیا تھا اگرچہ اس نے اس کے لیے غیر مناسب انداز اختیار کیا تھا مگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اسے ناراض کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔

(الادلۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 417)

ب: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے لیے ’’دار ابجرد‘‘ کے خراج سے دست بردار ہونا:

بعض مؤرخین کا دعویٰ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے لیے ’’دار ابجرد‘‘ کے خراج سے دست بردار ہو گئے تھے اور یہ کہ اگر وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت سے دست بردار ہو جائیں تو وہ اس کے عوض انہیں کوفہ کے بیت المال سے پانچ ہزار درہم ادا کریں گے، پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے بیت المال سے تو وہ رقم وصول کر لی مگر ’’دار ابجرد‘‘ کا خراج وصول کرنے سے قاصر رہے، اس لیے کہ اہل مصر نے انہیں اس سے روک دیا تھا، ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ایسا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اکسانے پر ہوا۔ مگر یہ روایت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ دونوں کی تنقیص کا سبب بنتی اور دونوں کے بارے میں یہ تاثر دیتی ہے کہ وہ باطل طریقے سے مسلمانوں کا مال ہڑپ کرنے پر متفق تھے۔

(ایضاً: صفحہ 417۔ تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 165)

مگر یہ باطل اور غیر صحیح ہے۔ اس بارے میں صحیح اور اصل صورت حال صحیح بخاری میں دیکھی جا سکتی ہے اور وہ یہ کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن سمرۃ اور عبداللہ بن کریز پر مشتمل سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے وفد کے ارکان سے کہا: ہم عبدالمطلب کی اولاد ہیں اور ہم نے اس مال سے کچھ خرچ کیا ہے۔ اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ ان دونوں نے کہا: اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔

(بخاری رقم: 2704) 

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ان اموال کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو خود انہوں نے اور بنو عبدالمطلب سے دوسرے لوگوں نے قبل ازیں حاصل کیے تھے، وہ یہ چاہتے تھے کہ ان سے اس کی واپسی کا مطالبہ نہ کیا جائے، انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے آئندہ کے لیے کسی رقم کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الامویین: صفحہ 64)

ابن الاعثم ذکر کرتا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کے مال میں میرے ساتھ شرط لگانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔

(الفتوح: جلد 3 صفحہ 293)

یہ سبھی کے علم میں ہے کہ خراج کا حصول حکومت کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور اہل بصرہ کے مابین اس پہلو سے کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا مگر روایت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ ’’دار ابجرد‘‘ کا خراج سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو منتقل کیے جانے والے اموال میں شامل نہیں تھا۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الامویین: صفحہ 64)

مروی ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میرے ذمہ کئی قرضے واجب الادا ہیں، لہٰذا میرے لیے بیت المال سے چار لاکھ یا اس سے کچھ زائد درہم جاری کریں۔

(تاریخ الاسلام، عہد معاویۃ: صفحہ 7)

ابن عساکرؒ ذکر کرتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: انہیں بیت المال سے رقم ادا کی جائے جس سے وہ اپنے ذمہ واجب الاداء قرضہ جات ادا کر سکیں اور دیگر مالی ذمہ داریاں پوری کر سکیں، اپنے باپ کے اہل و عیال، ان کی اولاد اور اپنے اہل بیت کے اخراجات ادا کر سکیں۔

(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 90)

بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھ جنگجوؤں کو ادا کرنے کے لیے بیت المال سے پچاس لاکھ درہم وصول کیے۔ اس سے کچھ رقم ان کے اہل بیت اور دیگر اصحاب و رفقاء میں بھی تقسیم کی گئی۔

(فی التاریخ الاسلامی: شوقی ابو خلیل: صفحہ 268)

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض فوجیوں میں مال و زر کی تقسیم حالات کی سنگینی میں کمی لانے میں ممد و معان ثابت ہوتی ہے۔

