خلفاء کا قضاء سے الگ ہونا
علی محمد الصلابیثانیاً: خلفاء کا قضاء سے الگ ہونا
خلفائے راشدینؓ لوگوں کے تنازعات و اختلافات حل کرنے کے لیے خود فیصلے صادر فرمایا کرتے تھے اور اس بنا پر ان سے بہت سے فیصلوں کا صدور ہوا۔ مختلف شہروں کے امراء بھی خلیفہ وقت کے نائب ہونے کی حیثیت سے یہ فریضہ سرانجام دیا کرتے تھے، الا یہ کہ ان کے اختیارات کو محدود کر کے انہیں قضاء سے روک دیا جائے، اس صورت میں لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے ان کے ساتھ قاضیوں کا تقرر کر دیا جاتا، ان ولاۃ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام سرفہرست ہے جو عرصہ بیس سال تک شام کے والی رہے اس دوران وہ انتظامی اور عدالتی دونوں قسم کے امور نمٹاتے رہے۔
(تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 166)
پھر جب انہوں نے منصب خلافت سنبھال لیا تو منصب قضاء سے الگ ہو گئے اور دار الحکومت دمشق میں قاضیوں کا تقرر کر کے عدالتی اختیارات انہیں تفویض کر دئیے۔ دیگر شہروں کے ولاۃ بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عدالتی امور سے الگ ہو گئے، اموی خلفاء نے بنو امیہ کے پورے دور حکومت میں عدالتی امور کے حوالے سے یہی طریقہ اپنائے رکھا، دولت امویہ کے دار الحکومت میں بھی اور اس کے صوبوں اور اس کے شہروں میں بھی۔ اسی دوران خلفائے بنو امیہ کا تعلق تین امور کے علاوہ اسلامی قضاء سے منقطع رہا:
1۔ دار الحکومت دمشق میں قضاۃ کا براہ راست تقرر کرنا
2۔ قضاۃ کے اعمال و احکام ان کی تقرری و معزولی، مالی مراعات، حسن سیرت اور ان کے جاری کردہ عدالتی احکامات کی نگرانی کرنا، تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان کے فیصلے عدل و انصاف اور حق و صداقت پر مبنی ہوں، شرع و دین سے ہم آہنگ ہوں، اور ان میں ٹھوس عدالتی رویوں کا التزام کیا گیا ہو۔
3۔ مظالم اور احتساب کے فیصلوں پر نظر رکھنا، خلفاء بنو امیہ نے قضاء مظالم کو خاص اہمیت دے رکھی تھی اور اس کے لیے ایک کامل اور مستقل نظام وضع کیا گیا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اموی دورِ حکومت میں عدلیہ کو آزادانہ حیثیت حاصل تھی یہاں تک کہ وہ خلیفہ اور والی کے دباؤ سے بھی آزاد تھی جنہیں قاضی کی تقرری اور اس کی معزولی کا اختیار حاصل تھا، مگر ان کا قاضی کے اعمال، اس کے اجتہاد اور فیصلوں میں کوئی عمل دخل نہیں تھا جبکہ وہ قاضیوں کے صادر کردہ احکامات کو نافذ کرنے کے پابند تھے۔
(تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 67)
نباہی فرماتے ہیں: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پہلے خلیفہ تھے جنہوں نے پورے طور سے قضاء سے الگ ہو کر اسے دوسروں کے حوالے کر دیا، دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی حکومت کے مرکز میں بھی قاضیوں کا تقرر کر رکھا تھا۔
(عبقریۃ الاسلام فی اصول الحکم: صفحہ 342)