بعض علاقوں کے خراج میں کمی و زیادتی اور شاہ خرچیاں - دفاعِ…

بعض علاقوں کے خراج میں کمی و زیادتی اور شاہ خرچیاں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

بعض علاقوں کے خراج میں کمی و زیادتی اور شاہ خرچیاں

ا: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو مصر رشوت کے طور پر دیا گیا: متعدد روایات میں وارد ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو مصر رشوت کے طور پر دیا گیا تھا اور یہ اس لیے کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مدد کی تھی، یہ جملہ روایات و اخبار سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ دشمنی پر مبنی ہیں اور جن میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ گویا ایک گھٹیا اور مشکوک سودے بازی کی وجہ سے وہ دونوں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف متفق تھے جس میں وہ دنیوی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے رب، دین اور تاریخ کے ساتھ خیانت اور زیادتی کے مرتکب ہوئے، گویا کہ اگر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو مصر کی گورنری نہ ملتی تو ان کے لیے اس قضیہ کے حل کے لیے اپنا تعارف پیش کرنا امر محال تھا جس کے لیے ہزاروں لوگ بیک آواز تھے اور وہ قضیہ تھا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ۔ ان میں سے بعض روایات میں ان جلیل القدر اصحاب رسولﷺ کو سب و شتم بھی کیا گیا ہے اور جن سے لگتا ہے کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اخروی اجر و ثواب پر مصر کی گورنری کو ترجیح دی اور خود انہوں نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: یہی دنیا ہمارا اصل مقصود ہے۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا نقلاً عن الکامل فی التاریخ)

انہوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تمہیں اس وقت اپنا دین نہیں دوں گا جب تک تم سے تمہاری دنیا نہ لے لوں۔

(الامامۃ و السیاسۃ: جلد 1 صفحہ 98 )

اسی طرح ان کا یہ قول: میں تم سے مصر کے بدلے اپنا دین فروخت کر رہا ہوں۔

(العقد الفرید: جلد 4 صفحہ 345)

اسی طرح ان کا سیدنا معاویہ سے یہ کہنا: اگر مصر اور اس کی ولایت نہ ہوتی، مجھے معلوم ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر ہیں اور تم باطل پر

(مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 29 )

مزید اس طرح کی اور کئی روایات۔ (وقعۃ صفین، صفحہ 237۔ یہ تمام روایات شیعہ روافض سے مروی ہیں۔)

اسی طرح مسعودی اور ابن قتیبہ کی طرف منسوب کتاب ’’الامامۃ و السیاسۃ‘‘ وغیرہ کی باطل اور موضوع روایات میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو لالچی اور دنیا پرست شخص قرار دیا گیا ہے، ان موضوع، ضعیف اور سقیم روایات سے کئی مورخین اور اہل قلم حضرات نے متاثر ہو کر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو پستی میں دھکیلنے کی کوشش کی جن میں سے محمود شیت خطاب، (سفراء النبی صلي الله عليه وسلم: صفحہ 508)

عبدالخالق سید ابو رابیہ (عمرو بن العاص: لعبد الخالق سید ابو رابیۃ: صفحہ 316)

اور عباس محمود العقاد قابل ذکر ہے۔ آخر الذکر تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی اس انداز سے تصویر کشی کرتے ہیں گویا کہ وہ دونوں بڑے موقع پرست اور مصلحتوں کا شکار تھے، اگر تمام تاریخی ناقدین عقاد کی پیش کردہ روایات کے بطلان پر اتفاق کر لیں تو انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ عقاد ان ضعیف، لالچی اور غیر معتبر روایات کو نقل کرنے کے بعد رقمطراز ہیں: تاریخی ناقدین کچھ بھی کہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ ان دونوں (معاویہ و عمرو) کا اتفاق بادشاہت اور ولایت کے حصول کے لیے تھا، اور یہ وہ سودے بازی تھی جس سے دونوں کو حصہ ملا، اور اگر یہ کچھ نہ ہوتا تو دونوں میں اتفاق نہ ہوتا۔

(عمرو بن العاص: عقاد: صفحہ 231، 232)

مگر متعدد ایسے دلائل موجود ہیں جو ان ضعیف، موضوع اور سقیم روایات کی تردید کرتے ہیں جنہیں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا چہرہ مسخ کرنے کے لیے بڑی پذیرائی حاصل ہوئی، ان دلائل میں چند درج ذیل ہیں:

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا تقویٰ و طہارت اور صحت اسلام معروف و معلوم ہے، اور قبول اسلام کے بعد خدمت اسلام کے حوالے سے دونوں کی تاریخ درخشاں و تاباں ہے۔

(الدولۃ الامویۃ: حمدی شاہین صفحہ 416)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی عظمت و رفعت کے لیے ان کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا ہی کافی ہے: ’’یا اللہ! اسے ہادی اور مہدی بنا اور اس کے ساتھ دوسروں کو ہدایت نصیب فرما۔‘‘

(صحیح سنن ترمذی: البانی: جلد 3 صفحہ 236) 

ان کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا بھی فرمائی تھی: ’’یا اللہ! معاویہ کو کتاب اور حساب سکھا اور اسے عذاب سے بچا۔‘‘

(موارد الظمان: جلد 7 صفحہ 249۔ اس کی سند حسن ہے)

جہاں تک سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں ایمان کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا تھا: ’’لوگ مسلمان ہوئے اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ایمان لائے۔‘‘

(سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: جلد 1 صفحہ 238، رقم: 155)

دوسری حدیث میں ہے: ’’العاص کے دونوں بیٹے عمرو اور ہشام مومن ہیں۔‘‘

 (الطبقات: جلد 4 صفحہ 191۔ السلسلۃ الصحیحۃ: جلد 1 صفحہ 240، رقم: 156)

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ارشاد گرامی ہے: ’’عمرو صادق ہیں: اللہ کے ہاں عمرو کے لیے خیر کثیر ہے۔‘‘

(المستدرک: جلد 3 صفحہ 455)۔ حاکم نے اسے صحیح کہا۔ ذہبیؒ فرماتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے اس کی سند حسن ہے۔

سیدنا عمرو بن العاص نے علی رضی اللہ عنہ کے عہد میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے مطالبہ پر بیعت کی تھی، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ شہادت عثمان رضی اللہ عنہ سے شدید طور پر متاثر ہوئے، جب انہوں نے خلیفہ مظلوم کی شہادت کی خبر سنی تو وہ روتے ہوئے پیدل ہی چل کھڑے ہوئے، اس وقت وہ کہہ رہے تھے: ہائے عثمان! ہم حیاء داری اور دین کو آپ کی موت کی خبر دیتے ہیں، یہاں تک وہ دمشق پہنچ گئے۔

(تاریخ طبری نقلاً عن عمرو بن العاص، غضبان: صفحہ 481)

صفحہ 1 از 4