Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عہد اموی کا عہد راشدہ سے تعلق

  علی محمد الصلابی

اولًا: عہد اموی کا عہد راشدہ سے تعلق

اموی دور حکومت اور خاص طور سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دورِ حکومت کئی حوالوں سے عہد خلافت راشدہ کا تسلسل تھا۔ اموی دور حکومت تک بہت سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بقید حیات تھے، اور علم، فقہ اور قضاء وغیرہ میں کبارتابعین اور بعدازاں صغار تابعین ان کے شراکت دار تھے، اسی طرح عہد خلافت راشدہ کے بعض قضاۃ عہد اموی میں بھی شعبہ قضاء سے وابستہ تھے، ان میں قاضی شریح بن حارث کا نام خاص طور سے قابل ذکر ہے۔ عہد اموی میں دینی تربیت، عقیدہ کی برتری، آثار ایمان، دین سے وابستگی اور شرعی احکام کی پاسداری باقی تھی، اس دور میں ایسے مجتہدین کی بڑی تعداد معرض وجود میں آئی جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور فقہی مذاہب کے درمیان رابطے کا کام دیتے تھے۔ اموی دور حکومت کے علماء و مجتہدین عہد عباسی میں رونما ہوئے ائمہ مذاہب کے اساتذہ تھے۔ اس بڑی پررونق فقہی تصویر کے اموی دورِ حکومت کے عدالتی نظام پر بڑے گہرے اور قابل تعریف اثرات مرتب ہوئے اور اجتہادی سرگرمیوں میں بڑی وسعت پیدا ہوئی۔

مزیدبرآں علوم اسلامیہ کی تدوین، دوسری تہذیبوں سے استفادہ کرنے اور ہمسایہ اقوام کے علوم و ثقافات کے ترجمہ کی تحریک کا آغاز ہوا۔

(ایضاً)