Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قاضیوں کے لیے مالی مراعات

  علی محمد الصلابی

ثالثاً: قاضیوں کے لیے مالی مراعات

یہ بات سبھی کے علم میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عدالت کو حکومت سے الگ کرنے میں پہل کی تھی اور انہوں نے ہی سب سے پہلے قاضیوں کی تنخواہیں مقرر کی تھیں۔ امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ جو کہ زہد و قناعت میں بڑی شہرت رکھتے ہیں انہوں نے قاضیوں کے بارے میں مصر پر اپنے عامل سے فرمایا: انہیں اتنی مالی مراعات دو جس سے ان کی ضروریات پوری ہو سکیں اور لوگوں کے سامنے اپنی ضروریات پیش کرنے کی ضرورت نہ رہے۔

(القضاء و نظامہ فی الکتاب و السنۃ: صفحہ 267)

یہ صورت حال عہد اموی میں بھی برقرار رہی اور قاضیوں کی تنخواہیں بیت المال سے ادا کی جاتی رہیں۔

(تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 167)

ان کی مقدار بہت زیادہ تھی، البتہ مختلف شہروں اور حالات و ظروف کے حساب سے یہ مقدار مختلف تھی۔

(ایضاً: صفحہ 176، 177)

شعبی قاضی شریح سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ماہانہ پانچ سو درہم تنخواہ وصول کرتے تھے، وہ فرمایا کرتے تھے: میں لوگوں کے لیے پورا پورا وصول کروں گا اور انہیں پورا پورا دوں گا۔ مزید فرماتے تھے: میں ان کے لیے منصب قضاء پر بیٹھتا ہوں اور ان کے لیے اپنے آپ کو پابند کرتا ہوں، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مجھے روزی نہ ملے؟ جب 72 ھ میں عبدالملک بن مروانؒ نخیلہ آیا تو اس نے قاضی شریح کے بارے میں معلوم کیا تو اسے بتایا گیا کہ وہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے عہد میں قضاء سے الگ ہو گئے تھے۔ اس نے انہیں اپنے پاس بلایا اور ان سے کہا: اللہ تمہیں توفیق عطا فرمائے، اپنے منصب پر واپس آجائیں۔ ہم نے آپ کے لیے دس ہزار درہم اور تین صد جریب کا حکم جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ پیش کش قبول کر لی اور 78 ھ تک منصب قضاء پر فائز رہے۔

(اخبار القضاۃ:  جلد 2 صفحہ 227، 397)

اس کے برعکس بعض قاضی حضرات قضاء کا کوئی معاوضہ نہیں لیتے تھے اور وہ اقامت شریعت کے لیے اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کے حصول کے خواستگار تھے۔ قاضی و مفتی مسروق بن اجدع (متوفی 63 ھ) کا شمار اسی قسم کے قاضیوں میں ہوتا ہے۔ آپ شریح سے بڑے مفتی جبکہ شریح ان سے بڑے قاضی تھے۔ مسروق کی بیوی کہتی ہیں: مسروق قضاء کی ذمہ داری ادا کرنے پر تنخواہ وصول نہیں کرتے تھے۔ قاسم فرماتے ہیں: مسروق کہا کرتے تھے: اگر میں ایک دن حق کے مطابق فیصلہ کروں تو یہ مجھے ایک سال فی سبیل اللہ دشمن کی سرحد پر موجود رہنے سے زیادہ پسند ہے۔

(طبقات ابن سعد: جلد 6 صفحہ 82۔ تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 178)