مگر صحیح بخاری کی روایت کی جانب میلان زیادہ ہوتا ہے، بات صرف اتنی تھی کہ انہوں نے ان اموال کے بارے میں بازپرس نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا جو انہوں نے اپنی خلافت کے ایام میں وصول کیے تھے، جو روایات اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دس لاکھ درہم اور ان کے بھائی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بیس لاکھ درہم سالانہ ادا کریں گے اور عطیات و نوازشات میں بنو ہاشم کو بنو عبد شمس پر ترجیح دیں گے۔

(الاخبار الطوال: صفحہ 218)

اور گویا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں خلافت کو فروخت کر دیا تھا، تو یہ روایات اور جو کچھ ان کی تحلیل اور تفسیر میں کہا گیا ہے تو انہیں نہ تو قبول کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی وہ قابل اعتماد ہیں۔ اس لیے کہ ان سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو اپنے ذاتی مفادات کا احساس زیادہ اور امت کے مفادات کا احساس کم تھا۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الامویین: صفحہ 63)

جہاں تک عطیات میں ان کے حق کا تعلق ہے تو ان پر صرف سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا نہیں بلکہ سب مسلمانوں کا حق تھا، البتہ اس چیز سے کوئی امر مانع نہیں کہ ان کا حصہ دوسروں سے زیادہ ہو، مگر وہ روایات میں ذکر کردہ بھاری رقوم کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچتا تھا۔

(ایضاً: صفحہ 63)

ج: عطیات کی غیر مساوی تقسیم:

اسلام میں سب سے پہلے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیوان العطاء قائم کیا۔ جبکہ قبل ازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مسعود میں مال غنیمت کو جنگ کے فوراً بعد مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 418)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین میں حاصل ہونے والا مال غنیمت مولفۃ القلوب میں بھی تقسیم فرمایا تھا جس کی مقدار بہت زیادہ تھی۔

(الاستخراج للأحکام الخراج: ابن رجب الحنبلی: صفحہ 62)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل سے یہ قرار پایا کہ مال غنیمت کو تقسیم کرتے وقت بعض لوگوں کو ترجیح دینا امر مباح ہے اور اگر مسلمانوں کی مصلحت کا تقاضا ہو تو اسے درجہ استحباب میں بھی رکھا جا سکتا ہے۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 418)

پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں جب غزوات اسلامیہ کا دائرہ وسیع ہوا اور اس کے نتیجہ میں مال غنیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے اپنے احباب و اصحاب سے مشاورت کی جس کی روشنی میں دیوان العطاء قائم کرنے کا فیصلہ ہوا جس کی ذمہ داری عطیات کو معروف انداز میں تقسیم کرنا تھا اور جس میں سابقین اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کو دوسروں پر ترجیح دی جاتی تھی۔

(ایضاً: صفحہ 418)

پھر جب امویوں کا دور حکومت آیا تو انہوں نے اہل شام کو دوسروں پر ترجیح دی، اہل شام ان کے مخلص اعوان و انصار تھے اور انہیں ہی جہادی لشکروں میں مرکزی حیثیت حاصل تھی چاہے، وہ شمال میں رومیوں کے ساتھ ہو یا مغرب میں افریقہ اور اندلس کی فتوحات کی صورت میں یہی لوگ دولت اسلامیہ کی سلامتی کے محافظ اور اس کے مخالفین کا سر توڑنے کے ذمہ دار تھے۔ مختلف شہروں کے امراء و ولاۃ کے خلاف جب بھی کسی نے خروج کیا اور مصری لشکر اپنا اور اپنے نظام کا دفاع کرنے سے بے بس ہوئے تو انہوں نے شامی سپاہ کی مدد حاصل کی اور ان پر غلبہ حاصل کیا، ابن الاشعث (تاریخ طبری نقلاً عن الادولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 420)

کے ساتھ قتال میں بھی یہی کچھ ہوا۔ یزید بن عبدالملک کے زمانے میں (ایضاً: صفحہ 420)

یزید بن مہلب کی یورش کا مقابلہ بھی انہی لوگوں کے ساتھ کیا گیا اور ہشام کے زمانے میں افریقہ میں برابر خوارج کے انتفاضہ میں بھی یہی صورت حال دیکھنے میں آئی۔

(تاریخ طبری نقلاً عن الادولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 420)